پیر, 2 نومبر 2026
پیر, 2 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

افغان مذاکرات میں امریکی سہولت کاری کا پاکستان نے خیرمقدم کر دیا

News Cuff

طورخم سرحدی گزرگاہ (فائل فوٹو)

اسلام آباد نے افغان مذاکرات کے لیے امریکی سہولت کاری کا دروازہ کھول دیا ہے، مگر ایک واضح شرط کے ساتھ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے اتوار کو کہا کہ پاکستان امریکہ سمیت دوست ممالک کی مخلصانہ کوششوں کا خیرمقدم کرے گا، بشرطیکہ کابل پہلے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس، مسلسل اور قابل تصدیق کارروائی کا واضح عزم ظاہر کرے۔ یہ بیان اس وقت آیا ہے جب سرحد پر کشیدگی بدستور برقرار ہے اور دونوں جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

شرط کیا ہے؟

ترجمان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور دیگر گروہوں کا نام لیا جو پاکستان کے بقول افغان سرزمین سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بامعنی مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کابل ان گروہوں کے خلاف عملی اور قابل تصدیق اقدامات کا وعدہ نہ کرے۔ "پاکستان تعمیری روابط کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اس سے ہماری جائز سیکیورٹی خدشات کا ٹھوس حل نکلے،” ترجمان نے کہا۔

روبیو نے کیا کہا تھا؟

اس بیان سے ایک روز پہلے، ہفتے کو اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس کے موقع پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد اور کابل کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں "ثمر آور کردار” ادا کرنے کو تیار ہے۔ روبیو نے کہا کہ امریکہ نے سرحد پار حملوں کے بارے میں پاکستان کے تحفظات سن لیے ہیں اور وہ نہیں چاہتا کہ پاکستان دہشت گردی کا نشانہ بنے، چاہے وہ کہیں سے بھی آئے اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔

کابل کا جواب

کابل نے پاکستان کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔ افغان حکام کا موقف ہے کہ افغانستان میں کوئی مسلح گروہ موجود نہیں اور افغان سرزمین کسی بھی ملک، خاص طور پر ہمسایہ ممالک، کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر دونوں فریقوں کے درمیان سب سے بڑا اختلاف ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد "قابل تصدیق اقدام” کی شرط پر زور دے رہا ہے۔

پس منظر

وزارت اطلاعات نے ہفتے کو کہا تھا کہ سرحد پار دہشت گردی کو حل کیے بغیر کابل کے ساتھ معمول کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے مطابق گزشتہ تین برس میں افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں تقریباً 4,700 پاکستانی جان سے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی تک مذاکرات کی کوئی تاریخ، جگہ یا فارمیٹ طے نہیں ہوا ہے، اور نہ واشنگٹن نے کوئی باضابطہ ثالثی منصوبہ، ایلچی یا ٹائم ٹیبل اعلان کیا ہے — یہ صرف ایک پیشکش کا خیرمقدم ہے، جس کی شرطیں اب کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے