لاہور ہائیکورٹ نے لاپتا ٹی ایل پی رہنماؤں سعد رضوی اور انس رضوی کے بارے میں وزارت داخلہ سے 27 اکتوبر تک رپورٹ طلب کر لی

لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے لاپتا رہنماؤں سعد رضوی اور انس رضوی کے بارے میں وفاقی وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ عدالت نے وزارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ 27 اکتوبر تک درخواست پر اپنا جواب داخل کرے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پنجاب پولیس کے 30 تھانوں کے ایس ایچ اوز نے عدالت کو بتا دیا کہ انہوں نے دونوں بھائیوں کو گرفتار ہی نہیں کیا۔
درخواست کس نے دائر کی، سماعت میں کیا ہوا
جسٹس محمد جواد ظفر نے ٹی ایل پی رہنما ثروت فاطمہ کی درخواست پر سماعت کی، جس میں دونوں بھائیوں کی مبینہ حراست کو چیلنج کرتے ہوئے ان کی بازیابی کی استدعا کی گئی ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ برہان معظم ملک پیش ہوئے، جبکہ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل فرخ خان لودھی نے ان 30 تھانوں کی رپورٹیں عدالت میں جمع کرائیں جہاں ٹی ایل پی قیادت کے خلاف مجموعی طور پر 54 مقدمات درج ہیں۔ تمام ایس ایچ اوز نے گرفتاری سے انکار کیا، البتہ یہ ضرور بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے سعد رضوی کو چار اور انس رضوی کو پانچ مقدمات میں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کر رکھے ہیں۔
دونوں بھائی کہاں ہیں؟ دعوے آمنے سامنے
سعد اور انس رضوی گزشتہ برس 13 اکتوبر کو مریدکے کے قریب ٹی ایل پی مظاہرین کے خلاف پولیس آپریشن کے بعد سے لاپتا ہیں۔ پولیس کا موقف ہے کہ دونوں بھائی آزاد جموں و کشمیر فرار ہو گئے تھے اور وہ کسی ادارے کی حراست میں نہیں ہیں۔ اس کے برعکس ٹی ایل پی کا الزام ہے کہ دونوں کو اداروں نے حراست میں لے رکھا ہے۔ ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے، اور اب وزارت داخلہ کے جواب پر نظریں ہیں کہ 27 اکتوبر کی سماعت میں ریاست عدالت کو کیا بتاتی ہے۔



