سعودی قیادت والے اتحاد کا مدینہ ریجن میں کروز میزائل روک کر تباہ کرنے کا دعویٰ، حوثیوں نے سعودی سرزمین پر کسی بھی حملے سے انکار کر دیا

سعودی قیادت والے فوجی اتحاد نے جمعرات کو کہا ہے کہ مدینہ ریجن میں ایک کروز میزائل روک کر تباہ کر دیا گیا۔ اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایکس پر مختصر بیان میں اس کارروائی کی اطلاع دی، اور یہی بیان سعودی سرکاری میڈیا پر بھی جاری ہوا۔ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ میزائل کہاں سے آیا تھا، اس کا ہدف کیا تھا، اور نہ ہی کسی جانی یا مالی نقصان کا ذکر ہوا۔
حوثیوں کا فوری انکار
یمن کے حوثی گروپ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا کہنا تھا کہ جمعرات کو سعودی سرزمین کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ گروپ پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ مکہ اور مدینہ جیسے مقدس شہروں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا، اسی لیے مدینہ کے حوالے سے سامنے آنے والا دعویٰ اس کے لیے خاصا حساس معاملہ بن گیا ہے۔
حالیہ دنوں کی کشیدگی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ کئی دنوں سے سعودی عرب پر حملوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ تیز ہے۔ ریاض کے ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ حالیہ برسوں کے مہلک ترین واقعات میں شمار ہوا، جس کے بعد سعودی طیاروں نے صنعا میں حوثی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ اتحاد کے مطابق جمعرات کی صبح مشرقی صوبے کے اوپر ایک ڈرون بھی مار گرایا گیا تھا، جبکہ ایک روز پہلے ریاض کی طرف آنے والے بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
مہینے کے آغاز میں اتحاد نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک اسٹیشن پر ڈرون حملہ ہوا تھا۔ یہ اسٹیشن مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے نظام سے جڑا بتایا جاتا ہے۔ تازہ دعوے اور اس کی تردید کے بعد اصل صورتحال آزادانہ طور پر واضح نہیں ہو سکی، تاہم خطے میں جاری لڑائی کا دائرہ مقدس شہروں کے قریب پہنچنے کا تاثر خود ایک بڑی خبر ہے۔



