تھرپارکر میں ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم 10 افراد جاں بحق

Nagarparkar town in Tharparkar district, where the ambulance fire happened on Wednesday night. File photograph — not the incident scene.
مٹھی — سندھ کے ضلع تھرپارکر میں بدھ کی رات ایک ایمبولینس کے اندر آکسیجن سلنڈر پھٹ گیا، جس سے کم از کم 10 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ واقعہ نگرپارکر تحصیل کے گاؤں ڈانو ڈھنڈھل میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو (پی پی ایچ آئی) کے زیر انتظام بنیادی صحت مرکز میں پیش آیا، جہاں عملہ ایک مریضہ کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کر رہا تھا۔ دھماکے کے بعد ایمبولینس میں آگ بھڑک اٹھی اور گاڑی مکمل طور پر جل گئی۔
رات دس بج کر چالیس منٹ پر کیا ہوا
ریسکیو 1122 کے مطابق واقعہ رات تقریباً 10 بج کر 40 منٹ پر ہوا۔ عملہ ایمبولینس کے اندر آکسیجن سلنڈر لگا رہا تھا کہ وہ پھٹ گیا۔ جس خاتون کو منتقل کیا جا رہا تھا، انہوں نے اسی مرکز میں بیٹے کو جنم دیا تھا اور آپریشن کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدگیوں کے باعث انہیں مٹھی کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال لے جایا جا رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں 7 افراد کی ہلاکت اور 5 کے زخمی ہونے کی خبر آئی، مگر جمعرات کے دوران زخمیوں کے دم توڑنے سے تعداد پہلے 9 اور پھر کم از کم 10 تک پہنچ گئی۔
جاں بحق ہونے والوں میں ایمبولینس کے ڈرائیور اسحاق تھیبو، پی پی ایچ آئی کے ڈسپنسر، ایک چوکیدار اور مرکز کا ایک اور ملازم شامل ہیں۔ ریسکیو حکام نے ابتدائی طور پر جسونت اور پانڈھی راجڑ کے نام بھی بتائے، مگر کئی لاشیں اس قدر جھلس گئی تھیں کہ ان کی شناخت فوری طور پر ممکن نہیں ہو سکی۔ زخمیوں میں دو دائیاں اور مرکز کی ایک خاتون معاون بھی شامل ہیں، جنہیں پہلے مٹھی منتقل کیا گیا اور بعض کو بعد میں کراچی لے جایا گیا۔
حکام کا ردعمل
صدر آصف علی زرداری نے واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اس کی فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے، اور کہا ہے کہ آئندہ ایسے حادثات روکنے کے لیے حفاظتی اقدامات مضبوط کیے جائیں۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے متاثرہ خاندانوں کے لیے 20 لاکھ روپے فی خاندان معاوضے کا اعلان کیا، زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں دینے کی ہدایت کی اور شفاف انکوائری کا حکم دیا۔ پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی قاسم سومرو کو امدادی کاموں کی نگرانی کے لیے نگرپارکر بھیجا گیا ہے، جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے بھی واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے حقائق سامنے لانے کے لیے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سوال جو اب بھی باقی ہے
صوبائی وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار نے تھرپارکر کے ایس ایس پی اور ڈپٹی کمشنر سے تفصیلات طلب کر لی ہیں، اور شواہد کے معائنے کے لیے میرپورخاص اور کراچی سے ماہر ٹیمیں بلائی گئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ دیگر پہلوؤں سے بھی تفتیش کر رہی ہے۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ تھرپارکر میں پی پی ایچ آئی کے اسپتالوں میں سہولتوں کی کمی نے اس سانحے میں کردار ادا کیا — یہ الزام ابھی ثابت نہیں ہوا، مگر تحقیقات کا ایک اہم سوال ضرور بن گیا ہے کہ دیہی مراکز میں آکسیجن جیسے حساس آلات کو سنبھالنے کے انتظامات کتنے محفوظ ہیں۔ اگست میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں نرسری میں لگنے والی آگ میں 14 نوزائیدہ بچے جاں بحق ہوئے تھے، جس کے بعد اسپتالوں کی حفاظت پر سوالات پہلے ہی اٹھ رہے تھے۔



