پیر, 12 اکتوبر 2026
پیر, 12 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ•

سورتوں کے تعارف — قرآن مجید کی 114 سورتیں

قرآن مجید کی تمام 114 سورتوں کا مختصر تعارف — ہر سورت کے نام کا مطلب، مکی یا مدنی ہونے، آیات کی تعداد اور اہم موضوعات کے ساتھ۔ کسی سورت کا نام یا نمبر لکھ کر تلاش کریں:

کل سورتیں: 114

سورت 1سُورَةُ الفاتحةAl-Fatihah — The Opener

مکی سورت • آیات: 7

سورۃ الفاتحہ قرآن مجید کی پہلی سورت ہے؛ اس کے نام کا مطلب ہے «کھولنے والی»، کیونکہ اسی سے کتاب الٰہی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات سات ہیں۔ اسے ام الکتاب بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، اس کی رحمت و ربوبیت کا بیان، صرف اسی کی عبادت اور اسی سے مدد مانگنے کا اقرار، اور سیدھے راستے کی دعا شامل ہے۔

سورت 2سُورَةُ البقرةAl-Baqarah — The Cow

مدنی سورت • آیات: 286

سورۃ البقرہ قرآن کی سب سے طویل سورت ہے؛ اس کا نام بنی اسرائیل کے دور میں گائے ذبح کرنے کے مشہور واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات دو سو چھیاسی ہیں۔ اس میں ایمان کے اصول، نماز، روزے، حج اور زکاۃ کے احکام، سود کی حرمت، لین دین کے اصول، بنی اسرائیل کی تاریخ اور ان کی سرکشی کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ اسی میں آیت الکرسی بھی ہے جو اللہ کی عظمت و قدرت کا جامع بیان ہے۔

سورت 3سُورَةُ آل عمرانAli ‘Imran — Family of Imran

مدنی سورت • آیات: 200

سورۃ آل عمران کا نام حضرت عمران کے خاندان سے لیا گیا ہے؛ اسی خاندان میں حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام پیدا ہوئے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات دو سو ہیں۔ اس میں توحید کے دلائل، اہل کتاب خصوصاً عیسائیوں کے عقیدے کی اصلاح، حضرت مریم و عیسیٰ علیہما السلام کا تذکرہ، غزوہ احد کے واقعات اور آزمائش میں ثابت قدمی کی تعلیم دی گئی ہے۔ سورت یہ بھی بتاتی ہے کہ دین کی راہ میں اتحاد اور صبر ہی کامیابی کی کنجی ہے۔

سورت 4سُورَةُ النساءAn-Nisa — The Women

مدنی سورت • آیات: 176

سورۃ النساء کا نام اس لیے رکھا گیا کہ اس میں عورتوں سے متعلق احکام و حقوق تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو چھہتر ہیں۔ اس میں یتیموں اور خواتین کے حقوق، وراثت کی تقسیم، نکاح و خاندان کے اصول، بیوہ و یتیم کے مال کی حفاظت، معاشرے میں عدل و انصاف قائم رکھنے اور کمزور طبقوں سے حسن سلوک کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس سورت کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ معاشرہ انصاف اور رحم پر قائم ہو۔

سورت 5سُورَةُ المائدةAl-Ma’idah — The Table Spread

مدنی سورت • آیات: 120

سورۃ المائدہ کا نام اس واقعے سے لیا گیا ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے آسمان سے دسترخوان اترنے کی فرمائش کی تھی۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو بیس ہیں؛ یہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں عہد و پیمان کی پابندی، حلال و حرام خوراک، وضو و طہارت کے مسائل، اہل کتاب سے تعلقات اور عدل و انصاف کے احکام بیان ہوئے ہیں۔

