ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ، پیٹرول کی قیمت برقرار — نئے نرخ آج سے نافذ

تصویر: پٹرول پمپ کی فائل فوٹو — Wikimedia Commons
نئے نرخ: ڈیزل 393.66 روپے، پیٹرول 377.71 روپے فی لیٹر
عالمی منڈی: برینٹ کروڈ پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر
روزانہ قیمتوں کا طریقہ کار برقرار
وفاقی حکومت نے جمعہ کی شام پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں نئی نظرثانی کا اعلان کر دیا۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارش پر پٹرولیم ڈویژن نے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 1.91 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت بدستور 377.71 روپے فی لیٹر برقرار رہے گی۔
نئے نرخ آج، ہفتے کے روز 24 اکتوبر سے پیر 26 اکتوبر تک نافذ رہیں گے۔ اعلان کے بعد ڈیزل کی نئی قیمت 393.66 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی ہے، جو اس سے پہلے 391.75 روپے تھی۔
ایک دن پہلے کی صورتحال
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جمعرات کو اعلان کردہ نرخوں میں پیٹرول کی قیمت میں 1.60 روپے کی کمی اور ڈیزل کی قیمت میں 1.64 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، جو 23 اکتوبر سے نافذ تھے۔ اب جمعہ کے اعلان کے بعد ڈیزل کی قیمت مسلسل دوسرے روز بڑھی ہے۔
پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس و ڈیوٹی عائد ہے، جن میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اوگرا کے مطابق اس بار نرخوں کا تعین عالمی منڈی میں پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر اخراجات میں ردوبدل کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ
مشترکہ ذرائع کے مطابق جمعہ کو برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.40 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا اور یہ 114.57 ڈالر پر پہنچ گئی، جو پانچ ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کار اس اضافے کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مسلسل حملوں کے بعد توانائی کی فراہمی پر خدشات سے جوڑ رہے ہیں۔
ڈیزل بنیادی طور پر بھاری ٹرانسپورٹ، کاشتکاروں اور جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں اضافے سے اشیائے ضروریہ کی نقل و حمل اور بجلی کے متبادل ذرائع کی لاگت پر دباؤ بڑھے گا۔
تنقیدی آوازیں اور حکومتی اقدامات
آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن اور ٹرانسپورٹ گڈز ایسوسی ایشن پہلے ہی روزانہ قیمتوں کے طریقہ کار کو مسترد کر چکی ہیں۔ دوسری جانب جماعت اسلامی اگست سے پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس کا لانگ مارچ وزیراعظم سے ملاقات کے انتظار میں معطل ہے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے 100 روپے فی لیٹر رعایت کی اسکیم کا اعلان کیا تھا، جس کے لیے اہل شہری ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی مارکیٹیں رات 9 بجے بند کرنے اور سرکاری گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فراہمی میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی جیسے کفایت شعاری اقدامات بھی بحال ہیں۔


