خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات ملتوی، الیکشن کمیشن نے تمام تیاریاں روک دیں

فائل فوٹو: پاکستان میں عام انتخابات کے دوران ایک خاتون پولنگ اسٹیشن پر ووٹ ڈال رہی ہیں (وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 3.0) — یہ آج کی تصویر نہیں۔
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا انتظار اب غیر معینہ مدت تک بڑھ گیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے جمعرات کو صوبے بھر میں بلدیاتی انتخابات کی تمام تیاریاں اگلے حکم تک روک دیں، اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انتخابات سے جڑی ہر سرگرمی فوری طور پر بند کر دی جائے۔ کمیشن نے نئی تاریخ دینے سے بھی گریز کیا — اب ووٹ کب ڈالے جائیں گے، اس کا فیصلہ آئینی رکاوٹیں دور ہونے پر ہوگا۔
فیصلہ کیوں ہوا؟
یہ فیصلہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں وفاقی حکومت کے 4 نومبر کے حکم نمبر 3 کا جائزہ لیا گیا۔ اس حکم کے تحت آئین کی شق 140-اے کی معطلی صوبے کے باقی تمام اضلاع تک بڑھا دی گئی ہے۔ کمیشن کے مطابق 140-اے صوبوں میں بلدیاتی حکومتوں کے قیام کی ضمانت دیتی ہے، اور اس کی شق 2 کے تحت بلدیاتی انتخابات کرانا کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے — مگر معطلی کے بعد باقی اضلاع میں انتخابات کرانا ممکن نہیں رہا۔
پس منظر
الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ہی ان 23 اضلاع میں تیاریاں شروع کرنے کا حکم دیا تھا جہاں حلقہ بندی مکمل ہو چکی تھی، جبکہ 12 اضلاع — جن میں بنوں، لکی مروت، مہمند، اورکزئی اور شمالی وزیرستان شامل ہیں — 11 اکتوبر کے وفاقی حکم کے تحت پہلے ہی باہر تھے، جہاں گورنر راج اور ہنگامی اقدامات نافذ ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ آئینی اور قانونی رکاوٹیں دور ہونے تک صوبے میں بلدیاتی اداروں کی بحالی کا عمل رکا رہے گا، اور مستقبل میں انتخابات کی بحالی یا نیا شیڈول اسی پر منحصر ہوگا۔
پنجاب میں الیکشن 7 فروری کو
اسی اجلاس میں کمیشن نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کی تاریخ 7 فروری 2027 مقرر کر دی۔ پنجاب حکومت کی درخواست پر یہ تاریخ 20 جنوری کے بعد رکھی گئی، جس کی وجہ موسم اور انتظامی ضروریات بتائی گئی ہیں۔


