بدھ, 4 نومبر 2026
بدھ, 4 نومبر 2026|
تازہ ترین
ٹیکنالوجی

پی ٹی اے کی قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ: پاکستان میں ٹک ٹاک کے 10 کروڑ، یوٹیوب کے 9 کروڑ 60 لاکھ صارفین، مگر انٹرنیٹ کا معیار بدستور خراب

News Cuff

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کی عمارت، فائل فوٹو۔ (یہ تصویر قومی اسمبلی کمیٹی کے اجلاس کی نہیں، پارلیمنٹ ہاؤس کی فائل فوٹو ہے۔)

اسلام آباد: پاکستان ٹک ٹاک یوٹیوب صارفین کی تعداد حیران کن حد تک پہنچ چکی ہے — ٹک ٹاک پر تقریباً 10 کروڑ اور یوٹیوب پر 9 کروڑ 60 لاکھ پاکستانی موجود ہیں — مگر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں منگل کو یہی اعداد سامنے آتے ہی ایک دوسرا، کہیں زیادہ تلخ سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا: اگر صارفین اتنے زیادہ ہیں تو انٹرنیٹ اب بھی اتنا خراب کیوں ہے؟ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) حفیظ الرحمان نے کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان سے روزانہ ٹک ٹاک پر تقریباً 15 کروڑ ویڈیوز دیکھی اور اپ لوڈ کی جاتی ہیں، جبکہ یوٹیوب پر روزانہ تقریباً 56 کروڑ ویڈیوز دیکھی جاتی ہیں۔ ان کے بقول یوٹیوب دیکھنے کے معاملے میں پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔

اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

بریفنگ میں بتایا گیا کہ واٹس ایپ پر بھی روزانہ لاکھوں کالز اور پیغامات کا تبادلہ ہوتا ہے، اور سوشل میڈیا و مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے ڈیٹا کی کھپت میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شازیہ فاطمہ خواجہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک میں 5جی سروس چوبیس شہروں میں پہنچ چکی ہے اور اس وقت ایک کروڑ 80 لاکھ افراد 5جی استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پچھلی حکومت نے 4جی متعارف کرایا تھا جبکہ موجودہ حکومت نے 5جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی ہے، اور ٹیلی کام سروس بہتر بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ارکان کا غصہ: سروس ہر اجلاس کے بعد خراب کیوں؟

مگر کمیٹی کے ارکان نے ان اعداد کو سراہنے کے بجائے اپنی شکایتیں کھول کر رکھ دیں۔ کمیٹی نے قرار دیا کہ دو سال کی مسلسل کوششوں کے باوجود انٹرنیٹ کا معیار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچا — کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں بھی رابطے کا مسئلہ ہے، چھوٹے شہروں اور دور دراز اضلاع میں تو سروس بعض جگہ نہ ہونے کے برابر ہے، اور واٹس ایپ کالز کے دوران سگنل بار بار ٹوٹ جاتا ہے۔ رکن احمد عتیق نے کہا کہ ان کے حلقے میں اور کراچی جاتے ہوئے راستے میں موبائل نیٹ ورک بمشکل چلتا ہے، اسلام آباد میں بھی واٹس ایپ کالز کٹ جاتی ہیں، اور ہر کمیٹی اجلاس کے بعد سروس مزید خراب ہوتی محسوس ہوتی ہے۔ ان کا سوال سیدھا تھا: جب دیہی علاقوں میں ابھی 3جی بھی ٹھیک نہیں، تو 5جی کی توسیع کا کیا فائدہ؟ رکن آسیہ اسحاق نے 4جی کی گرتی سروس پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ کیا آپریٹرز کو مجبور کرنے کے لیے سپریم کورٹ جانا پڑے گا؟

پی ٹی اے کا جواب: نوٹس، عدالتی حکم امتناع اور چوری شدہ ٹاور

پی ٹی اے چیئرمین نے بتایا کہ اتھارٹی نے ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ مل کر اکتالیس اضلاع کا دورہ کیا ہے، ٹاورز کا معائنہ کیا ہے، اور جہاں کمی پائی گئی وہاں تین ماہ میں سروس بہتر کرنے کی ہدایت دی گئی۔ بہتری نہ آنے پر پچھلے تین ماہ میں پانچ شوکاز نوٹس جاری ہوئے، مگر جرمانوں کی وصولی عدالتی حکم امتناع کی وجہ سے رکی ہوئی ہے — آپریٹرز جرمانے کے خلاف عدالت سے اسٹے لے لیتے ہیں، اس لیے شوکاز کو آخری حربہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کراچی میں 5جی کا تقریباً ستر فیصد رول آؤٹ مکمل ہو چکا ہے اور تقریباً 2,300 ٹاورز کو 5جی کے لیے اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ معیار خراب ہونے کی وجوہات میں طویل بجلی کی بندش بھی شامل ہے — دیہی علاقوں میں 12 سے 16 گھنٹے بجلی نہ ہونے سے ٹاورز بند ہو جاتے ہیں — اور وزیر نے بتایا کہ بعض علاقوں میں پورے ٹاور، ڈیزل اور جنریٹر تک چوری ہو گئے ہیں۔ کمیٹی نے الیکٹرانک ٹرانزیکشنز ترمیمی بل 2026 پر غور بھی موخر کر دیا، جو اگلے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے