جمعہ, 6 نومبر 2026
جمعہ, 6 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

وفاقی آئینی عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کو ایم پی او گرفتاریوں کے مقدمات سننے سے روک دیا

News Cuff

بابِ خیبر، خیبر درہ کے داخلی دروازے پر، پشاور کے قریب — فائل فوٹو

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے جمعرات کو پشاور ہائی کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) کے تحت گرفتاریوں سے متعلق مقدمات کی سماعت نہ کرے۔ دو رکنی بینچ نے یہ حکم خیبر پختونخوا حکومت کی درخواستوں پر جاری کیا، اور ساتھ ہی ایڈووکیٹ جنرل سے سات روز میں رپورٹ طلب کر لی۔

دو رکنی بینچ کا حکم
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل بینچ نے قرار دیا کہ 12 اکتوبر 2026 یا اس کے بعد آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں دائر کارروائی آئین کے آرٹیکل 245 کی شق (4) کے تحت معطل رہے گی۔ عدالت نے اپنے حکم میں لکھا کہ مسلح افواج کو 11 اکتوبر کے حکم کے تحت صوبے بھر میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا، اور اگلے روز وزارت دفاع نے اس سلسلے میں آفس میمورنڈم بھی جاری کیا تھا۔

ہائی کورٹ نے کیا ریلیف دیا تھا
ایمرجنسی اور گورنر راج کے اعلان کے فوراً بعد پشاور ہائی کورٹ نے ایم پی او کی دفعہ 3 کے تحت گرفتار کئی کارکنوں کو ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں پر ضمانت دے دی تھی۔ ہائی کورٹ نے یہ عبوری احکامات صوبائی حکومت کی رپورٹ کے بغیر جاری کیے تھے، جس میں گرفتاریوں کی وجوہات اور حالات بتائے جانے تھے۔ عدالت نے گورنر اور اسپیکر سے گورنر راج پر جواب بھی طلب کیا تھا۔

صوبائی حکومت کا موقف
ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا نے عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ نے فوج کی تعیناتی کے بعد آرٹیکل 245 کی واضح شقوں کو نظر انداز کرتے ہوئے درخواستیں سنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 245 کی شق (3) کے تحت ہائی کورٹ ان علاقوں میں آرٹیکل 199 کا اختیار استعمال نہیں کر سکتی جہاں مسلح افواج سول طاقت کی مدد میں کام کر رہی ہوں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہائی کورٹ نے عبوری مرحلے پر حتمی ریلیف دے دیا، جو کسی صورت جائز نہیں، اور اس سے ایم پی او جیسا قانون بے اثر ہو گیا۔

سماعت کے دوران دلائل
سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے سوال کیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ میں روزانہ کئی درخواستیں آتی ہیں، تو کیا ہائی کورٹ روزمرہ کے مقدمات بھی نہیں سنے گی؟ دوسری جانب مدعا علیہان کے وکیل شاہ فیصل الیاس نے حکم پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو حکم امتناعی جاری کرنے سے پہلے ان کا موقف سننا چاہیے تھا۔ چیف جسٹس نے انہیں حکم پڑھ کر اعتراضات داخل کرنے کی ہدایت کی۔

سات روز میں رپورٹ طلب
عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل کو سات روز میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا جس میں بتایا جائے کہ صوبے کے کن علاقوں میں فوج کی موجودگی اب ضروری نہیں رہی۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹ دیکھنے کے بعد وہ اپنے حکم میں ترمیم پر غور کر سکتی ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کیے اور چونکہ معاملہ آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے، اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

ساٹھ سے زائد اپیلیں زیر سماعت
ایڈیشنل چیف سیکرٹری محکمہ داخلہ و قبائلی امور کی جانب سے ہائی کورٹ کے عبوری احکامات کے خلاف ساٹھ سے زائد اپیلیں آئینی عدالت میں دائر کی گئی ہیں۔ ان احکامات میں ہائی کورٹ نے کارکنوں کی گرفتاری سے روکا تھا اور کہا تھا کہ مقدمات زیر التوا رہنے تک انہیں گرفتار نہ کیا جائے۔

سہیل آفریدی کا معاملہ بھی زیر التوا
صوبے کے غیر فعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کا معاملہ بھی پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ ان کے بھائی نے 13 اکتوبر کو عدالت سے رجوع کیا تھا۔ منگل کو ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ آفریدی، اسپیکر بابر سلیم سواتی اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کے ٹھکانے سے متعلق درخواستوں پر لارجر بینچ بنایا جائے۔

پی ٹی آئی کا ردعمل
تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے فیصلے کو "انتہائی افسوسناک” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے ایم پی او کے تحت گرفتار "بے گناہ” کارکنوں کے مقدمات سننے سے ہائی کورٹ کو روک دیا ہے۔

پس منظر
11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا گیا تھا، جس کے بعد تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ختم ہو گئی اور اختیارات گورنر فیصل کریم کنڈی کو منتقل ہو گئے تھے۔ پشاور ہائی کورٹ میں یہ مقدمات 12 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر تھے، جو اب معطل ہو گئے ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے