خاران میں ڈرون حملہ ناکام، سیکیورٹی فورسز نے چیک پوسٹ پر آنے والے پانچ ڈرون مار گرائے

File photo: Kharan Fort, Kharan district, Balochistan.
بلوچستان کے ضلع خاران میں سیکیورٹی فورسز نے ڈرونز کے ذریعے چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ضلع خاران کے علاقے البت میں قائم چیک پوسٹ کو پانچ ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام ڈرونز کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا۔ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور کسی املاک کو بھی نقصان نہیں پہنچا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کی کوشش فتنہ الہندوستان سے منسلک عناصر کی جانب سے کی گئی، جسے پاکستان بھارت کا پراکسی گروہ قرار دیتا ہے۔ 24 نیوز کے مطابق حملے میں کم درجے کے ایف پی وی ڈرونز استعمال کیے گئے، یعنی ایسے ڈرون جو کیمرے کی براہ راست تصویر کے ذریعے اڑائے جاتے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ڈرونز کو چیک پوسٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی گرا دیا گیا، جس سے ممکنہ نقصان ٹل گیا۔
ڈرون حملوں کا نیا انداز
یہ واقعہ اکیلا نہیں۔ گزشتہ ماہ بھی پاکستان نے افغان سرحد سے فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ڈرونز کو مار گرایا تھا، جس کا حوالہ جیو نیوز کی رپورٹ میں بھی دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرحد پار دہشت گردی کے واقعات میں 2021 کے بعد نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اب کم لاگت والے ڈرون اس خطرے کی ایک نئی شکل بنتے جا رہے ہیں۔ خاران کا واقعہ اسی بدلتے ہوئے خطرے کی تازہ مثال ہے، جہاں ایک دور دراز چیک پوسٹ کو فضا سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
کارروائی کا پس منظر
جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے فروری 2026 میں آپریشن غضب للحق شروع کیا تھا، جو اکتوبر 2025 میں سرحدی جھڑپوں کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے چند ماہ بعد سامنے آیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اسی عزم کے تحت جاری رہیں گی، اور غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ خاران میں پانچوں ڈرونز کی تباہی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں فوری ردعمل نے ایک ممکنہ حملے کو ابتدا ہی میں روک دیا۔