سورت 6سُورَةُ الأنعامAl-An’am — The Cattle

مکی سورت • آیات: 165

سورۃ الانعام کا نام مویشیوں یعنی انعام کے ذکر سے لیا گیا ہے، کیونکہ اس میں مشرکین کے مویشیوں بارے باطل عقائد کی تردید آئی ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو پینسٹھ ہیں۔ اس کا بنیادی موضوع توحید ہے: کائنات کی نشانیوں سے اللہ کی وحدانیت کے دلائل دیے گئے، شرک و بت پرستی کی تردید کی گئی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تلاش حق کا واقعہ بیان ہوا، اور انبیائے کرام کے تذکرے کے بعد وحی و رسالت کی صداقت واضح کی گئی ہے۔

سورت 7سُورَةُ الأعرافAl-A’raf — The Heights

مکی سورت • آیات: 206

سورۃ الاعراف کا نام «اعراف» سے لیا گیا ہے، جو جنت و دوزخ کے درمیان ایک بلند مقام کا نام ہے جس کا ذکر اس سورت میں آتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات دو سو چھ ہیں۔ اس میں آدم علیہ السلام و ابلیس کا واقعہ، حضرت نوح، ہود، صالح، لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کی اقوام کے انجام، شیطان کی چالوں سے خبرداری، اور آخرت میں حساب و جزا کا تفصیلی بیان ہے۔ انبیاء کی پیروی ہی نجات کا راستہ ہے۔

سورت 8سُورَةُ الأنفالAl-Anfal — The Spoils of War

مدنی سورت • آیات: 75

سورۃ الانفال کا نام «انفال» یعنی مال غنیمت سے لیا گیا ہے۔ مشہور سبب نزول یہ ہے کہ یہ سورت غزوہ بدر کے بعد نازل ہوئی، جب مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں سوال اٹھا تھا۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات پچھتر ہیں۔ اس میں غزوہ بدر کے واقعات، اللہ کی مدد و نصرت، جہاد و جنگ کے اصول و آداب، مال غنیمت کی تقسیم، اور اللہ و رسول کی اطاعت اور تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

سورت 9سُورَةُ التوبةAt-Tawbah — The Repentance

مدنی سورت • آیات: 129

سورۃ التوبہ کا نام اس لیے رکھا گیا کہ اس میں توبہ کا ذکر بار بار اور تفصیل سے آیا ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو انتیس ہیں؛ اس کا پس منظر زیادہ تر غزوہ تبوک، اور یہ واحد سورت ہے جو بسم اللہ سے شروع نہیں ہوتی۔ اس میں مشرکین سے اظہار براءت، منافقین کے کردار کا پردہ چاک، جہاد و انفاق کی ترغیب، اور سچی توبہ پر اللہ کی قبولیت و رحمت کا بیان ہے۔

سورت 10سُورَةُ يونسYunus — Jonah

مکی سورت • آیات: 109

سورۃ یونس کا نام حضرت یونس علیہ السلام کے ذکر کی وجہ سے رکھا گیا ہے، جن کی قوم نے ایمان لا کر عذاب سے نجات پائی تھی۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو نو ہیں۔ اس میں توحید کے دلائل، وحی و قرآن کی صداقت، کائنات میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں، حضرت نوح، موسیٰ اور یونس علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ سورت یہ سبق دیتی ہے کہ مصیبت میں اللہ کی طرف رجوع اور سچی توبہ نجات کا ذریعہ ہے۔

سورت 11سُورَةُ هودHud — Hud

مکی سورت • آیات: 123

سورۃ ہود کا نام حضرت ہود علیہ السلام سے لیا گیا ہے، جنہیں قوم عاد کی طرف بھیجا گیا تھا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو تئیس ہیں۔ اس میں حضرت نوح، ہود، صالح، ابراہیم، لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کی دعوت اور ان کی اقوام کے عبرتناک انجام بیان ہوئے ہیں۔ سورت کا بڑا مقصد نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی دینا اور دعوت کی راہ میں استقامت و ثابت قدمی کی تعلیم دینا ہے۔

