بھارت نے کرتارپور راہداری تاحال بند رکھی، پاکستان تیار: سکھ یاتری 22 نومبر کو واہگہ سے آئیں گے

فائل فوٹو: کرتارپور میں گردوارہ دربار صاحب — دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے راہداری سے یاتریوں کی آمد و رفت 7 مئی 2025 سے بند رکھی ہے جبکہ پاکستان کی جانب سے راہداری کھلی ہے (تصویر: شاہ زیب ڈیمن کروز / ویکیمیڈیا کامنز)
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت نے کرتارپور راہداری سے سکھ یاتریوں کی آمد و رفت کو 7 مئی 2025 سے بند کر رکھا ہے، جبکہ پاکستان کی جانب سے راہداری کھلی ہوئی ہے اور اسلام آباد کسی بھی وقت یاتریوں کا استقبال کرنے کے لیے تیار ہے۔ ترجمان سجاد حیدر خان نے جمعہ کو ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بابا گرونانک دیو جی کی 557 ویں جنم دن کی مرکزی تقریب منگل 24 نومبر کو ننکانہ صاحب میں ہوگی، جبکہ بھارت سے آنے والے یاتری اتوار 22 نومبر کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہوں گے۔
واہگہ سے نو ہزار یاتری، کرتارپور صرف پانچ کلومیٹر دور
ترجمان نے کہا کہ بھارت کے اس فیصلے کی کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف نو ہزار سے زائد سکھ یاتریوں کو واہگہ کے راستے آنے کی اجازت دی جائے اور دوسری طرف کرتارپور صاحب کی روزانہ زیارت پر پابندی قائم رہے، حالانکہ یہ مقام سرحد سے صرف پانچ کلومیٹر اندر ہے اور یاتری دن بھر وہاں گزار کر شام کو واپس جا سکتے ہیں۔ 2019 کے معاہدے کے تحت راہداری سے روزانہ پانچ ہزار تک یاتری بغیر ویزے کے دربار صاحب کی زیارت کر سکتے ہیں۔ بھارت نے پہلگام حملے کے بعد 7 مئی 2025 کو راہداری بند کی تھی، اور اس کے بعد سے پاکستان بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ راہداری دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے۔
2025 میں 9,318 مذہبی ویزے جاری
ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 2025 کے دوران بھارتی مذہبی یاتریوں کو 9,318 ویزے جاری کیے، جن میں 9,070 سکھ اور 248 ہندو یاتری شامل تھے، جبکہ 2026 کی پہلی ششماہی میں مزید 4,002 سکھ یاتریوں کو ویزے دیے گئے۔ یہ ویزے دونوں ملکوں کے درمیان 1974 میں طے پانے والے مذہبی مقامات کے دوروں کے پروٹوکول کے تحت جاری کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی شہریوں پر ویزوں کی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی اور ہندو و سکھ یاتریوں کو ویزے معمول کے مطابق جاری ہو رہے ہیں۔
بھگونت مان کے ویزے پر غور ممکن
ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ اگر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان پاکستان آنا چاہیں تو ان کے ویزے پر غور کیا جا سکتا ہے، البتہ انہیں سفر کی اجازت دینا بھارتی حکومت کا فیصلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام مذاہب کے یاتریوں کی میزبانی کے لیے پرعزم ہے۔
انتظامات مکمل
متولی وقف املاک بورڈ کے مطابق یاتریوں کی رہائش، لنگر، نقل و حمل، سیکیورٹی اور طبی سہولتوں کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ بابا گرونانک 1469 میں تلونڈی میں پیدا ہوئے تھے، جو آج ننکانہ صاحب کہلاتا ہے، اور وہ سکھ مذہب کے بانی ہیں۔



