گاجر کا حلوہ گھر پر بنائیں: دودھ میں گھلی گاجریں، کھویا اور الائچی کی خوشبو کے ساتھ اصل دیسی مزہ

سردیوں کی شام اور گاجر کا حلوہ، یہ جوڑی ہمارے گھروں میں برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ اصل راز مہنگے اجزا میں نہیں، صبر میں ہے: گاجروں کو دودھ میں آہستہ آہستہ اتنا پکانا ہے کہ دودھ خود گاجروں میں گھل جائے۔ جلدی کریں گے تو حلوہ پانی چھوڑے گا اور وہ گاڑھا، دھیمی آنچ والا مزہ نہیں آئے گا۔
اجزا
ایک کلو لال اور رس بھری گاجریں، دھو کر چھیل کر کدوکش کی ہوئی؛ ایک لیٹر فل کریم دودھ؛ دو سو گرام چینی، میٹھا ذائقے کے مطابق کم یا زیادہ کر لیں؛ دو سو پچاس گرام کھویا کرمبل کیا ہوا؛ چار سے پانچ کھانے کے چمچ دیسی گھی؛ آدھا چائے کا چمچ الائچی پاؤڈر؛ دو کھانے کے چمچ بادام اور پستہ کترا ہوا؛ ایک کھانے کا چمچ کشمش۔
ترکیب
بھاری پیندے کی کڑاہی میں ایک چمچ گھی گرم کر کے کدوکش گاجریں ڈالیں اور پانچ سات منٹ بھونیں، کچی مہک نکل جائے گی۔ اب دودھ ڈال کر درمیانی آنچ پر پکائیں اور وقفے وقفے سے چمچ چلاتے رہیں۔ چالیس پینتالیس منٹ میں دودھ تقریباً خشک ہو جائے گا اور گاجریں نرم اور چمک دار ہو جائیں گی۔ چینی اسی مرحلے پر ڈالیں، پہلے ڈالیں گی تو گاجریں پانی چھوڑ کر سخت رہ جائیں گی۔ چینی کا پانی بھی خشک ہو جائے تو کھویا اور باقی گھی ملا کر آٹھ دس منٹ اچھی طرح بھونیں، یہاں تک کہ حلوہ کڑاہی کے کنارے چھوڑنے لگے اور گھی ہلکا سا الگ نظر آئے۔ آخر میں الائچی پاؤڈر ملا کر آنچ بند کر دیں۔
پیشکش
حلوہ گرم گرم پیش کریں، اوپر بادام، پستہ اور کشمش چھڑکیں۔ ایک نکتہ یاد رکھیں: لال دیسی گاجریں ہی اصل رنگ اور مٹھاس دیتی ہیں، نارنجی گاجروں سے حلوہ پھیکا رہتا ہے۔ بچا ہوا حلوہ فریج میں چار پانچ دن آرام سے چلتا ہے، اور اکثر تو اگلے دن اس کا مزہ اور بڑھ جاتا ہے۔



