پیر, 2 نومبر 2026
پیر, 2 نومبر 2026|
تازہ ترین
صحت

لاہور کی فضا خطرناک حد تک آلودہ، ایئر کوالٹی انڈیکس 530 سے تجاوز کر گیا

News Cuff

File photo: Badshahi Mosque seen through haze from Lahore Fort (Wikimedia Commons, CC BY-SA 4.0). The photo shows Lahore in hazy conditions; it is not today's AQI reading.

لاہور میں پیر کی صبح ہوا کا معیار ایک بار پھر خطرناک درجے تک پہنچ گیا۔ ایئر کوالٹی انڈیکس 530 سے اوپر چلا گیا، اور شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں سب سے اوپر آ گیا۔ گلیوں میں دھند جیسی دھواں بھری فضا تھی، اور جن علاقوں میں پیمائش زیادہ آئی، وہاں سانس لینا بھی دشوار محسوس ہو رہا تھا۔

صبح آٹھ بجے کی پیمائش
بین الاقوامی مانیٹرنگ پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کے مطابق صبح آٹھ بجے لاہور کا انڈیکس 535 ریکارڈ ہوا۔ اس وقت ہوا میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار 343 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تھی۔ یہ وہ ذرات ہیں جو پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچ کر خون میں شامل ہو سکتے ہیں، اسی لیے ماہرین انہیں سب سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں۔ صبح نو سے دس بجے کے درمیان عالمی درجہ بندی میں لاہور پہلے نمبر پر تھا، جبکہ دوسرے نمبر پر قاہرہ کا انڈیکس صرف 226 تھا۔

پنجاب کے دیگر شہر بھی لپیٹ میں
یہ صورتحال صرف لاہور تک محدود نہیں رہی۔ آئی کیو ایئر کی پیر کی صبح کی درجہ بندی میں پاکستان کے چھ آلودہ ترین شہروں میں سے پانچ کا تعلق پنجاب سے تھا۔ گوجرانوالہ 606 کے ساتھ سب سے اوپر تھا، اس کے بعد لاہور 509، فیصل آباد اور ملتان 310، 310، اور سیالکوٹ 260 پر تھے، جبکہ پشاور 216 کے ساتھ چھٹے نمبر پر تھا۔ دن چڑھنے کے ساتھ یہ اعداد بدلتے رہے — بعد کی اپ ڈیٹس میں گوجرانوالہ 675 اور لاہور 535 تک پہنچ گیا۔ شہر کے اندر بھی فرق بہت زیادہ تھا: خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اقبال ٹاؤن میں انڈیکس 902، پیراگون سٹی میں 698، چمن پارک میں 619 اور برکی روڈ پر 569 ریکارڈ ہوا، جبکہ ماڈل ٹاؤن میں 471، ڈی ایچ اے فیز 5 میں 412، بیدیاں روڈ پر 358 اور عسکری ٹین میں 298 تھا۔

آگ کیوں لگی ہوئی ہے؟
اس بگڑتی ہوئی فضا کے پیچھے کھیتوں میں لگائی جانے والی آگ کا بڑا ہاتھ ہے۔ ماحولیاتی مانیٹرنگ ویب سائٹ ہماری ہوا کے ناسا سیٹلائٹ ڈیٹا کے تجزیے کے مطابق یکم سے 29 اکتوبر کے درمیان پاکستانی پنجاب میں آگ کے 13,241 مقامات نظر آئے، جبکہ بھارتی پنجاب میں یہ تعداد 3,158 تھی — یعنی چار گنا سے زیادہ۔ ان میں سے تقریباً 92 فیصد آگ کھیتوں میں تھی، جو غالباً فصل کی باقیات جلانے سے لگی۔ صرف اکتوبر کے آخری سات دنوں میں 6,655 مقامات سامنے آئے، اور 29 اکتوبر کو ایک ہی دن میں 1,327۔ سب سے زیادہ آگ اوکاڑہ میں 2,144، پھر گوجرانوالہ میں 1,011 اور ننکانہ صاحب میں 1,003 مقامات پر دیکھی گئی۔ اس دھوئیں کے ساتھ گاڑیوں، کارخانوں اور دیگر ذرائع کا دھواں بھی ملتا ہے، اور کمزور ہوائیں اور فضائی الٹاؤ اسے زمین کے قریب ہی روکے رکھتا ہے۔

اکتوبر کی بہتری پر سوال
دلچسپ بات یہ ہے کہ اکتوبر کے بارے میں حکومت اور آزاد تجزیے کی رائے ایک جیسی نہیں۔ پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کے ڈان کو دیے گئے اعداد کے مطابق اکتوبر 2026 میں لاہور کا اوسط امریکی اے کیو آئی 180.5 رہا، جو 2025 میں 204.6، 2024 میں 213 اور 2022 اور 2023 میں تقریباً 193 سے 195 تھا — اور پانچ سال میں یہ پہلا اکتوبر تھا جس میں انڈیکس 300 سے اوپر نہیں گیا، سب سے زیادہ 262، 31 اکتوبر کو۔ مگر پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو کے تجزیے کے مطابق اکتوبر میں پی ایم 2.5 اوسطاً 27 فیصد کم ضرور ہوا، مگر موسمی حالات کو نکال دیں تو اصل بہتری صرف چار فیصد رہ جاتی ہے — رات کو فضا کی گہرائی زیادہ ہونے سے آلودگی پھیلنے کو زیادہ جگہ ملی۔ اور اکتوبر کے ہر دن پی ایم 2.5 پاکستان کی مقررہ روزانہ حد سے اوپر رہا۔ اس ادارے کی یکم نومبر کی پیش گوئی کے مطابق بدھ 4 نومبر تک پی ایم 2.5 بڑھ کر 149 مائیکرو گرام فی مکعب میٹر تک جا سکتا ہے، جو اکتوبر کی اوسط سے تقریباً 49 فیصد زیادہ ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق خشک موسم برقرار رہے گا اور بارش کا کوئی امکان نہیں، یعنی قدرتی طور پر فضا صاف ہونے کی امید بھی کم ہے۔ اکتوبر میں انتظامیہ نے دھواں چھوڑنے والی 1,763 گاڑیوں پر 55 لاکھ روپے جرمانہ کیا تھا، 739 گاڑیاں بند کی تھیں اور لاہور ڈویژن میں 2,018 صنعتی یونٹوں کی جانچ کے بعد 41 کارخانے اور 146 ریسٹورنٹ سیل کیے تھے — مگر نومبر کی پہلی ہی صبح نے بتا دیا کہ یہ مسئلہ ابھی ختم نہیں ہوا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے