خواجہ آصف کا فضل الرحمان کو جواب: تہران مذاکرات میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا

Photo: Parliament House, Islamabad (file photo).
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران مذاکرات میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھا، اس لیے ان کی وہاں موجودگی ضروری نہیں تھی۔ یہ جواب جمعرات کو اس وقت آیا جب ایک روز قبل مولانا فضل الرحمان نے ایوان میں سوال اٹھایا تھا کہ ایران میں دفاعی معاہدے پر بات ہو رہی ہے تو وزیر دفاع اسلام آباد میں کیوں بیٹھے ہیں۔
تہران اجلاس کیا تھا؟
خواجہ آصف نے ایوان کو بتایا کہ 26 اکتوبر کو تہران میں ہونے والے اجلاس میں کوئی وزیر دفاع شریک نہیں ہوا تھا، کیونکہ وہاں دفاعی معاہدے پر بات ہی نہیں ہو رہی تھی۔ ان کے بقول یہ اجلاس علاقائی امن اور کشیدگی کم کرنے کے لیے تھا، اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس میں امن کے پیغامبر کا کردار ادا کیا۔ اجلاس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، وزیر داخلہ محسن نقوی اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن بھی شریک تھے، جبکہ ایرانی حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
فضل الرحمان پر جوابی تنقید
وزیر دفاع نے اپنی تقریر میں مولانا فضل الرحمان کے سیاسی ماضی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ وہ مختلف حکومتوں میں بااثر عہدوں پر رہے ہیں اور قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر بھی تقریباً ایک دہائی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہب کو سیاسی اور مالی فائدے کے لیے استعمال کرنے کا الزام درست نہیں ٹھہرتا، اور تنقید حقائق کے برعکس کی گئی۔ اس دوران جے یو آئی (ف) کی رکن عالیہ کامران نے کورم کی کمی کی نشاندہی کی، جس پر گنتی کے دوران تحریک انصاف اور جے یو آئی (ف) کے ارکان ایوان سے باہر چلے گئے، تاہم ڈپٹی اسپیکر سید غلام مرتضیٰ شاہ نے کورم مکمل قرار دے کر خواجہ آصف کو تقریر جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
محسن نقوی کا سینیٹ میں جواب
دوسری طرف وزیر داخلہ محسن نقوی نے سینیٹ میں کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بدھ کے روز ریاست کے بارے میں دیے گئے بیان کے بعد ان کے دل میں ان کے لیے جو احترام تھا وہ ختم ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر جاری بحران کے حوالے سے تہران گئے تھے، نہ کہ کسی دفاعی معاہدے پر بات کرنے۔ سینیٹ میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ سے ان کی تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جے یو آئی (ف) نے حکومتی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت فوج پر انحصار کر رہی ہے۔
تحریک انصاف کی فضل الرحمان سے یکجہتی
اسی دوران تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سابق اسپیکر اسد قیصر کی قیادت میں ایک وفد نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور اپوزیشن رہنماؤں پر ذاتی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ وفد کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں میں بدلنا درست نہیں، اور خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ سمیت حالیہ پیش رفت پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔


