اتوار, 1 نومبر 2026
اتوار, 1 نومبر 2026|
تازہ ترین
تفریح

سیالکوٹ بھگدڑ: ہلاکتیں دو ہو گئیں، ٹک ٹاکر سمیت 9 نامزد، 6 گرفتار

News Cuff

اقبال اسکوائر، سیالکوٹ میں کلاک ٹاور (فائل فوٹو)۔

سیالکوٹ: ٹک ٹاکر کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ سے ہلاکتوں کی تعداد دو ہو گئی ہے، جبکہ پولیس نے واقعے میں ملوث 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ سیالکوٹ پولیس نے اتوار کو بتایا کہ بھگدڑ میں 18 افراد زخمی ہوئے تھے، جن میں سے ایک اور زخمی سرکاری اسپتال میں دم توڑ گیا۔ اس طرح جمعے کی رات فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آنے والے واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد دو تک پہنچ گئی ہے۔

ٹک ٹاکر نامزد، موقع سے فرار

پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ، جنہیں سوشل میڈیا پر "مسٹر پٹلو” کے نام سے جانا جاتا ہے، مقدمے میں نامزد ہیں اور واقعے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گئے تھے۔ پولیس کی تفتیشی اور چھاپہ مار ٹیمیں انہیں گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کر رہی ہیں۔ ڈسٹرکٹ پولیس افسر دوست محمد نے تصدیق کی ہے کہ تقریب کے انتظامات سے وابستہ 6 افراد گرفتار کر لیے گئے ہیں، جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے جدید ٹیکنالوجی، انسانی ذرائع اور روایتی پولیس طریقوں سے ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

50 موٹر سائیکلیں اور ایک گاڑی قبضے میں

پولیس نے قرعہ اندازی کے لیے رکھی گئی 50 موٹر سائیکلیں اور ایک گاڑی بھی اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ ڈی پی او کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ منتظمین نے سوشل میڈیا پر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور قیمتی انعامات کی قرعہ اندازی کا اشتہار دے کر بڑی تعداد میں لوگوں کو مدعو کیا تھا۔ تقریب کے دوران لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کیا گیا کہ تمام شرکا ایک ساتھ گراؤنڈ میں داخل ہوں، اور اسی بیک وقت داخلے نے شدید بھگدڑ کو جنم دیا۔

این او سی منسوخ، مقدمہ درج

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ٹک ٹاکر کو ڈسکہ میں ایک نجی تقریب کے اندر محفل سماع کے لیے این او سی جاری کیا گیا تھا، جس میں پروگرام جمعے کی رات نماز عشا کے بعد شروع ہونا تھا۔ تاہم شام 4 بجے سے ہی انتظامات میں بے ضابطگیوں کی اطلاعات ملنے لگیں، جس پر ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے فوری کارروائی کرتے ہوئے این او سی منسوخ کر دیا۔ موترہ تھانے میں انسپکٹر مبین احمد کی مدعیت میں 31 اکتوبر کو درج مقدمے میں ٹک ٹاکر، ان کے بھائی، فراز کرکٹ گراؤنڈ کے مالک اور چھ دیگر منتظمین سمیت 9 افراد نامزد ہیں، جبکہ 40 سے 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔ مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 322، 188، 148، 149، 431، 440 اور 109 جبکہ مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 16 شامل کی گئی ہے۔

ڈی پی او کا دو ٹوک موقف

ڈی پی او دوست محمد نے کہا ہے کہ منتظمین نے اجازت نامے کی شرائط اور حفاظتی ضوابط کی خلاف ورزی کی، جس سے ڈسکہ سیالکوٹ روڈ پر ٹریفک کا بہاؤ بھی متاثر ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی عوامی اجتماع میں حفاظتی انتظامات میں غفلت، جس سے انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو، برداشت نہیں کی جا سکتی، اور ذمہ دار تمام افراد کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یاد رہے کہ جمعے کی رات کے واقعے میں ابتدا میں 30 سالہ محمد عقیل اسپتال منتقل کیے جاتے ہوئے جاں بحق ہوئے تھے، جبکہ زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال پہنچایا گیا تھا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے