پیر, 2 نومبر 2026
پیر, 2 نومبر 2026|
تازہ ترین
صحت

اب گھر بیٹھے ماہر ڈاکٹر: صحت کہانی کے ساتھ ٹیلی میڈیسن کا دوسرا مرحلہ شروع، مزید 10 مراکز بنیں گے

News Cuff

File photo: Wikimedia Commons / Ceibos (CC BY-SA 4.0) — a teleconsultation, not from today's signing.

اسلام آباد میں پیر کو ایک ایسے معاہدے پر دستخط ہوئے جس کا فائدہ سیدھا عام مریض کو پہنچے گا۔ وزارت صحت اور ڈیجیٹل ہیلتھ پلیٹ فارم صحت کہانی نے ٹیلی میڈیسن کے دوسرے مرحلے کا معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت ملک میں مزید دس ٹیلی میڈیسن مراکز قائم کیے جائیں گے۔

پہلا مرحلہ مکمل، دوسرا شروع
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور صحت کہانی کے حکام نے اسلام آباد میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔ وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے آج ایک اور سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے مرحلے میں صحت کہانی کے تعاون سے دس ٹیلی میڈیسن مراکز قائم ہو چکے ہیں، اور اب دوسرے مرحلے میں مزید دس مراکز کھولے جائیں گے۔ نئے مراکز کہاں بنیں گے اور کب کھلیں گے، اس کا اعلان ابھی نہیں ہوا۔

پمز بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنے گا
معاہدے کی ایک اہم شق پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے متعلق ہے۔ پمز کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) اور ٹراما سینٹر کو بھی ٹیلی میڈیسن نیٹ ورک سے جوڑا جا رہا ہے۔ مطلب یہ کہ بڑے اسپتال کی سہولت اب صرف اس کی عمارت تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ دور دراز کے مراکز سے بھی اس سے رابطہ ممکن ہو سکے گا۔

یہ منصوبہ کہاں سے شروع ہوا تھا
یہ سلسلہ جنوری 2026 میں اسلام آباد کے گوکینہ سے شروع ہوا تھا، جب پہلا ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹر کھولا گیا۔ اس کے بعد کراچی اور بھمبر تارڑ سمیت دیگر مقامات پر مراکز بنے، اور جولائی تک ان مراکز سے ساڑھے چودہ ہزار سے زیادہ افراد مشاورت اور علاج حاصل کر چکے تھے۔ وزارت کا صحت کہانی کے ساتھ معاہدہ پانچ ہزار آن لائن ڈاکٹروں کی دور دراز مشاورت کا احاطہ کرتا ہے۔ مقصد سیدھا سا ہے: جو مریض بڑے شہر کے اسپتال تک نہیں پہنچ سکتا، ماہر ڈاکٹر اس تک پہنچ جائے۔ وزیر صحت نے کہا کہ عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے