حج و عمرہ زائرین کی میننجائٹس ویکسین دگنی قیمت پر فروخت، وزارتِ صحت کا انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان

اسلام آباد — حج و عمرہ پر جانے والے زائرین کو دی جانے والی میننجائٹس ویکسین کی مقررہ قیمت سے تقریباً دگنی قیمت پر فروخت کا انکشاف ہوا ہے، جس پر وزارتِ قومی صحت نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
کمیٹی کا سربراہ ایڈیشنل سیکرٹری صحت ہوں گے، جبکہ ان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر، ڈائریکٹر جنرل (صحت) اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کو سات روز میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے اس ویکسین کی قیمت 1356 روپے فی خوراک مقرر کی تھی، لیکن وزارتِ مذہبی امور کو یہی ویکسین 2555 روپے فی خوراک فراہم کی گئی — یعنی مقررہ قیمت سے 1199 روپے، تقریباً 88 فیصد زیادہ۔
انکوائری کا دائرہ 2022 سے 2026 تک
کمیٹی 2022 سے 2026 تک وزارتِ مذہبی امور کو فراہم کی گئی ویکسین کی خریداری اور قیمتوں کا پورا ریکارڈ چیک کرے گی۔ یہ بھی جانچا جائے گا کہ کیا کمپنیوں نے ڈریپ کی مقررہ قیمت سے زیادہ رقم وصول کی، اور اس اضافے کی کوئی قانونی یا حقیقی وجہ تھی یا نہیں۔
ایف آئی اے پہلے ہی حرکت میں
یہ تحقیقات ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) عمرہ زائرین کی ویکسین کی خریداری میں مبینہ بے ضابطگیوں پر پہلے ہی بارڈر ہیلتھ سروسز کے تین اہلکاروں کو گرفتار کر چکی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ انکوائری میں ڈریپ کے کردار اور متعلقہ حکام کی ناکامی کا بھی تعین کیا جائے گا۔
صحت کے ماہرین کے مطابق میننجائٹس کی ویکسین حج و عمرہ پر جانے والوں کے لیے لازمی ہے، اور اس کی قیمت میں اضافہ براہِ راست غریب زائرین کی جیب پر پڑتا ہے۔ رپورٹ 29 اکتوبر تک پیش کی جانی ہے، جس کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ہوگا۔



