سیول اجلاس میں پاکستان کی اردو اے آئی ماڈل "براق” کا اعلان: 2030 تک ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کا عزم

سیول: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے پاکستان کا اپنا اردو لارج لینگویج ماڈل "براق” متعارف کرانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان سیول میں جاری گلوبل اے آئی اینڈ ڈیجیٹل سمٹ 2026 کے موقع پر کیا، جو 19 سے 22 اکتوبر تک ورلڈ بینک گروپ اور جنوبی کوریا کی وزارتوں کی میزبانی میں منعقد ہوا۔
قومی اے آئی پروگرام کے دو ستون
براق، نیشنل آرٹیفشل انٹیلی جنس اینڈ ایمرجنگ ٹیکنالوجیز ڈیولپمنٹ پروگرام (NAIEDP) کا حصہ ہے۔ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق پروگرام کے دو بنیادی ستون ہیں: پہلا، خودمختار ملکی اے آئی کمپیوٹنگ صلاحیت کا حصول تاکہ ڈیٹا کی پراسیسنگ پاکستان کے اندر ہو؛ اور دوسرا، براق لارج لینگویج ماڈل کی تیاری۔
اردو ویب پر صرف 0.03 فیصد
حکومت کے مطابق یہ فیصلہ ایک بنیادی خامی کی وجہ سے کیا گیا — کامن کرال کے ڈیٹا کے مطابق اردو عالمی ویب مواد کا محض 0.03 فیصد ہے، جس کی وجہ سے موجودہ اے آئی ماڈلز اردو اور علاقائی زبانوں کو ٹھیک طرح نہیں سمجھتے۔ اسی لیے براق کو "صفر سے” بنانے کا عزم کیا گیا ہے۔
2030 تک ایک ارب ڈالر
حکومت نے 2030 تک اے آئی، ریگولیٹری اصلاحات اور سرکاری شعبے کے اے آئی منصوبوں (فلاحی، صحت اور ٹیکس نظام سمیت) کے لیے ایک ارب ڈالر کی فنڈنگ کا عہد کیا ہے۔ اسی سمٹ میں پاکستان نے ڈیجیٹل اور اے آئی کمپیکٹ پر دستخط کرنے والا پہلا ملک ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
چار ڈیجیٹل بنیادیں
حکومت نے چار مضبوط ڈیجیٹل بنیادوں کا حوالہ دیا: نادرا کی ڈیجیٹل شناخت (دس کروڑ سے زائد پاکستانی)، اسٹیٹ بینک کی راست فوری ادائیگی نظام، واسل قومی ڈیٹا ایکسچینج، اور ٹیلی نار پاکستان–ڈیٹا والٹ پاکستان کے ذریعے پہلا مقامی اے آئی کلاؤڈ۔
ابتدائی مرحلہ — لیکن سوال باقی
ٹیکنالوجی مبصرین کے مطابق یہ اعلان ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے — ماڈل عوام کے لیے دستیاب نہیں اور اس کی فراہمی ہی اصل سوال ہے۔ پھر بھی، یہ پاکستان کی ٹیکنالوجی کی تاریخ کا سب سے اہم اے آئی اعلان سمجھا جا رہا ہے۔



