اتوار, 1 نومبر 2026
اتوار, 1 نومبر 2026|
تازہ ترین
مضامین

پاکستان نے جی 24 کی چیئرمین شپ سنبھال لی، اورنگزیب نے تین ترجیحات بتا دیں

News Cuff

فائل فوٹو: واشنگٹن میں عالمی مالیاتی فنڈ کا صدر دفتر — جی 24 انہی عالمی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کا مشترکہ موقف مرتب کرتا ہے

اسلام آباد — پاکستان نے اتوار کو ترقی پذیر ممالک کے اہم گروپ، جی 24 کی چیئرمین شپ باقاعدہ سنبھال لی۔ یہ ذمہ داری نائیجیریا سے منتقل ہوئی ہے، جس کا اعلان گزشتہ ماہ بنکاک میں گروپ کے وزارتی اجلاس میں ہوا تھا۔ اس وقت وزیر خزانہ محمد اورنگزیب گروپ کے پہلے نائب چیئرمین تھے، اور اب وہی اس کی قیادت کریں گے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری بیان میں اورنگزیب نے اس عہدے کو "گہری ذمہ داری” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر معیشتوں کا مستقبل عالمی معیشت کے مستقبل سے الگ نہیں، بلکہ اس کا مرکز ہے۔ ان کے بقول، یہ ممالک سرمایہ کاری، جدت اور روزگار کے ذریعے عالمی ترقی کو آگے بڑھا سکتے ہیں — بشرطیکہ عالمی مالیاتی نظام ان کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔

تین ترجیحات کیا ہیں؟

پہلی ترجیح یہ ہے کہ ترقی کو عالمی معاشی پالیسی کے مرکز میں رکھا جائے۔ اورنگزیب کا موقف ہے کہ معاشی استحکام منزل نہیں، بنیاد ہے — ایسی بنیاد جس پر سرمایہ کاری، پیداوار اور روزگار کھڑا ہو، تاکہ ترقی پذیر اور کم آمدنی والے ممالک بحرانوں سے نمٹنے سے آگے بڑھ کر پائیدار ترقی کی طرف جائیں۔

دوسری ترجیح عالمی اداروں کو زیادہ جامع اور نمائندہ بنانا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک جیسے بریٹن ووڈز اداروں کی حکمرانی زیادہ منصفانہ ہو، فیصلوں میں ترقی پذیر ممالک کی شرکت بامعنی ہو، اور یہ ادارے اپنے ارکان کی بدلتی ہوئی ضروریات کے لیے زیادہ حساس ہوں۔

تیسری ترجیح ایک ایسا مالیاتی نظام ہے جو ترقی کی خدمت کرے — بروقت اور سستی ترقیاتی مالی اعانت، قرضوں کا پائیدار حل، مضبوط عالمی مالیاتی حفاظتی نیٹ، موسمیاتی لچک، اور سرکاری و نجی سرمائے کو متحرک کرنا۔

یہ گروپ ہے کیا؟

جی 24 سن 1971 میں قائم ہوا تھا۔ یہ ترقی پذیر ممالک کا وہ فورم ہے جہاں وہ عالمی مالیاتی اور اقتصادی معاملات پر اپنا مشترکہ موقف طے کرتے ہیں، خاص طور پر آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے حوالے سے۔ اس کے ارکان افریقہ، ایشیا، لاطینی امریکہ اور کیریبین سے ہیں، اور اس کا طریقہ کار مشاورت، اتفاق رائے اور مشترکہ وکالت ہے۔

اصل امتحان کہاں ہوگا؟

وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین شپ کو عالمی اقتصادی منظرنامے پر پاکستان کے مؤثر کردار کے اعتراف کا "اہم سفارتی سنگ میل” قرار دیا اور اورنگزیب اور وزارت خزانہ کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ یہ کرسی کوئی قرض دینے والی نشست نہیں۔ جی 24 نہ قرض دیتا ہے، نہ کوٹے طے کرتا ہے۔ اس کی اصل آزمائش آئندہ موسم بہار کے اجلاسوں اور کوٹہ جائزے میں ہوگی، جہاں اس کے اعلامیوں کو الفاظ سے آگے بڑھ کر اثر دکھانا ہوگا۔

اور یہ آزمائش صرف واشنگٹن میں نہیں، اسلام آباد میں بھی ہے۔ اسی دن ڈان کی خبر کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جولائی تا اکتوبر میں 4.089 ٹریلین روپے جمع کیے، جو 4.185 ٹریلین کے ہدف سے 96 ارب روپے کم ہے۔ یہی فرق بتاتا ہے کہ سستی ترقیاتی مالی اعانت پاکستان کے لیے نعرہ نہیں، ضرورت ہے۔

اورنگزیب نے خود اس پیمانے کو تسلیم کیا ہے۔ ان کے الفاظ میں، "ہماری اجتماعی قیادت کا اصل پیمانہ صرف ہماری آواز کی طاقت نہیں ہوگا، بلکہ وہ فرق ہوگا جو یہ آواز پیدا کرے۔” اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ آواز کتنی دور تک جاتی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے