طورخم پر پھر فائرنگ: افغان چوکی کی کوشش پر جھڑپ، مہاجرین کی واپسی رک گئی

File photo: the Torkham border crossing — not a picture of today's firing.
طورخم کے قریب اتوار کی دوپہر پھر گولیاں چل گئیں، اور اس بار بھی وجہ وہی پرانی ہے — سرحد کے قریب ایک چوکی۔ مقامی ذرائع کے مطابق افغان فورسز نے جنگل کے نام سے جانے جانے والے مقام پر ایک سیکیورٹی پوسٹ قائم کرنے کی کوشش کی، پاکستانی فورسز نے اس کی مخالفت کی، اور پھر دونوں جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ یہ جھڑپ ہفتے کے دوران طورخم پر تیسری جھڑپ بتائی جا رہی ہے۔
فائرنگ کی خبر کے ساتھ ہی سرحدی گزرگاہ کا روزمرہ کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امدادی تنظیموں کے عملے نے علاقہ چھوڑ دیا، اور پاکستان سے واپس بھیجے جانے والے مہاجرین کا کیمپ بھی خالی کرا لیا گیا۔ طورخم سے افغان مہاجرین کی واپسی، جو اس گزرگاہ کا سب سے بڑا انسانی کام ہے، رک گئی۔ اشاعت کے وقت تک نہ پاکستان کی جانب سے اور نہ ہی افغان طالبان کی جانب سے اس واقعے پر کوئی سرکاری بیان سامنے آیا تھا، اور آج کی جھڑپ میں کسی جانی نقصان کی مصدقہ اطلاع بھی نہیں ملی۔
پس منظر
طورخم پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمد و رفت کا سب سے بڑا راستہ ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ اوچا کے مطابق جنوری سے اکتوبر کے اوائل تک چھ لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین اسی گزرگاہ سے واپس گئے، جو پاکستان سے واپسی کا تقریباً 85 فیصد بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کی ہر جھڑپ صرف فوجی خبر نہیں رہتی — وہ ہزاروں خاندانوں کی واپسی بھی روک دیتی ہے۔
یہ تناؤ اچانک نہیں ابھرا۔ 11 اکتوبر سے شروع ہونے والی لڑائی کے بعد طورخم دو ہفتے سے زیادہ بند رہا تھا، پھر مہاجرین کی واپسی اور تجارت کے لیے کھولا گیا۔ 28 اکتوبر کو بھی یہاں فائرنگ ہوئی تھی، جس پر اوچا نے شہریوں اور امدادی کارکنوں کو لاحق خطرے پر خبردار کیا تھا۔ اتوار کی جھڑپ کے بعد اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ گزرگاہ پھر بند ہو گی، یا دونوں جانب سے رابطے سے معاملہ سنبھل جائے گا — اور اس کا جواب آنے والے گھنٹوں میں ہی ملے گا۔
