پاکستان ڈیجیٹل اور اے آئی معاہدے پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے، شزا فاطمہ خواجہ عالمی سمٹ کے لیے سیول روانہ ہو گئیں

اسلام آباد: یہ اعزاز کسی بڑے اعلان سے پہلے ہی مل گیا ہے۔ پاکستان ڈیجیٹل اے آئی کمپیکٹ (Digital AI Compact) پر دستخط کرنے والا پہلا ملک بننے جا رہا ہے، اور اسی سلسلے میں وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی مواصلات شزا فاطمہ خواجہ جنوبی کوریا روانہ ہو گئی ہیں۔ وہ 19 سے 22 اکتوبر تک سیول میں ہونے والی عالمی اے آئی اور ڈیجیٹل سمٹ 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کریں گی۔
سمٹ میں پاکستان کا روڈ میپ پیش ہوگا
سمٹ کی میزبانی ورلڈ بینک گروپ، جنوبی کوریا کی وزارت سائنس و آئی سی ٹی اور وزارت خزانہ و معیشت مشترکہ طور پر کر رہے ہیں۔ شزا فاطمہ اے آئی اور ڈیجیٹل وزارتی اجلاس میں شریک ہوں گی، جہاں بحث کا محور پاکستان کی مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل شمولیت کی ترجیحات ہوں گی۔ کمپیکٹ کے لیے مختص سیشن میں وہ ملک کا مستقبل کا روڈ میپ پیش کریں گی — یعنی ڈیجیٹل تبدیلی اور اے آئی کو آگے لے جانے کا سرکاری نقشہ، اپنی زبانی۔
گوگل اور ورلڈ بینک سے الگ ملاقاتیں بھی طے ہیں
دورے میں صرف سیشن ہی نہیں ہیں۔ وزیر کی گوگل کے نائب صدر سے دوطرفہ ملاقات طے ہے، اور ورلڈ بینک کے نائب صدر سے بھی تعاون کے شعبوں پر بات ہوگی۔ وہ ان سیشنز میں بھی حصہ لیں گی جن میں دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل خدمات تک منصفانہ رسائی پر گفتگو ہوگی — وہی سوال جو پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں روز پوچھا جاتا ہے۔
پس منظر میں ریکارڈ برآمدات اور تیس لاکھ ملازمتوں کا ہدف
یہ پیش رفت خلا میں نہیں ہو رہی۔ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی آئی ٹی اور ٹیلی کام برآمدی ترسیلات ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچیں، اور قومی اے آئی پالیسی 2025 کے تحت حکومت نے 2030 تک اے آئی سے جڑی تیس لاکھ ملازمتیں پیدا کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیول میں پیش ہونے والا روڈ میپ ان اعداد کو زمین پر کتنا بدل پاتا ہے۔



