ملک بھر میں ڈاکٹروں کی دو روزہ ہڑتال آج سے شروع، او پی ڈیز اور نجی کلینک بند، ایمرجنسی کھلی رہے گی

File photo of a hospital in Quetta. This is not a photograph from the strike announcement.
پاکستان میں ڈاکٹروں کی ہڑتال آج سے ملک گیر شکل اختیار کر رہی ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) اور ڈاکٹروں کی دیگر تنظیموں کی اپیل پر یکم اور 2 نومبر کو ملک بھر میں دو روزہ ہڑتال ہو گی، جس کے دوران آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹس، نجی کلینک، معمول کے تشخیصی ٹیسٹ اور طے شدہ آپریشن بند رہنے کی توقع ہے۔ ایمرجنسی سروسز اس ہڑتال سے مستثنیٰ رکھی گئی ہیں اور سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا علاج جاری رہے گا۔
ہڑتال میں کیا کیا بند رہے گا
اعلان کے مطابق ہڑتال کا دائرہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں پر محیط ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی او پی ڈیز میں معمول کی چیک اپ، نجی کلینکوں میں مریضوں کی آمد اور لیبارٹریوں میں معمول کے ٹیسٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔ جو مریض پہلے سے طے شدہ آپریشن یا ٹیسٹ کے لیے وقت لے چکے ہیں، انہیں اپنے اسپتال یا کلینک سے پہلے رابطہ کر لینا چاہیے تاکہ انہیں خالی چکر نہ لگانا پڑے۔ البتہ حادثے، دل کے دورے یا کسی بھی جان لیوا صورتحال میں ایمرجنسی وارڈ کھلے رہیں گے۔
ڈاکٹر کس بات پر ناراض ہیں
ڈاکٹروں کا سب سے بڑا اعتراض فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی کارروائیوں پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی کلینکوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور علاج کی فیس کو دکان کی فروخت کی طرح پوائنٹ آف سیل نظام کے تحت لایا جا رہا ہے، جو ان کے نزدیک علاج کے پیشے کی توہین ہے۔ پی ایم اے سینٹر کے صدر ڈاکٹر اظہار احمد چوہدری نے کراچی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈاکٹر کے ہاتھ شفا کے لیے ہیں، انہیں ہتھکڑیاں نہیں لگنی چاہئیں، اور کلینک کو سپر مارکیٹ کا کاؤنٹر نہیں سمجھا جا سکتا۔
دوسرا بڑا مطالبہ پولیس مقدمات سے متعلق ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ علاج کے دوران کسی مریض کی موت یا پیچیدگی پر فوری طور پر قتل یا غیر ارادی قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر دیا جاتا ہے، جبکہ اس سے پہلے کسی آزاد میڈیکل بورڈ سے رائے لینا لازمی ہونا چاہیے۔ پی ایم اے سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ ہر موت ڈاکٹر کے ضمیر پر بوجھ ہوتی ہے، اور کسی پیچیدگی کو قتل قرار دینا سراسر ناانصافی ہے۔ تنظیموں نے پارلیمنٹ سے ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ فوری منظور کرنے اور اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی قانونی، ادارہ جاتی اور جسمانی حفاظت یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
یہ معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا
یہ ہڑتال اچانک نہیں ہوئی۔ تیس ستمبر کو ڈاکٹروں نے ایک روزہ ملک گیر احتجاج کیا تھا، جس میں نجی او پی ڈیز اور مشاورت بند رہی تھی۔ اس کے بعد گیارہ اکتوبر کو گجرات میں آل پاکستان ڈاکٹرز کنونشن ہوا، جس میں سینکڑوں سینئر ڈاکٹروں نے شرکت کی اور حکومت سے مطالبات پورے کرنے کا کہا۔ بلوچستان میں پی ایم اے نے پہلے ہی یکم نومبر سے صوبہ گیر ہڑتال کا اعلان کر رکھا تھا، اور اب مرکزی قیادت نے اسے ملک گیر دو روزہ ہڑتال میں بدل دیا ہے۔ پی ایم اے پنجاب نے بھی اپنے ارکان کو یکم اور 2 نومبر کو کلینک اور اسپتال بند رکھنے کا سرکلر جاری کیا ہے، جبکہ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سندھ نے تمام ڈاکٹروں سے اتحاد کی اپیل کی ہے۔
مریضوں کے لیے کیا کرنا چاہیے
عام مریضوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، لیکن احتیاط ضروری ہے۔ اگر آپ کا معاملہ معمول کا چیک اپ، رپورٹ یا طے شدہ ٹیسٹ ہے تو پہلے فون پر تصدیق کر لیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں براہ راست اسپتال جائیں، کیونکہ ایمرجنسی، انتہائی نگہداشت اور دیگر نازک سروسز جاری رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے اس اعلان پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ڈاکٹر تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ کا لائحہ عمل 28 نومبر کو پی ایم اے سینٹرل کونسل کے اجلاس میں طے ہو گا۔