سورت 12سُورَةُ يوسفYusuf — Joseph

مکی سورت • آیات: 111

سورۃ یوسف کا نام اور موضوع دونوں حضرت یوسف علیہ السلام ہیں، کیونکہ پوری سورت میں انہی کا قصہ بیان ہوا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو گیارہ ہیں۔ اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بچپن کے خواب سے لے کر بھائیوں کی سازش، غلامی و قید کی آزمائشوں، عفت و صبر، اور بالآخر مصر میں عزت و اقتدار تک کا سفر بیان ہے۔ اسے قرآن نے بہترین قصہ کہا ہے؛ پیغام یہ ہے کہ صبر و بھروسے کا پھل ضرور ملتا ہے۔

سورت 13سُورَةُ الرعدAr-Ra’d — The Thunder

مدنی سورت • آیات: 43

سورۃ الرعد کا نام رعد یعنی بادل کی گرج سے لیا گیا ہے، جس کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ بھی اللہ کی تسبیح کرتی ہے۔ یہ اس فہرست کے مطابق مدنی سورت ہے اور اس کی آیات تنتالیس ہیں۔ اس میں آسمان و زمین کی پیدائش، بارش و فصلوں اور کائنات کے نظام سے اللہ کی قدرت و وحدانیت کے دلائل دیے گئے ہیں، اور صبر، وعدے کی پابندی اور ذکر الٰہی سے دلوں کے اطمینان کا ذکر ہے۔

سورت 14سُورَةُ ابراهيمIbrahim — Abraham

مکی سورت • آیات: 52

سورۃ ابراہیم کا نام حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیا گیا ہے، جن کی دعاؤں کا ذکر اس سورت کے آخری حصے میں آتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات باون ہیں۔ اس میں قرآن کو ظلمت سے نور کی طرف نکالنے والی کتاب قرار دیا گیا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ، نعمتوں پر شکر اور ناشکری کے انجام کا بیان ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مکہ کے لیے امن و رزق کی دعائیں بھی اسی سورت کی پہچان ہیں۔

سورت 15سُورَةُ الحجرAl-Hijr — The Rocky Tract

مکی سورت • آیات: 99

سورۃ الحجر کا نام حجر سے لیا گیا ہے، جو قوم ثمود کا علاقہ تھا اور جس کے باشندوں نے اپنے گھر پہاڑوں میں تراش رکھے تھے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ننانوے ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے، حضرت آدم علیہ السلام و ابلیس کا واقعہ، حضرت ابراہیم و لوط علیہم السلام کے مہمانوں کا تذکرہ، اور قوم ثمود سمیت سابقہ نافرمان اقوام کے انجام بیان ہوئے ہیں، تاکہ مکرر انکار کرنے والوں کو عبرت ہو۔

سورت 16سُورَةُ النحلAn-Nahl — The Bee

مکی سورت • آیات: 128

سورۃ النحل کا نام شہد کی مکھی سے لیا گیا ہے، جس کی طرف اللہ کی وحی و الہام کا ذکر اس سورت میں آیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو اٹھائیس ہیں۔ اس کو نعمتوں والی سورت بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس میں بارش، فصلیں، مویشی، سمندر، شہد اور بے شمار نعمتوں کا شمار کر کے اللہ کی وحدانیت و قدرت بتائی گئی ہے۔ اس میں عدل و احسان کا مشہور حکم اور دعوت کا حکمت بھرا اسلوب بھی ہے۔

سورت 17سُورَةُ الإسراءAl-Isra — The Night Journey

مکی سورت • آیات: 111

سورۃ الاسراء کا نام اس رات کے سفر سے لیا گیا ہے جس میں نبی کریم ﷺ کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے جایا گیا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو گیارہ ہیں۔ اس میں واقعہ اسراء کا ذکر، بنی اسرائیل کی تاریخ و انجام، والدین کے حقوق، رشتہ داروں و مسکینوں کے حقوق، مال کی حفاظت، ناحق قتل و زنا کی ممانعت جیسی بنیادی اخلاقی ہدایات، اور نماز و قرآن کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔

