اسلام آباد ہائی کورٹ نے مسٹر پٹلو کو 10 نومبر تک حفاظتی ضمانت دے دی، سیالکوٹ بھگدڑ کیس میں گرفتاری سے عارضی تحفظ

سیالکوٹ کے اقبال اسکوائر میں کلاک ٹاور کی فائل تصویر — یہ عدالت میں پیشی یا بھگدڑ کی تصویر نہیں ہے۔
اسلام آباد: سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ کے کیس میں نامزد ٹک ٹاکر محمد انصار عرف مسٹر پٹلو کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے وقتی ریلیف مل گیا ہے۔ چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے منگل کو ان کی حفاظتی ضمانت 10 نومبر تک منظور کر لی، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس مدت میں گرفتار کیے بغیر سیالکوٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔ عدالت نے واضح کر دیا کہ یہ فیصلہ کیس کی میرٹ پر نہیں ہے — نہ یہ بریت ہے، نہ الزامات پر کوئی حتمی رائے۔
وہیل چیئر پر پیشی، پانچ منٹ کی سماعت
انصار دوپہر ایک بج کر چالیس منٹ پر چیف جسٹس کے چیمبر میں وہیل چیئر پر پیش ہوئے، اور صرف پانچ منٹ کی سماعت کے بعد انہیں حفاظتی ضمانت مل گئی۔ سماعت کے بعد وہ اسی وہیل چیئر پر واپس روانہ ہوئے۔ صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ کیا انہیں اپنے اقدام پر افسوس ہے، تو وہ خاموش رہے، ہاتھ اٹھا کر آگے بڑھ گئے اور اس بارے میں کچھ نہیں کہا۔ ان کی طرف سے بیرسٹر قاسم نواز عباسی اور بیرسٹر راجا علی عباس جلاپ نے درخواست دائر کی تھی، جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ متعلقہ عدالت تک پہنچنے سے پہلے ان کی گرفتاری روکی جائے۔ وکیل نے گرفتاری کے حوالے سے خدشات بھی ظاہر کیے، جو دفاع کا موقف ہے، اس بارے میں عدالت کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
پس منظر: فراز گراؤنڈ میں وہ رات کیا ہوا تھا
یہ کیس 31 اکتوبر کی رات سیالکوٹ میں ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آنے والی بھگدڑ سے جڑا ہے، جہاں مسٹر پٹلو کی مہندی اور انعامی تقسیم کی تقریب میں ہزاروں لوگ جمع ہو گئے تھے۔ سوشل میڈیا پر اعلان کیا گیا تھا کہ شرکت کرنے والوں میں دو کروڑ روپے نقد، ایک گاڑی، پچاس موٹر سائیکلیں اور موبائل فون تقسیم کیے جائیں گے۔ گیٹ کھلتے ہی ہجوم آگے بڑھا اور بھگدڑ مچ گئی، جس میں دو افراد جان سے گئے اور 18 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں بودھا گورایا کے رہائشی 30 سالہ محمد عقیل موقع پر ہی دم توڑ گئے تھے، جب کہ محمد ریحان لاہور کے اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد اتوار کو چل بسے تھے۔ موٹرا تھانے میں 31 اکتوبر کو مقدمہ درج ہوا تھا، جس میں انصار، ان کے بھائی کاشف بشیر، فراز گراؤنڈ کے مالک شاہد جاوید، چھ دیگر افراد اور 40 سے 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز نامزد ہیں۔
آگے کیا ہوگا، اور بھائی کو بھی ریلیف
سماء کے مطابق تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ حفاظتی ضمانت 10 نومبر کو عدالتی اوقات کے اختتام پر خود ختم ہو جائے گی، اس لیے انصار کو اس سے پہلے سیالکوٹ کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونا ہوگا، جہاں اصل کیس کی سماعت ہوگی۔ اسی دوران ان کے بھائی کاشف بشیر کو سیالکوٹ کی عدالت سے 9 نومبر تک عبوری قبل از گرفتاری ضمانت بھی مل چکی ہے۔ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ ٹک ٹاکر نے اپنی شادی کی تقریبات کو حد سے زیادہ تشہیر دی اور بڑے انعامی ڈرا کا اعلان کیا، جس سے ہزاروں افراد کا بے قابو ہجوم جمع ہو گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تقریب کا این او سی جاری ہوا تھا، مگر بیرونی سیکیورٹی انتظامیہ کی اور اندرونی انتظامات منتظمین کی ذمہ داری تھے، اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔



