پی آئی اے کے بیڑے میں پہلا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شامل، اسلام آباد پہنچ گیا

فائل فوٹو: بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر (پی آئی اے کا اسلام آباد پہنچنے والا طیارہ نہیں)
اسلام آباد: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے بیڑے میں اتوار کی صبح پہلا بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر شامل ہو گیا۔ لندن ہیتھرو سے آنے والی پرواز پی کے 786 اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتری، جہاں ایئرلائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئر وائس مارشل عامر حیات اور ان کی ٹیم نے طیارے کا استقبال کیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی پاکستانی ایئرلائن کے بیڑے میں بوئنگ 787 شامل ہوا ہے، اس لیے اس آمد کو قومی ایئرلائن کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
لیز پر لیا گیا طیارہ، خریدا ہوا نہیں
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق یہ طیارہ نارویجین ایئرلائن نورس اٹلانٹک ایئرویز سے لیز پر لیا گیا ہے۔ اکتوبر میں ہونے والے معاہدے کے تحت دو بوئنگ 787-9 طیارے پی آئی اے کو ملیں گے، جن میں سے پہلا اب پاکستان پہنچ چکا ہے اور دوسرا بھی جلد بیڑے کا حصہ بنے گا۔ یہ معاہدہ اے سی ایم آئی طرز کا ہے، یعنی طیارے کے ساتھ عملہ، دیکھ بھال اور انشورنس بھی لیز دینے والی کمپنی فراہم کرے گی۔
لندن کی روزانہ پروازیں بھی بحال
اس آمد کا ایک عملی فائدہ مسافروں کو براہ راست ملے گا۔ پی آئی اے کی لندن ہیتھرو کے لیے اسلام آباد اور لاہور سے روزانہ پروازیں بحال ہو رہی ہیں۔ ایئرلائن نے مارچ میں چھ سال کے وقفے کے بعد لندن کی پروازیں دوبارہ شروع کی تھیں، اور اب نئے طیارے سے اس روٹ پر گنجائش بڑھے گی۔ پی آئی اے نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ قدم تبدیلی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل ہے اور مسافروں کو نئے بیڑے کے ساتھ زیادہ آرام دہ سفر ملے گا۔
طیارہ کیسا ہے؟
بوئنگ 787-9 ایک لمبی دوری کا جڑواں انجن والا وسیع طیارہ ہے، جو ایندھن کی بچت اور مسافروں کی سہولت کے لیے جانا جاتا ہے۔ بوئنگ کے مطابق اس ماڈل میں 250 سے 325 مسافروں کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ 15,370 کلومیٹر تک پرواز کر سکتا ہے۔ طیارے میں جدید انٹرٹینمنٹ سسٹم اور کشادہ کیبن کی سہولت موجود ہے۔
دوسری طرف، وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے واضح کیا ہے کہ نجکاری کے عمل سے گزرنے والی پی آئی اے کے نئے طیاروں کی مالی معاونت کے لیے کسی سرکاری قرض یا خودمختار ضمانت کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یعنی یہ توسیع لیز کے ماڈل پر ہو رہی ہے، براہ راست خریداری پر نہیں۔



