پشاور اور خیبر میں 26 اکتوبر سے پولیو بوسٹر مہم چلے گی، چار ماہ سے دس سال تک کے بچوں کو سوئی کے بغیر جیٹ انجیکٹر سے ویکسین لگائی جائے گی

پشاور اور ضلع خیبر میں اس ماہ کے آخر میں بچوں کو پولیو سے اضافی تحفظ دینے کی ایک اور کوشش شروع ہو رہی ہے۔ بوسٹر مہم 26 اکتوبر سے 31 اکتوبر تک چلے گی اور اس دوران چار ماہ سے دس سال سے کم عمر بچوں کو آئی پی وی ویکسین لگائی جائے گی۔ اس بار طریقہ بھی مختلف ہے؛ ویکسین سوئی والے انجیکشن سے نہیں، بلکہ سوئی کے بغیر چلنے والے جیٹ انجیکٹر سے دی جائے گی، جس سے بچوں کا خوف بھی کم ہوتا ہے اور کام بھی تیزی سے نمٹتا ہے۔
تیاریوں کا جائزہ اجلاس میں لیا گیا
مہم کی تیاریوں پر کمشنر پشاور ڈویژن کیپٹن (ر) خالد محمود کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں متعلقہ محکموں کے نمائندے شریک تھے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ویکسین ای پی آئی مراکز کے علاوہ آؤٹ ریچ مقامات اور اسکولوں میں بھی دستیاب ہوگی، تاکہ وہ بچے بھی رہ نہ جائیں جو مراکز تک نہیں پہنچ پاتے۔ کمشنر نے مہم کی کامیابی کے لیے انتظامیہ کی مکمل معاونت کا یقین دلایا اور تمام محکموں کو ہدایت کی کہ باہمی رابطہ مؤثر رکھیں اور طے شدہ انتظامات پر عمل میں کوئی کوتاہی نہ ہو۔
خیبر میں کیسز کے بعد نگرانی سخت
یہ مہم اس لیے بھی اہم ہے کہ ضلع خیبر سمیت پشاور بلاک اس سال بھی پولیو کے حوالے سے حساس علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور وہاں نئے کیسز سامنے آتے رہے ہیں۔ ملک بھر میں اس سال کئی بڑی مہمات چلائی جا چکی ہیں، مگر وائرس کی موجودگی یہی بتاتی ہے کہ ایک بھی بچہ ویکسین سے رہ جائے تو خطرہ ختم نہیں ہوتا۔ اب اصل آزمائش میدان میں ہوگی؛ ٹیمیں گھر گھر اور اسکول اسکول پہنچتی ہیں یا نہیں، یہی اس بوسٹر مہم کا اصل نتیجہ طے کرے گا۔



