جمعرات, 5 نومبر 2026
جمعرات, 5 نومبر 2026|
تازہ ترین
کھیل

ابوظبی ٹی ٹین سے پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت خطرے میں، پی سی بی نے ہر این او سی پر 10 ہزار ڈالر مانگ لیے

News Cuff

ابوظبی کا شیخ زاید کرکٹ اسٹیڈیم — فائل فوٹو (وکیمیڈیا کامنز، CC BY 2.0)۔ ابوظبی ٹی ٹین کا میلہ اسی میدان میں 7 نومبر سے شروع ہونا ہے، مگر پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت این او سی کی فیس پر اٹک گئی ہے۔

ابوظبی ٹی ٹین کا میلہ 7 نومبر سے شروع ہونے والا ہے، مگر اس سے پہلے ہی پاکستانی کھلاڑیوں کی شرکت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے لیگ انتظامیہ سے کہا ہے کہ ہر کھلاڑی کے این او سی کے بدلے 10 ہزار امریکی ڈالر ادا کیے جائیں، ورنہ کلیئرنس نہیں ملے گی۔ یہ شرط آخری لمحات میں سامنے آئی ہے، اور اسی وجہ سے فرنچائزز اب متبادل کھلاڑیوں کی تلاش میں لگ گئی ہیں۔

ڈرافٹ میں 16 پاکستانی، چھ میں سے پانچ ٹیموں میں

30 ستمبر کو ہونے والے ڈرافٹ میں چھ میں سے پانچ ٹیموں نے 16 پاکستانی کرکٹرز کو چنا تھا۔ ان میں نسیم شاہ، شاداب خان، فخر زمان، محمد عامر، افتخار احمد، فہیم اشرف اور اعظم خان جیسے جانے پہچانے نام شامل ہیں۔ لیگ نے ڈرافٹ کے فوراً بعد این او سی کے لیے درخواست دے دی تھی، مگر بورڈ نے اپنی شرط اس ہفتے کے شروع میں بتائی، یعنی ٹورنامنٹ شروع ہونے سے صرف چند دن پہلے۔

کچھ کھلاڑی اپنی جیب سے فیس دینے کو تیار

رپورٹس کے مطابق اگر ٹیم مالکان یہ اضافی رقم دینے سے انکار کرتے ہیں تو کچھ کھلاڑی اپنی تنخواہ سے یہ فیس ادا کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ ثالثی کی کوششیں بھی ہوئیں، مگر بات بنتی نظر نہیں آ رہی۔ ٹیمیں اب اس صورت حال میں اپنے اسکواڈ مکمل کرنے کے لیے دوسرے کھلاڑیوں سے رابطے کر رہی ہیں۔

نیپال لیگ میں بھی یہی تنازع ہوا تھا

یہ پہلی بار نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ نیپال پریمیئر لیگ کے لیے بھی بورڈ نے ہر کھلاڑی پر 25 ہزار ڈالر مانگے تھے۔ اس وقت حسین طلعت اور جہانداد خان تو نیپال میں کھیلتے رہے، مگر زیادہ تر کرکٹرز بغیر کھیلے واپس آ گئے تھے۔ بورڈ کا موقف رہا ہے کہ جن لیگوں کے ممالک کے کھلاڑی پی ایس ایل میں اتنے مانگے نہیں جاتے، وہاں پاکستانی کھلاڑیوں کی دستیابی کی قیمت وصول کی جائے۔ یہ پالیسی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی کے آغاز کے زمانے سے وقفے وقفے سے سامنے آتی رہی ہے۔

نئی پالیسی، پرانی الجھن

نئے سینٹرل کنٹریکٹس میں بورڈ نے غیر ملکی لیگوں کی پالیسی بدل دی تھی۔ ٹی ٹوئنٹی ماہرین کے لیے لیگوں کی تعداد کی حد ختم کر دی گئی، صرف قومی ڈیوٹی کی شرط رکھی گئی۔ دو فارمیٹس کے کھلاڑیوں کے لیے ایک یا دو لیگیں سالانہ کی حد ہے، اور ریڈ بال ماہرین کے لیے بیرون ملک کوئی ٹی ٹوئنٹی یا ٹی ٹین لیگ نہیں۔ مگر 2025-26 کے کنٹریکٹس 30 جون کو ختم ہو چکے اور نئے کنٹریکٹس کا اعلان ابھی نہیں ہوا، اس لیے یہ واضح نہیں کہ کون سا کھلاڑی کس کیٹیگری میں آتا ہے۔

بیرون ملک مواقع ویسے ہی سکڑ رہے ہیں

پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے بیرون ملک لیگوں کے دروازے ویسے ہی تنگ ہو رہے ہیں۔ آئی پی ایل میں وہ پہلے سے نہیں کھیلتے، اور جنوبی افریقہ کی ایس اے ٹوئنٹی میں بھی کوئی پاکستانی نظر نہیں آتا کیونکہ اس کی تمام ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائزز کی ملکیت ہیں۔ ابرار احمد کا دی ہنڈرڈ میں کھیلنا اور عثمان طارق کا کیریبین لیگ میں نظر آنا استثنا ہے، معمول نہیں۔ بورڈ نے اس معاملے پر ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے