نومبر کے لیے ایل پی جی مہنگی: گھریلو سلنڈر 3470 روپے کا ہو گیا، بازار میں قیمت سرکاری نرخ سے دوگنی

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر کے لیے ایل پی جی قیمت میں 14 روپے 73 پیسے فی کلو کا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں گھریلو سلنڈر کی قیمت 3470 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ نئے نرخ آج یکم نومبر سے نافذ ہو گئے ہیں، اور ان کا براہ راست بوجھ ان لاکھوں گھرانوں پر پڑے گا جو کھانا پکانے کے لیے سلنڈر پر انحصار کرتے ہیں۔
اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق
ہفتے کو جاری ہونے والے نوٹیفکیشن میں ایل پی جی کا نیا نرخ 294 روپے 7 پیسے فی کلو مقرر کیا گیا ہے، جبکہ فی ٹن قیمت 2 لاکھ 94 ہزار 75 روپے ہو گئی ہے۔ اکتوبر میں یہی نرخ 2 لاکھ 79 ہزار 341 روپے فی ٹن تھا۔ اس حساب سے 11.8 کلو کے گھریلو سلنڈر کی قیمت 173 روپے 86 پیسے بڑھ کر 3296 روپے سے 3470 روپے 9 پیسے ہو گئی ہے۔
اوگرا نے اضافے کی وجہ سعودی آرامکو کے کنٹریکٹ پرائس میں 6.47 فیصد اضافہ بتائی ہے، جبکہ ڈالر کی اوسط قدر میں 0.12 فیصد کمی نے اس بوجھ کو معمولی سا کم کیا۔ یعنی عالمی منڈی کی مہنگائی ہی اس بار بھی گھریلو چولہے تک پہنچی ہے۔
سرکاری نرخ اور بازار کی قیمت میں زمین آسمان کا فرق
اصل پریشانی صرف نوٹیفکیشن کی حد تک نہیں۔ ڈان کی خبر کے مطابق کھلے بازار میں ایل پی جی 630 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہی ہے، جو سرکاری نرخ سے دوگنی سے بھی زیادہ ہے، جبکہ کمپنیوں کی فرنچائزز بھی 400 روپے فی کلو تک وصول کر رہی ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران جنگ کے باعث گیس کی قلت نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے، اور اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو یہ بحران آنے والے ہفتوں میں اور گہرا ہو سکتا ہے۔
16 نومبر سے ہڑتال کی دھمکی
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے خبردار کیا ہے کہ اگر نئی ایل پی جی پالیسی میں نجی شعبے کو نظرانداز کیا گیا تو مارکیٹنگ کمپنیاں 16 نومبر سے کاروبار بند کر دیں گی۔ پاکستان ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین علی حیدر نے بھی اسی تاریخ سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ دونوں تنظیموں کا مطالبہ ایک ہی ہے: پالیسی بناتے وقت نجی شعبے کو میز پر بٹھایا جائے، ورنہ سپلائی کا پہیہ رک جائے گا۔
گھریلو صارفین کے لیے اس کا مطلب سیدھا ہے: سرکاری نرخ پر بھی سلنڈر مہنگا ہو گیا ہے، اور بازار میں وہ اس سے کہیں زیادہ قیمت پر مل رہا ہے۔ سردیاں قریب ہیں، اور گیس کی طلب بڑھنے کے ساتھ یہ فرق مزید تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔



