حکومت موجودہ یوروبانڈ قرض کو ڈیجیٹل ٹوکن میں بدلنے پر غور کر رہی ہے، کابینہ کی منظوری کے بعد تجاویز طلب کی جائیں گی

File photo: Wikimedia Commons / Satheesh Sankaran (CC BY 2.0).
اسلام آباد — وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان کے موجودہ یوروبانڈ قرض کو ڈیجیٹل ٹوکن میں تبدیل کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے، اور اس سلسلے میں باقاعدہ تجاویز طلب کرنے سے پہلے کابینہ کی منظوری لی جائے گی۔
انہوں نے یہ بات پیر کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے زیر اہتمام "ڈائیلاگ آن ڈیجیٹل ایسٹس اینڈ دی فیوچر آف بینکنگ” سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خزانہ میں اس تجویز پر بات چیت جاری ہے، اور منظوری ملتے ہی ریکویسٹ فار پروپوزل جاری کیا جائے گا۔
ٹوکنائزیشن کا کیا مطلب ہے؟
سادہ الفاظ میں، ٹوکنائزیشن کا مطلب کسی اثاثے — یہاں سرکاری بانڈ — کی ڈیجیٹل نمائندگی بلاک چین پر بنانا ہے، تاکہ ملکیت کا ریکارڈ الیکٹرانک طریقے سے رکھا اور منتقل کیا جا سکے۔ اس سے قرض کی رقم یا واجب الادا سود ختم نہیں ہوتا؛ صرف اس کے ریکارڈ اور لین دین کا طریقہ بدل سکتا ہے۔ یوروبانڈ وہ سرکاری قرض ہے جو حکومت غیر ملکی کرنسی، عموماً امریکی ڈالر، میں بین الاقوامی سرمایہ کاروں سے لیتی ہے، جس پر سود ادا کیا جاتا ہے اور میعاد پوری ہونے پر اصل رقم واپس کی جاتی ہے۔
ترسیلات زر بھی اسی فہرست میں
وزیر خزانہ نے ترسیلات زر کو ٹوکنائزیشن کا ایک اور ممکنہ استعمال قرار دیا۔ ان کے مطابق گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کی رفتار بتاتی ہے کہ یہ رقم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حجم کے پیش نظر ترسیلات کو ڈیجیٹل شکل دینا معقول قدم ہوگا۔
انہوں نے اس بحث کو چند سیدھے سوالوں سے جوڑا: کیا بیرون ملک سے رقم بھیجنے والے خاندان کو یہ سستی پڑے گی؟ کیا کوئی کاروبار اپنی ادائیگی جلد وصول کر سکے گا؟ کیا کوئی کاروباری مناسب شرائط پر سرمایہ حاصل کر سکے گا؟ اور کیا مالیاتی نظام کے استحکام کو خطرے میں ڈالے بغیر پیداواری سرمایہ کاری آ سکے گی؟ ان کے بقول، یہی نتائج اس پوری بحث کی رہنمائی کریں۔
بینکوں کا کردار اور احتیاط
اورنگزیب نے بین الاقوامی مثالیں بھی دیں — جے پی مورگن کے ڈپازٹ ٹوکن، جن سے ادارہ جاتی صارفین بلاک چین نیٹ ورکس پر رقوم منتقل کرتے ہیں، اور بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کا پروجیکٹ اگورا، جو ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹس اور مرکزی بینک کے ذخائر سے سرحد پار ادائیگیوں کو بہتر بنانے کا تجربہ کر رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ہر ڈیجیٹل اثاثہ ایک جیسا نہیں: ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹ بینک پر ایک دعویٰ رہتا ہے، اسٹیبل کوائن کا خطرہ اس کے جاری کنندہ، پشت پناہی اور واپسی کے انتظام پر منحصر ہوتا ہے، جبکہ بغیر پشت پناہی کے کرپٹو اثاثے کا خطرہ بالکل مختلف نوعیت کا ہے۔ اسی لیے ضابطہ کاری ہر مصنوعات کی معاشی حقیقت کے مطابق ہونی چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) ورچوئل اثاثہ کاروباروں کو لائسنس دینے اور ان کی نگرانی کی ذمہ دار ہے، اور اب کام اس فریم ورک کو عملاً مؤثر بنانا ہے۔ اسٹیٹ بینک نے پی وی اے آر اے سے لائسنس یافتہ کاروباروں کو بینکاری خدمات کا مشروط راستہ دیا ہے، جو ڈیو ڈیلیجنس اور صارفین کی رقوم کی علیحدگی سے مشروط ہے، جبکہ بینکوں پر اپنے فنڈز یا صارفین کے ڈپازٹس سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے کی پابندی برقرار ہے۔
سائبر سیکیورٹی پر انہوں نے دوٹوک لہجہ اختیار کیا اور کہا کہ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے حملوں کا سلسلہ چوبیس گھنٹے جاری ہے، اس لیے غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔
پس منظر
یہ پہلا موقع نہیں کہ حکومت ٹوکنائزیشن کی طرف دیکھ رہی ہو۔ دسمبر 2025 میں حکومت نے بائنانس کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس کے تحت 2 ارب ڈالر تک کے سرکاری اثاثوں — بشمول خودمختار بانڈز، ٹریژری بلز اور اجناس کے ذخائر — کی ٹوکنائزیشن کا جائزہ لیا جانا تھا۔ ستمبر 2026 میں پاکستان نے ساڑھے پانچ اور دس سال کی میعاد والے دو حصوں میں 3 ارب ڈالر کا یوروبانڈ جاری کیا تھا۔ ستمبر کے آخر میں نیویارک میں اقوام متحدہ کے دفتر برائے ڈیجیٹل و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ساتھ بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل پر مکالمے کی مشترکہ میزبانی بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی۔
تاہم، یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، کوئی ٹائم لائن نہیں دی گئی، اور تجاویز طلب کرنے کا عمل کابینہ کی منظوری سے مشروط ہے۔ وزیر خزانہ نے بینکوں اور دیگر شراکت داروں سے عملی سفارشات بھی مانگی ہیں تاکہ ڈیجیٹل اثاثوں کے بارے میں ملک کا راستہ طے ہو سکے۔
