ہفتہ, 31 اکتوبر 2026
ہفتہ, 31 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
صحت

ملک بھر میں انفلوئنزا ویکسین نایاب، لاہور میں جعلی ویکسین کا بڑا ذخیرہ پکڑا گیا

News Cuff

سردیوں کی آمد سے پہلے ہی ملک بھر میں موسمی انفلوئنزا کی ویکسین میڈیکل اسٹورز سے تقریباً غائب ہو گئی ہے۔ شہری فارمیسیوں کے چکر لگا رہے ہیں، مگر بڑی کمپنیوں کی ویکسین کہیں دستیاب نہیں۔ اس قلت نے ایک اور خطرناک مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے — بازار میں جعلی ویکسین کی فروخت۔
لاہور میں چھاپہ، جعلی انفلوویک پکڑا گیا
لاہور میں ڈرگ انسپکٹرز نے ایک اطلاع پر چھاپہ مار کر مشتبہ جعلی ویکسین کا بڑا ذخیرہ برآمد کر لیا۔ حکام کے مطابق پکڑی گئی ویکسین معروف کمپنی ایبٹ کی انفلوویک کی نقل تھی۔ کارروائی کے دوران دو افراد کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا، اور ان کے خلاف ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت مقدمہ درج کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ برآمد شدہ ویکسین کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں تاکہ ان کی اصلیت کی تصدیق ہو سکے۔ حکام نے ملزمان کے نام اور چھاپے کی درست جگہ ظاہر نہیں کی۔
بڑی کمپنیوں کی ویکسین کیوں نہیں مل رہی؟
چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب کے دفتر کے حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر بڑی کمپنی کی فلو ویکسین بازار سے غائب ہے۔ ایبٹ کی ویکسین شاید اس سال آئے ہی نہیں، جب کہ سینوفی کی محدود مقدار نومبر کے آخر یا دسمبر میں آنے کی امید ہے۔ چینی کمپنیوں سینوویک اور شینزین انوویکس کی ویکسین بھی ختم ہو چکی ہے، کیونکہ ان کا محدود اسٹاک پہلے ہی فروخت ہو گیا تھا۔ ایک وجہ قیمت کا تنازع بھی بتایا جا رہا ہے — ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی تجویز کردہ قیمت کی وفاقی کابینہ سے ابھی منظوری نہیں ملی، اور معاملہ متعلقہ کمیٹی کے پاس ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایت
ڈرگ حکام نے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ویکسین صرف لائسنس یافتہ فارمیسی سے خریدیں، بیچ نمبر اور کمپنی کی مہر چیک کریں، اور یہ بھی یقینی بنائیں کہ ویکسین کولڈ چین میں رکھی گئی ہو۔ غیر مصدقہ بیچنے والوں سے ویکسین لینا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ غلط طریقے سے رکھی گئی یا جعلی ویکسین نہ صرف بے اثر ہوتی ہے بلکہ نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔
یہ قلت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سردیوں سے پہلے فلو کے کیسز بڑھنے لگتے ہیں، اور بزرگوں، چھوٹے بچوں، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ویکسین کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کراچی کے اسپتالوں میں فلو جیسی علامات کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے، اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال میں رواں سال انفلوئنزا کے 400 کیس ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویکسین کی فراہمی بحال ہونے تک شہری احتیاط کریں اور کسی بھی مشکوک ویکسین کی اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے