ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند رہے گا، سعودی فضائی دفاع نے حوثیوں کے تین بیلسٹک میزائل ناکام بنا دیے، بڑی ایئرلائنز نے سعودی عرب کی پروازیں معطل کر دیں

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ 17 اکتوبر تک بند رہے گا، جبکہ سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے کہا ہے کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے داغے گئے تین بیلسٹک میزائل فضا میں ہی ناکام بنا دیے گئے ہیں۔
ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایئرپورٹ کی سرگرمیاں اس لیے معطل رکھی گئی ہیں تاکہ سہولتوں کی حفاظت اور آپریشنل تیاری کو یقینی بنانے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔ فضائی عملے کے لیے جاری نوٹس کے مطابق ایئرپورٹ 17 اکتوبر کو گرینچ معیار وقت کے مطابق رات 9 بجے تک بند رہے گا۔ ایئرپورٹ ہفتے کے روز ہونے والے حملے کے بعد سے بند ہے، جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے، جبکہ اتوار کو ایک اور حملے میں ایک شخص جاں بحق اور تقریباً 11 زخمی ہوئے تھے۔
تین میزائل ناکام بنانے کا دعویٰ
اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق پیر کو ایک بیلسٹک میزائل ریاض کی جانب اور دو میزائل جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے، اور تینوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔ دوسری جانب حوثیوں نے کہا ہے کہ انہوں نے کنگ خالد ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا اور خمیس مشیط کے ایک فضائی اڈے پر ڈرون حملے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم سعودی حکام نے ڈرون حملے کی تصدیق نہیں کی۔
ایئرلائنز کی پروازیں معطل
صورتحال کے باعث دنیا کی بڑی ایئرلائنز نے سعودی عرب کے لیے پروازیں معطل کر دی ہیں۔ بھارتی ایئرلائن انڈیگو نے ریاض، جدہ، دمام اور مدینہ کی پروازیں 17 اکتوبر تک منسوخ کر دی ہیں، لفتھانسا نے ریاض سروس 16 اکتوبر تک اور ایئر فرانس کے ایل ایم نے مہینے کے آخر تک معطل کر دی ہے، جبکہ اتحاد ایئرویز اور قطر ایئرویز نے بھی کئی سعودی روٹس روک دیے ہیں اور امریکی ایئرلائن ڈیلٹا نے اٹلانٹا سے ریاض کی نئی سروس مارچ 2027 تک ملتوی کر دی ہے۔ ہوابازی کے تجزیاتی ادارے سیریم کے مطابق سعودی ایئرپورٹس پر منسوخی کی شرح 46 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔



