جمعہ, 30 اکتوبر 2026
جمعہ, 30 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
مذہب

ایران عراق سرحدی گزرگاہ الشیب کی بندش، پاکستان نے زائرین کے قافلے روک دیے

News Cuff

Pilgrims inside the courtyard of the Imam Husayn Shrine in Karbala, Iraq, shown in a file photograph.

اسلام آباد: وزارت مذہبی امور نے زیارت گروپ آرگنائزرز کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ ایران عراق سرحدی گزرگاہ الشیب کی بندش کے دوران عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے قافلے روانہ نہ کیے جائیں۔ وزارت کے مطابق گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کی باضابطہ تصدیق یا عراقی حکام کی جانب سے کسی متبادل زمینی راستے کی باقاعدہ اجازت تک یہ پابندی برقرار رہے گی۔

گزرگاہ 21 اکتوبر سے بند ہے
عراق نے گزشتہ ہفتے الشیب گزرگاہ کو سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینے اور ممنوعہ اشیا کی اسمگلنگ روکنے کے لیے جدید آلات نصب کرنے کی غرض سے بند کیا تھا۔ تب سے یہ گزرگاہ مسافروں، گاڑیوں اور تجارتی ٹرکوں کے لیے مکمل طور پر بند ہے۔ وزارت نے یاد دلایا ہے کہ ایران کے راستے عراق جانے والے پاکستانی زائرین کے لیے الشیب ہی واحد مجاز زمینی گزرگاہ ہے، اس لیے عراقی حکام کی اجازت کے بغیر کوئی دوسرا زمینی راستہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

ہوائی راستہ ہی واحد متبادل
وزارت کے ترجمان کے مطابق اس وقت زائرین بغداد اور نجف کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے ذریعے عراق میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایران میں موجود پاکستانی زائرین کو بھی یہی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہوائی سفر کو ترجیح دیں۔ تمام رجسٹرڈ آرگنائزرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زائرین کو فوری طور پر اس بندش سے آگاہ کریں اور روانگی سے پہلے سفر کے تازہ ترین انتظامات کی تصدیق کریں، تاکہ مسافر راستے میں پھنسنے یا دیگر مشکلات سے بچ سکیں۔

گزشتہ ہفتے کی ہدایات بھی برقرار
یاد رہے کہ وزارت نے گزشتہ ہفتے بھی زائرین کے سفر کے لیے نئی ہدایات جاری کی تھیں، جن میں فلائٹ کنکشن کی تصدیق، منسوخی کی صورت میں متبادل انتظامات، ہنگامی صورتحال کے لیے مناسب رقم اور متبادل رہائش کا بندوبست شامل تھا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ تمام احتیاطی تدابیر زائرین کی سلامتی اور سہولت کے لیے ہیں۔ ہر سال ہزاروں پاکستانی زائرین ایران اور عراق کے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں، اور الشیب گزرگاہ ان کے زمینی سفر کا اہم ترین راستہ رہی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے