لاہور میں ماہرین کی وارننگ: دھوپ کے ملک میں وٹامن ڈی کی کمی کا بحران، 73 فیصد افراد متاثر

Morning sunshine over trees. Experts in Lahore say lack of direct sunlight is a leading cause of vitamin D deficiency in Pakistan — file photo.
لاہور: دھوپ تو ہمارے ہاں کم نہیں، مگر وٹامن ڈی کی کمی پھر بھی ایک خاموش بحران بن چکی ہے۔ لاہور میں منعقدہ ڈی کنیکٹ سمٹ 2026 میں طبی ماہرین نے یہی تضاد سامنے رکھا — سورج روز نکلتا ہے، لیکن اس کی روشنی ہماری جلد تک پہنچتی ہی کتنی ہے؟
مال روڈ پر ایواری ہوٹل میں عالمی یوم وٹامن ڈی کی مناسبت سے ہونے والے اس اجلاس کا اہتمام اسکاٹ مین فارماسیوٹیکلز نے کیا تھا۔ ڈاکٹروں نے ہڈیوں کی صحت، خواتین کی صحت اور مجموعی تندرستی پر وٹامن ڈی کے اثرات پر بات کی، اور اعداد و شمار سن کر حاضرین کے لیے یہ مسئلہ محض کتابی بات نہیں رہا۔
بچپن میں ہڈیاں بنتی ہیں، بڑھاپے میں ٹوٹتی ہیں
میو اسپتال لاہور کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فیصل مسعود نے اپنے خطاب "بچپن سے بڑھاپے تک: وٹامن ڈی، ہڈیوں کی صحت کا زندگی بھر کا ساتھی” میں کہا کہ ہڈیاں صرف چلنے پھرنے کا سہارا نہیں، یہ دل، پٹھوں اور اعصاب کے کام کے لیے کیلشیم کا توازن بھی سنبھالتی ہیں — اور کیلشیم جسم میں تبھی کام آتا ہے جب وٹامن ڈی اسے جذب کرنے میں مدد دے۔
ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 73 فیصد افراد وٹامن ڈی کی کمی یا ناکافی سطح کا شکار ہیں۔ وجہ صرف ایک نہیں: لوگ رنگت خراب ہونے کے خوف سے دھوپ سے بچتے ہیں، شدید موسم، لباس کی عادات، سماجی رسوم، گھروں کے اندر گزرنے والی زندگی اور فضائی آلودگی — سب مل کر سورج کی براہ راست روشنی کم کر دیتے ہیں۔ کھانے کی عادتیں بھی بدل گئی ہیں؛ اب ذائقہ دیکھا جاتا ہے، غذائیت نہیں۔
ڈاکٹر فیصل نے خبردار کیا کہ آسٹیوپوروسس یعنی ہڈیوں کا بھربھرا پن اکثر اس وقت تک پکڑ میں نہیں آتا جب تک کوئی بزرگ معمولی سی ٹھوکر پر ہڈی نہ تڑوا بیٹھے۔ انہوں نے گھر میں گر کر ہڈی تڑوانے والی ایک معمر خاتون کی مثال دی — بڑھاپا، کم حرکت، اسٹیرائیڈ کا استعمال اور دیگر بیماریاں مل کر خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہڈیوں کی مضبوطی کا 90 فیصد کے قریب حصہ جوانی میں ہی بن جاتا ہے، اس لیے بچوں کو باہر کھیلنے اور اچھی غذا کی عادت بچپن سے ڈالنی چاہیے۔
خواتین سب سے زیادہ متاثر، مگر خود علاج خطرناک
راشد لطیف میڈیکل کالج لاہور کی شعبہ طب کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر اسما کاظی نے "بوجھ کا نقشہ، انتظام کی مہارت: پاکستان میں وٹامن ڈی کا بحران اور پی ایس آئی ایم گائیڈ لائنز” کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑا عوامی صحت کا مسئلہ ہے — مگر اس کا جواب بغیر مشورے کے بھاری خوراکیں کھانا ہرگز نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وٹامن ڈی آج کل سب سے زیادہ تجویز کی جانے والی سپلیمنٹس میں سے ہے، لیکن ڈاکٹر کو پہلے تین سوالوں کا جواب دینا چاہیے: ٹیسٹ کس کا ہو، سپلیمنٹ کس کو چاہیے، اور خوراک کتنی ہو؟ مختلف مطالعات میں کمی کی شرح 84.3 فیصد اور 61.1 فیصد تک ریکارڈ ہوئی ہے۔ تولیدی عمر کی خواتین میں یہ شرح 79.7 فیصد ہے — 54 فیصد میں درمیانی اور 25.7 فیصد میں شدید کمی۔ مختلف شہروں کے مطالعات میں یہ شرح 74 سے 95.1 فیصد کے درمیان رہی۔
ڈاکٹر اسما کے مطابق بچے، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین، بزرگ، اور موٹاپے، گردے، جگر یا غذائی اجزا جذب نہ ہونے کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔ وٹامن ڈی کی مقدار عمر کے ساتھ بدلتی ہے؛ کبھی خوراک اور دھوپ کافی ہوتی ہے، کبھی ٹیسٹ کے بعد سپلیمنٹ لازم ہو جاتا ہے — مگر بھاری خوراک کا معمول سب کے لیے درست نہیں، اس کے نقصانات بھی ہو سکتے ہیں۔
لاہور جنرل اسپتال کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عندلیب ارشد نے بھی خواتین کی صحت اور وٹامن ڈی کی اہمیت پر بات کی۔
سمٹ کا پیغام سادہ تھا: دھوپ سے بھاگنا چھوڑیں، بچوں کو باہر نکلنے دیں، کھانے میں غذائیت کو جگہ دیں — اور اگر کمی کا شبہ ہو تو پہلے ٹیسٹ، پھر ڈاکٹر کے مشورے سے علاج۔



