اتوار, 1 نومبر 2026
اتوار, 1 نومبر 2026|
تازہ ترین
ٹیکنالوجی

ایف بی آئی نے بائننس ہیک کا ذمہ دار شمالی کوریا کو قرار دے دیا، چوری شدہ رقم ایتھیریم میں بدلی جا رہی ہے

News Cuff

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے آخر کار اس سوال کا جواب دے دیا ہے جو جمعرات کی رات سے پوری کرپٹو دنیا کے ذہن میں تھا: بائننس سے 6.3 ارب ڈالر کس نے چرائے؟ ہفتے کو جاری کیے گئے بیان میں ایف بی آئی نے صاف کہا کہ اس ڈاکے کے پیچھے شمالی کوریا ہے، اور کارروائی کرنے والا گروپ وہی "ٹریڈر ٹریٹر” ہے جس پر گزشتہ برس فروری میں بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری کا الزام بھی لگا تھا۔

رقم کہاں جا رہی ہے

ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور چوری شدہ اثاثے زیادہ تر ایتھیریم میں بدل رہے ہیں، اور آگے انھیں ڈی سینٹرلائزڈ فنانس اور فوری تبادلے کی سروسز کے ذریعے مزید دھونا متوقع ہے۔ ادارے نے متعلقہ ڈیجیٹل بٹووں کے پتے بھی جاری کیے ہیں اور دنیا بھر کی ایکسچینجز سے کہا ہے کہ وہ ان پتوں سے جڑے ہر لین دین کو روک دیں۔ امریکی سیکرٹ سروس اور ٹیکس محکمے کا جرائم کی تفتیش والا شعبہ بھی اس تعاقب میں ایف بی آئی کے ساتھ ہیں۔

بائننس کی بحالی

دوسری طرف بائننس نے ہفتے کو بتایا کہ اس نے اپنی کمپنی کے فنڈز سے نئے ٹوکن خرید کر چوری شدہ رقم کا 90 فیصد پورا کر لیا ہے، اور مجموعی طور پر 6.34 ارب ڈالر اس نقصان کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ایکسچینج کے مطابق صارفین کو کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ اتوار کی تازہ اپ ڈیٹ میں یہ شرح 95 فیصد تک پہنچ گئی اور واپسیاں مرحلہ وار بحال ہونا شروع ہو گئی ہیں، جن کا پہلا مرحلہ صبح کے وقت کھولا گیا۔ ڈپازٹس متاثر نہیں ہوئے تھے۔

لیکن واشنگٹن میں سب ایک زبان نہیں بول رہے

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی ہفتے کی رات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلوریڈا میں ایک تقریب کے دوران صحافیوں کے سوال پر یہ کہہ کر معاملہ کچھ نرم کر دیا کہ "ہم نہیں جانتے کہ یہ شمالی کوریا ہے یا نہیں، ہم اسے دیکھ رہے ہیں۔” یعنی ایک طرف ایف بی آئی کا باضابطہ الزام ہے، دوسری طرف صدر کی احتیاط۔ شمالی کوریا کی طرف سے اس الزام پر ابھی کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

پہلے کیا ہوا تھا

یاد رہے کہ 29 اکتوبر کو حملہ آوروں نے تقریباً بیس منٹ میں بائننس کے انٹرنیٹ سے جڑے "ہاٹ والٹس” سے اربوں ڈالر نکال لیے تھے، جس کے بعد ایکسچینج نے واپسیاں معطل کر دی تھیں۔ بلاک چین کی نگرانی کرنے والی فرموں نے شروع ہی سے شمالی کوریا کی طرف اشارہ کیا تھا، مگر ایف بی آئی کا بیان اس سلسلے کی پہلی سرکاری تصدیق ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب اصل امتحان یہ ہے کہ منجمد شدہ تقریباً 2.85 ارب ڈالر سے آگے کتنی رقم واپس لائی جا سکتی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے