ابوظہبی ٹی ٹین سے تین دن پہلے بھی پاکستانی کھلاڑی این او سی کے منتظر

ابوظہبی کے شیخ زاید کرکٹ اسٹیڈیم کی فائل تصویر — یہ 2026 کی ٹی ٹین لیگ کے کسی میچ کی تصویر نہیں ہے۔
ابوظہبی: ٹی ٹین لیگ شروع ہونے میں اب صرف چند دن رہ گئے ہیں، مگر کئی پاکستانی کرکٹرز کا معاملہ ابھی تک لٹکا ہوا ہے۔ ابوظہبی ٹی ٹین 2026 کا دسواں ایڈیشن 7 سے 20 نومبر تک کھیلا جائے گا، اور اس بار چھ ٹیمیں میدان میں اتریں گی، مگر ذرائع کے مطابق کئی پاکستانی کھلاڑیوں کو پاکستان کرکٹ بورڈ سے ابھی تک این او سی نہیں ملا۔ فرنچائزز نے کھلاڑیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد از جلد کلیئرنس حاصل کریں، ورنہ ان کی جگہ متبادل کھلاڑیوں کو شامل کر لیا جائے گا۔
کون سے کھلاڑی کس ٹیم میں ہیں؟
یونائیٹڈ ٹائیگرز نے فخر زمان کو براہ راست سائن کیا ہے، اور ان کے ساتھ عباس آفریدی، صوفیان مقیم، افتخار احمد اور فہیم اشرف بھی اسی ٹیم کا حصہ ہیں۔ یو اے ای بلز میں خوشدل شاہ، خواجہ نافع، شاداب خان، اعظم خان، محمد عامر اور محمد وسیم جونیئر شامل ہیں۔ نسیم شاہ رائل ڈیزرٹ چیمپئنز اور سلمان ارشاد عربین ایسز کی طرف سے کھیلیں گے، جب کہ ایمریٹس ایگلز نے حسن نواز، عاکف جاوید اور علی رضا کو چنا ہے۔ کھلاڑیوں کا انتخاب 30 ستمبر کو ابوظہبی میں ہونے والے ڈرافٹ میں ہوا تھا، اور اس کے بعد سے ہی این او سی کا انتظار جاری ہے۔
10 ہزار ڈالر فیس کی اطلاعات کیا ہیں؟
الگ اطلاعات کے مطابق پی سی بی ہر کھلاڑی کے این او سی کے لیے 10 ہزار ڈالر مانگ رہا ہے، اور لیگ کے منتظمین نے یہ رقم دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق اب کھلاڑیوں سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ کھیلنا چاہتے ہیں تو یہ فیس اپنی جیب سے ادا کریں، ورنہ باہر بیٹھیں۔ یہ بات واضح رہے کہ یہ فیس کا دعویٰ اطلاعات کی حد تک ہے — پی سی بی نے اس پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، اور جیو سپر و اے اسپورٹس کی رپورٹوں میں فیس کا ذکر نہیں، صرف این او سی کا انتظار اور متبادل کھلاڑیوں کا خدشہ بیان کیا گیا ہے۔
نیپال لیگ والا معاملہ کیوں یاد آ رہا ہے؟
یہ تنازع نیا نہیں لگ رہا، کیونکہ کچھ عرصہ پہلے نیپال پریمیئر لیگ میں بھی اسی طرح کی صورتحال سامنے آئی تھی، جہاں اطلاعات کے مطابق 25 ہزار ڈالر فی کھلاڑی مانگے گئے اور آخرکار پاکستانی کھلاڑیوں کی جگہ متبادل کھلاڑی لے لیے گئے۔ اس کے بعد چیئرمین محسن نقوی نے ٹی ٹوئنٹی ماہرین کے لیے ایک الگ کنٹریکٹ کیٹیگری کا اعلان بھی کیا تھا، جس کے تحت انہیں بیرون ملک لیگز کے لیے این او سی کی ضرورت نہ ہوتی، مگر ابوظہبی کی صورتحال بتا رہی ہے کہ وہ اعلان ابھی تک کھلاڑیوں کی پریشانی ختم نہیں کر سکا۔ اب سب کی نظریں 7 نومبر سے پہلے کے ان چند دنوں پر ہیں کہ آیا این او سی جاری ہوتے ہیں یا فرنچائزز واقعی متبادل کھلاڑیوں کی طرف جاتی ہیں۔



