نئی آٹو پالیسی 2026-31 کا اعلان: گاڑیاں سستی ہوں گی، الیکٹرک گاڑیوں پر صرف ایک فیصد ٹیکس

فائل فوٹو: پاکستان میں فروخت ہونے والی سوزوکی کلٹس
حکومت نے پانچ سالہ آٹو پالیسی 2026-31 کا اعلان کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں ہفتے کو وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ نئی پالیسی کے تحت گاڑیاں بتدریج سستی ہوں گی، الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکس میں بڑی رعایت ملے گی اور اگلے پانچ برس میں کاروں کی برآمدات چھ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔ پچھلی آٹو پالیسی 30 جون 2026 کو ختم ہو چکی تھی، اور نئی پالیسی اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے لائی گئی ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں پر صرف ایک فیصد ٹیکس
پالیسی میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو سب سے زیادہ رعایت دی گئی ہے۔ مکمل الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس صرف ایک فیصد ہوگا، رینج بڑھانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر چھ فیصد اور پلگ اِن ہائبرڈ گاڑیوں پر نو فیصد۔ نئی توانائی کی گاڑیوں اور ان کے پرزوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس بھی نہیں لگے گا۔ البتہ پچھتر ہزار ڈالر سے مہنگی الیکٹرک گاڑیوں پر دس فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی تجویز کی گئی ہے۔ ہائبرڈ اور عام پٹرول گاڑیوں کے ساتھ ڈیوٹی اور ٹیکس کے معاملے میں ایک جیسا سلوک ہوگا۔
قرض کی حد تین سے بڑھ کر دس ملین روپے
الیکٹرک گاڑی خریدنے والوں کے لیے قرض کی حد تین ملین روپے سے بڑھا کر دس ملین روپے کر دی گئی ہے، جبکہ قرض کی مدت بھی تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے چھوٹی اور سستی الیکٹرک گاڑیاں عام آدمی کی پہنچ میں آ سکیں گی۔
چھوٹی گاڑیاں کتنی سستی ہوں گی؟
پالیسی کے تحت تمام گاڑیوں پر کسٹم ڈیوٹی بتدریج کم کر کے مالی سال 2030-31 تک 15 فیصد کر دی جائے گی۔ تاہم پہلے سال بڑی رعایت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ 850 سی سی تک کی گاڑیاں پہلے سال صرف ساڑھے پانچ فیصد سستی ہوں گی، کیونکہ حکومت نے 4.5 فیصد اضافی کسٹم ڈیوٹی بھی لگا دی ہے۔ 1000 سی سی تک کی گاڑیاں پانچویں سال تک تقریباً نو فیصد، اور 1500 سی سی کی گاڑیاں گیارہ فیصد یا ساڑھے چھ لاکھ روپے تک سستی ہو سکتی ہیں — لیکن ہر سال قیمتوں میں اضافہ اس فائدے کو کم بھی کر سکتا ہے۔
منظوری ابھی باقی ہے
یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پالیسی کا اعلان تو ہو گیا ہے، مگر اس پر عمل درآمد ابھی باقی ہے۔ ٹیکس میں رعایتوں کے لیے آئی ایم ایف کی منظوری درکار ہے، اور حتمی منظوری کے لیے معاملہ کابینہ اور پھر پارلیمنٹ کے سامنے جائے گا۔ اس لیے شوروم میں قیمتیں فوراً کم ہونے یا قرض کی نئی حدیں فوراً ملنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔



