لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے 24 اسپتالوں کے لیے سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے خلاف درخواست مسترد کر دی

File photo of the Lahore High Court building.
لاہور: لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب کے 24 ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتالوں کے لیے سی ٹی اسکین مشینوں کی خریداری کے خلاف دائر آئینی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد محکمہ صحت و آبادی کا یہ منصوبہ آگے بڑھنے کی راہ پر ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار پنجاب پروکیورمنٹ رولز 2014 کی خلاف ورزی ثابت نہیں کر سکا، اور یہ خریداری غلط طریقے سے کی گئی خریداری کے زمرے میں بھی نہیں آتی۔
درخواست کس نے دائر کی تھی
یہ آئینی درخواست، نمبر 66022 بابت 2026، ایسٹرن میڈیکل ٹیکنالوجی سروسز کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ اس میں محکمہ صحت کے اس اقدام کو چیلنج کیا گیا تھا جس کے تحت صوبے کے 24 ضلعی اسپتالوں میں اپنے سی ٹی اسکین یونٹ قائم کیے جانے ہیں۔ دوسری جانب ورٹیکس میڈیکل اس خریداری میں سب سے کم بولی دینے والی کامیاب کمپنی قرار پائی، جو سیمنز کی تیار کردہ مشینیں فراہم کرے گی۔ عدالت میں کمپنی کی نمائندگی ایڈووکیٹ محمد ذیشان اختر نے کی۔
مریضوں کو کیا فائدہ ہو گا
محکمہ صحت کے مطابق اس منصوبے کا مقصد سرکاری اسپتالوں کی اپنی تشخیصی صلاحیت مضبوط کرنا ہے، تاکہ مریضوں کو سی ٹی اسکین کے لیے باہر کے مراکز پر انحصار نہ کرنا پڑے۔ سیکریٹری صحت و آبادی نادیہ ثاقب نے اس اقدام کی قیادت کی ہے، اور محکمے کا موقف ہے کہ اسپتال کے اندر ہی یہ سہولت ملنے سے مریضوں کا وقت بھی بچے گا اور علاج کا سلسلہ بھی رکنے نہیں پائے گا۔
منصوبے پر پہلے بھی سوالات اٹھے تھے
یہ منصوبہ پہلے بھی بحث سے خالی نہیں رہا۔ اس سے پہلے کی رپورٹنگ کے مطابق یہ 32 سلائس مشینوں کا تقریباً ایک ارب 83 کروڑ روپے کا منصوبہ ہے، اور منصوبہ بندی و ترقیات بورڈ نے یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ جن اسپتالوں میں کارڈیالوجی اور کارڈیک سرجری کے یونٹ بن رہے ہیں، وہاں مشینوں کی صلاحیت دل کے مریضوں کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ بورڈ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان اسپتالوں میں پہلے سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت اسکین کی سہولت موجود ہے۔ عدالت کے تازہ فیصلے کے بعد اب یہ قانونی رکاوٹ دور ہو گئی ہے، مگر ان عملی سوالات کا جواب خریداری اور تنصیب کے مراحل میں ہی سامنے آئے گا۔



