کراچی کے ساحل کے قریب پہلی بار 45 فٹ لمبی سپرم وہیل دیکھی گئی

سمندر میں غوطہ لگاتی سپرم وہیل کی فائل تصویر — کراچی کے قریب دیکھی گئی وہیل اسی نوع کی تھی
کراچی سے تقریباً چالیس ناٹیکل میل جنوب مغرب میں سمندر کی سطح پر اچانک ایک دیو ہیکل سایہ ابھرا — تقریباً پینتالیس فٹ لمبی سپرم وہیل، جسے ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ٹیم نے کیمرے میں محفوظ کر لیا۔ یہ سندھ کے ساحل کے قریب اس نوع کی پہلی ریکارڈ شدہ موجودگی ہے، اور ماہرین اسے پاکستان کے سمندری ماحول کے لیے ایک اہم خبر قرار دے رہے ہیں۔
مہم کے دوران سامنا
یہ وہیل ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے بورڈ رکن زاہد میکر کی سربراہی میں جاری ایک سمندری مہم کے دوران دیکھی گئی۔ فوٹیج میں وہیل کی نمایاں خصوصیات — اس کا مخصوص بلو ہول، جلد کے نشانات اور ابھرا ہوا کوہان — صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس سے پہلے سپرم وہیل کی موجودگی صرف بلوچستان کے ساحل کے قریب ریکارڈ ہوئی تھی، جن میں ستمبر 2017 میں جیوانی کے قریب گنز کے مقام پر دو وہیلوں کا براہ راست مشاہدہ بھی شامل ہے۔
سمندر کی گہرائیوں کا شکاری
سپرم وہیل دانتوں والی وہیلوں میں سب سے بڑی اور دانتوں والا سب سے بڑا شکاری ہے۔ یہ زیادہ تر اسکویڈ اور آکٹوپس کھاتی ہے، اور خوراک کی تلاش میں عام طور پر تین سو سے آٹھ سو میٹر گہرائی تک جاتی ہے — کبھی کبھار ایک سے دو کلومیٹر تک بھی۔ پاکستان کے سمندروں میں اس کی خوراک میں شامل جامنی اڑنے والی اسکویڈ اور ڈائمنڈ بیک اسکویڈ بھی پائی جاتی ہیں۔
چھبیس اقسام، اور ایک خبردار کرنے والا پیغام
ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کے سینئر ڈائریکٹر راب نواز کا کہنا ہے کہ یہ مشاہدہ پاکستان کے ساحلی پانیوں کی ماحولیاتی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور ان مسکنوں اور غذائی زنجیروں کی حفاظت کی ضرورت پر زور دیتا ہے جن پر یہ بڑی سمندری انواع انحصار کرتی ہیں۔ تنظیم کے تکنیکی مشیر محمد معظم خان نے اسے ایک اہم ریکارڈ قرار دیا ہے۔ ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان اب تک ملک کے پانیوں میں وہیلوں اور ڈولفن سمیت سیٹیشینز کی چھبیس اقسام ریکارڈ کر چکا ہے — جن میں نیلی وہیل، برائیڈ وہیل اور بحیرہ عرب کی ہمپ بیک وہیل بھی شامل ہیں — اور سو سے زائد ماہی گیروں کو بڑے سمندری جانوروں کے مشاہدے ریکارڈ کرنے کی تربیت دے چکا ہے۔



