جمعہ, 6 نومبر 2026
جمعہ, 6 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

پاکستان، برطانیہ کا افغانستان سے ٹی ٹی پی سمیت دہشت گرد گروہوں کے خطرے پر اظہار تشویش

News Cuff

اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس (فائل فوٹو) — پاکستان برطانیہ انسداد دہشت گردی مذاکرات اسلام آباد میں ہوئے؛ یہ تصویر اس اجلاس کی نہیں ہے۔

اسلام آباد میں پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خطرے پر مشترکہ تشویش ظاہر کی ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سالانہ دوطرفہ انسداد دہشت گردی مذاکرات بدھ کو اسلام آباد میں ہوئے، جن میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان سمیت ان گروہوں کا خاص طور پر ذکر ہوا جو افغانستان سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں۔

مذاکرات میں شریک دونوں وفود نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے افغانستان کا مستحکم اور محفوظ ہونا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کی ہر شکل کا مقابلہ کرنے کے لیے دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کا جائزہ لیا گیا، اور اس عزم کو دہرایا گیا کہ یہ تعاون آگے بھی جاری رہے گا۔

مذاکرات کی قیادت کس نے کی

پاکستانی وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل انسداد دہشت گردی ڈاکٹر فرحیہ بگٹی نے کی، جبکہ برطانوی وفد کے سربراہ فارن، کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس میں نیشنل اینڈ اکنامک سیکیورٹی کے ڈائریکٹر تھامس بیری تھے۔ دونوں فریقوں نے علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس میں سرحد پار دہشت گرد نیٹ ورکس سے پیدا ہونے والے خطرات بھی شامل تھے۔

نئے خطرات پر بھی بات ہوئی

اجلاس میں صرف پرانے خطرات ہی زیر بحث نہیں آئے۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کے نئے رجحانات سے نمٹنے کے طریقوں پر بھی بات کی، جن میں غلط معلومات کی مہمات، سوشل میڈیا کا غلط استعمال اور نئی ٹیکنالوجی کا دہشت گرد مقاصد کے لیے استعمال شامل ہے۔ اس ضمن میں بہترین طریقوں کے تبادلے، ادارہ جاتی روابط مضبوط کرنے اور باقاعدہ رابطے جاری رکھنے پر اتفاق ہوا۔

برطانوی وفد نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں معصوم جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ برطانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق برطانیہ نے علاقائی استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف بھی کیا۔ مذاکرات کا اگلا دور 2027 میں لندن میں ہوگا، جس کی تاریخیں باہمی مشاورت سے طے کی جائیں گی۔

اسلام آباد کا موقف یہی رہا ہے کہ کابل میں طالبان انتظامیہ افغانستان کی سرزمین سے ٹی ٹی پی کی پناہ گاہیں ختم کرے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مطالبے پر اب تک عمل نہیں ہوا، اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات گزشتہ چند برسوں سے کشیدہ ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے