پنجاب میں خفیہ کیمروں والے جاسوسی آلات پر مکمل پابندی کا فیصلہ، عینک، قلم اور گھڑیوں سمیت ہر پوشیدہ ریکارڈنگ ڈیوائس کی خرید و فروخت پر سخت کارروائی ہوگی

لاہور: پنجاب حکومت نے خفیہ کیمروں اور ریکارڈنگ آلات سے لیس جاسوسی ڈیوائسز پر مکمل پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ عینک ہو، قلم ہو یا گھڑی، جو چیز بھی چھپ کر تصویر یا آواز ریکارڈ کرتی ہے، اس کا استعمال، خرید و فروخت سب اس فیصلے کی زد میں آئے گا۔
فیصلہ کیوں کرنا پڑا؟
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق حالیہ عرصے میں شکایات بڑھ گئی تھیں۔ کہیں خفیہ نگرانی، کہیں ہراسانی اور کہیں ریکارڈنگ کے ذریعے بلیک میلنگ۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ قدم شہریوں کی پرائیویسی اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے لیے اٹھایا گیا ہے، اور اس میں خواتین اور بچوں کی حفاظت خاص طور پر پیش نظر رکھی گئی ہے۔ حکومت کے بقول شہریوں کے بنیادی حقوق اور نجی زندگی کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے، اور خفیہ کیمرے والی روزمرہ اشیا کے غلط استعمال پر سخت سزا ملے گی۔
ابھی کیا واضح نہیں؟
ایک اہم بات ابھی باقی ہے۔ محکمہ داخلہ کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پابندی کب سے نافذ ہوگی، کس قانون کے تحت کارروائی ہوگی اور سزا کیا ہوگی۔ یعنی فیصلہ آ گیا ہے، مگر اس پر عمل درآمد کی تفصیل آنا باقی ہے۔ دکانداروں اور عام شہریوں دونوں کو اسی وضاحت کا انتظار رہے گا، کیونکہ بازار میں ایسی عینک اور گھڑیاں کھلے عام مل رہی ہیں۔
عدالت بھی سوال اٹھا چکی ہے
یہ معاملہ صرف حکومت تک محدود نہیں رہا۔ گزشتہ ماہ ایک شہری نے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی کہ سمارٹ عینک کے ذریعے بغیر اجازت ریکارڈنگ سے پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے، اور گزشتہ ہفتے عدالت نے حکومت سے پوچھا تھا کہ کیا اسے علم ہے کہ ایسی عینک دکانوں پر بک رہی ہے اور اس پر کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔ اب صوبائی فیصلے کے بعد اصل امتحان یہی ہوگا کہ پابندی کاغذ سے نکل کر بازار تک پہنچتی بھی ہے یا نہیں۔



