پنجابی فلم ’’مینگو جٹ‘‘ آج سے دنیا بھر کے سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش، حریم فاروق کا کہنا ہے یہ فلم پورے پاکستان کے لیے ہے

اداکارہ اور پروڈیوسر حریم فاروق کی پنجابی فلم ’’مینگو جٹ‘‘ آج، 16 اکتوبر، سے پاکستان سمیت برطانیہ، امریکا، متحدہ عرب امارات اور کینیڈا کے سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش ہو گئی ہے۔ فلم میں ان کے مدمقابل فیصل قریشی ہیں، جو ایک سخت مزاج مگر غیر معمولی حد تک ایماندار پولیس افسر مراد جٹ کا کردار نبھا رہے ہیں۔ حریم خود نور جہاں بنی ہیں — ان کے الفاظ میں ایک مکمل پنجابی جٹی۔
دس برس کا خواب
حریم کا کہنا ہے کہ وہ کم از کم ایک دہائی سے پنجابی فلم بنانا چاہتی تھیں۔ ان کی کوشش تھی کہ پنجاب کو اس انداز سے دکھایا جائے جس پر پنجابی خود فخر کر سکیں، اور وہ پرانا تاثر ٹوٹے جس میں پنجابی فلم کو خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں سمجھا جاتا تھا۔ کراچی میں فلم کی میوزک لانچ پر انہوں نے زور دیا کہ یہ فلم صرف پنجاب کے لیے نہیں، پورے پاکستان کے لیے ہے، اور زبان کو اس کی رسائی کی حد نہیں بننا چاہیے۔ فلم ان کے اپنے بینر حمیم فلمز کے تحت بنی ہے۔
ایکشن، کامیڈی اور خاندانی کہانی
’’مینگو جٹ‘‘ میں ایکشن، کامیڈی، رومانس اور ڈرامہ ایک ساتھ رکھا گیا ہے۔ کہانی میں مراد جٹ ایک خاندان کو اس کے خطرناک سابق ساتھی سے بچانے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اور اسی کشمکش کے بیچ مرکزی رومانوی لڑی بنتی ہے۔ کاسٹ میں شمون عباسی، قیصر پیا، عائشہ جہانزیب اور ہنی البیلا بھی شامل ہیں۔ ریلیز سے پہلے ماہرا خان نے بھی سوشل میڈیا پر فلم کی ٹیم کو نیک خواہشات بھیجیں اور ناظرین سے ٹکٹیں پہلے سے بک کرانے کی اپیل کی — ایڈوانس بکنگ پہلے ہی کھل چکی تھی۔ حریم مانتی ہیں کہ مشکل شوٹنگ حالات کے باوجود ٹیم نے دل سے کام کیا، اور فلم کا سینما تک پہنچنا ہی ان کے لیے کامیابی ہے۔



