پیر, 2 نومبر 2026
پیر, 2 نومبر 2026|
تازہ ترین
کاروبار

پٹرول کی قیمتوں کا نیا فارمولا نافذ، ریفائنریز کا اضافی منافع واپس لے کر صارفین کو ریلیف دیا جائے گا

News Cuff

تصویر: پٹرول پمپ کی فائل فوٹو — Wikimedia Commons

اسلام آباد — وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار بدل دیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو موٹر اسپرٹ یعنی پٹرول کے نئے قیمتوں کے فارمولے کی منظوری دی، جس کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نے اوگرا اور آئل ریفائنریز کو الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کر دیے۔ یہ نیا نظام 2 نومبر سے نافذ ہے اور ابتدائی طور پر 30 دن تک جاری رہے گا۔

نئے فارمولے کے تحت درآمدی پٹرول کی قیمت اب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت پر طے ہوگی۔ اگر کسی دن کسی کارگو کی اصل لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، متفرق اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی کو بنیاد بنایا جا سکے گا۔

ریفائنریز کے لیے 30 دن کی عارضی ترتیب یہ ہے کہ ان کی ایکس ریفائنری قیمت میں پریمیم، متفرق اخراجات اور کسٹم ڈیوٹی 7 مارچ 2026 کی سطح پر منجمد رہیں گے — یعنی ایران امریکہ جنگ سے پہلے کی سطح پر۔ اس سے زیادہ رقم ریفائنریز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی۔

اوگرا کے خط کے مطابق ریفائنریز کو درآمدی قیمت اور مقررہ ایکس ریفائنری قیمت کے درمیان 49.02 روپے فی لیٹر کا فرق پیٹرولیم لیوی کے اکاؤنٹ میں جمع کرانا ہوگا۔ یہ رقم ملک بھر کے حجم کے حساب سے پیٹرولیم لیوی میں فی لیٹر 14.71 روپے کے برابر بنتی ہے۔ یوں 80 روپے فی لیٹر لیوی میں سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں سے 65.29 روپے وصول کیے جائیں گے، اور بچت صارفین تک پٹرول کی قیمت میں کمی کی صورت میں پہنچے گی۔ پیٹرولیم لیوی کی شرح 80 روپے فی لیٹر برقرار ہے، یہ الگ سے تبدیل نہیں ہوئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ 30 اکتوبر کو اعلان کردہ قیمتیں اسی نئے فارمولے کے تحت طے ہوئیں، جس سے قیمتوں میں بڑے اضافے سے بچا گیا۔ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ 12 سے 13 ملین سے زائد مستحق افراد کو جنگ سے پہلے کی قیمتوں پر سبسڈی والا پٹرول دیا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے کا نظام یہ تھا کہ اوگرا مقامی طور پر تیار کردہ پٹرول کی قیمت بھی درآمدی قیمت کے برابر لگاتا تھا۔ یوں کراچی یا راولپنڈی میں خام تیل سے بننے والا پٹرول بھی اسی مہنگے پریمیم پر بکتا تھا جو خلیج سے آنے والے جہاز پر لاگو ہوتا تھا۔ جنگ کے دوران پی ایس او پریمیم 30 اکتوبر تک 25.52 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا، اور مقامی ریفائنریز کو بغیر کسی اضافی لاگت کے یہی اونچی قیمت مل رہی تھی — یہی وہ اضافی منافع ہے جو نیا فارمولا واپس لے رہا ہے۔

ریفائنریز نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اٹک ریفائنری کے چیف ایگزیکٹو عادل خٹک نے حکومت کو لکھا ہے کہ جنگ سے پہلے کے پریمیم اور اخراجات شامل کرنے سے ریفائنریز کو تقریباً 35 روپے فی لیٹر کا نقصان ہوگا، جبکہ کسٹم ڈیوٹی کی وصولی سے 14 روپے فی لیٹر کی منتقلی کے بعد مجموعی اثر تقریباً 49 روپے فی لیٹر بنتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ براؤن فیلڈ ریفائنریز اپ گریڈیشن پالیسی کو نقصان پہنچاتا ہے، جس کے تحت چار ریفائنریز نے 24 ستمبر 2026 کو اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کیے تھے اور پارکو بھی جلد شامل ہونے والا تھا — مجموعی سرمایہ کاری کا تخمینہ 5 سے 6 ارب ڈالر ہے۔

یہ نیا فارمولا صرف پٹرول پر لاگو ہوگا؛ ڈیزل اور دیگر مصنوعات کے قیمتوں کے پیرامیٹرز میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ 30 دن بعد حکومت اس کے مالی اثرات کا جائزہ لے کر فیصلہ کرے گی کہ اسے بڑھایا جائے یا نہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے