وزیر اعظم کی لاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولت اولین ترجیح قرار

لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈے اب بڑے ہونے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں ائیرپورٹس کی توسیع اور مسافروں کی سہولتوں سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ لاہور اور جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی کی ماسٹر پلانز کے تحت توسیع کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں کیا طے ہوا
وزیر اعظم نے واضح کیا کہ تعمیراتی کام بین الاقوامی معیار کے مطابق ہو اور مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ائیرپورٹس کی بہتری کے لیے کی جانے والی اصلاحات کی آزادانہ تھرڈ پارٹی توثیق کرائی جائے، تاکہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ اجلاس میں ایک بین الاقوامی فرم کے حالیہ سروے کے نتائج کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں ملک کے بڑے ائیرپورٹس پر مسافروں کی سہولتوں کا معیار جانچا گیا تھا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کے تمام ائیرپورٹس پر مسافروں کی سہولت سب سے پہلے ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بین الاقوامی شہرت کی حامل تنظیموں کی خدمات لینے، مسافروں کی مدد پر مامور افسران و عملے کی باقاعدہ تربیت، اور ائیرپورٹس پر کام کرنے والے مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی ہدایت کی۔ کھانے پینے کے معیار پر بھی انہوں نے دو ٹوک موقف اپنایا: ائیرپورٹس پر معیاری کیٹرنگ کمپنیوں کی خدمات لی جائیں گی اور کھانے کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
کراچی رن وے مکمل، کارگو ویلج کی تیاری
اجلاس کو بتایا گیا کہ جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی کے رن وے کی توسیع مکمل ہو چکی ہے۔ کراچی کو فضائی کارگو کا بڑا مرکز بنانے کے لیے ایئر کارگو ویلج پر بھی کام جاری ہے، جس سے تجارت اور مال برداری کی سہولتوں میں بہتری کی امید ہے۔ بڑے ائیرپورٹس پر خودکار بارڈر مینجمنٹ سسٹم، یعنی ای گیٹس، کی تنصیب بھی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔
ملک بھر کے ائیرپورٹس پر کام
سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اجلاس کو ملک بھر میں جاری ترقیاتی کاموں سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران 14 ائیرپورٹس کو ملکی پروازوں کی بحالی کے لیے فعال کیا گیا ہے۔ اسلام آباد ائیرپورٹ پر مسافروں کے لیے میٹ اینڈ گریٹ سروس شروع کر دی گئی ہے، جبکہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بڑے ائیرپورٹس پر روانگی سے پہلے رہنمائی کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیے ہیں۔ حیدرآباد میں ایوی ایشن کے ادارے کو بین الاقوامی معیار کی ایوی ایشن یونیورسٹی میں تبدیل کرنے کا کام بھی فروری 2028 تک شروع ہونے کی توقع ہے۔