سورت 18سُورَةُ الكهفAl-Kahf — The Cave

مکی سورت • آیات: 110

سورۃ الکہف کا نام کہف یعنی غار سے لیا گیا ہے، جس میں چند ایمان دار نوجوانوں نے اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے پناہ لی تھی۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو دس ہیں۔ اس میں اصحاب کہف کا واقعہ، دو باغ والوں کی مثال، حضرت موسیٰ و خضر علیہم السلام کا سفر، اور ذوالقرنین کا تذکرہ ہے۔ یہ واقعات ایمان، مال، علم اور اقتدار کی آزمائشوں میں اللہ کی طرف رجوع کا سبق دیتے ہیں۔

سورت 19سُورَةُ مريمMaryam — Mary

مکی سورت • آیات: 98

سورۃ مریم کا نام حضرت مریم علیہا السلام سے لیا گیا ہے، جن کا مفصل اور پاکیزہ تذکرہ اس سورت میں آیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھانوے ہیں۔ اس میں حضرت زکریا علیہ السلام کی دعا و حضرت یحییٰ کی ولادت، حضرت مریم کے ہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش، حضرت ابراہیم، اسحاق، یعقوب، موسیٰ، اسماعیل و ادریس علیہم السلام کے تذکرے ہیں۔ پوری سورت میں اللہ کی رحمت کا رنگ غالب ہے، اسی لیے لفظ رحمن بار بار آیا ہے۔

سورت 20سُورَةُ طهTaha — Ta-Ha

مکی سورت • آیات: 135

سورۃ طٰہٰ کا نام اس کے ابتدائی حروف «طٰہٰ» سے لیا گیا ہے، جن سے سورت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو پینتیس ہیں۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی کا تفصیلی بیان ہے: ان کی پیدائش و پرورش، نبوت ملنا، فرعون سے مقابلہ، بنی اسرائیل کی نجات، اور بچھڑے کی پوجا کا واقعہ۔ ساتھ ہی حضرت آدم کا قصہ، قیامت کے مناظر اور نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔

سورت 21سُورَةُ الأنبياءAl-Anbya — The Prophets

مکی سورت • آیات: 112

سورۃ الانبیاء کا نام اس لیے رکھا گیا کہ اس میں بہت سے انبیائے کرام کا تذکرہ آیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو بارہ ہیں۔ اس میں قیامت کے قریب ہونے کی تنبیہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بت شکنی کا واقعہ، حضرت ایوب کی آزمائش و شفا، حضرت یونس کی دعا و نجات، حضرت زکریا و یحییٰ اور دیگر انبیاء کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ سورت بتاتی ہے کہ ہر نبی نے توحید ہی کی دعوت دی۔

سورت 22سُورَةُ الحجAl-Hajj — The Pilgrimage

مدنی سورت • آیات: 78

سورۃ الحج کا نام فریضہ حج سے لیا گیا ہے، جس کے مناسک و احکام کا بیان اس سورت میں آیا ہے۔ یہ فہرست کے مطابق مدنی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھتر ہیں۔ اس میں قیامت کے زلزلے کی ہولناکی، انسان کی پیدائش کے مراحل سے دوبارہ زندگی کے دلائل، کعبہ کی تعمیر و حج کی دعوت، قربانی کے مقاصد اور اللہ کی راہ میں جہاد کی اجازت کا ذکر ہے۔ مرکزی پیغام یہ ہے کہ عبادات کا اصل مقصد تقویٰ ہے، نہ کہ رسم و نمائش۔

سورت 23سُورَةُ المؤمنونAl-Mu’minun — The Believers

مکی سورت • آیات: 118

سورۃ المؤمنون کا نام اس کے آغاز سے لیا گیا ہے، جہاں کامیاب مؤمنوں کی صفات بیان کر کے انہیں خوشخبری دی گئی ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو اٹھارہ ہیں۔ اس میں مؤمن کی نماز میں خشوع، لغو سے پرہیز، زکاۃ، پاکدامنی اور امانت و وعدے کی پابندی جیسی صفات، انسان کی تخلیق کے مراحل، حضرت نوح، موسیٰ و دیگر انبیاء کے واقعات، اور قیامت میں انکار کرنے والوں کے پچھتاوے کا بیان ہے۔

سورت 24سُورَةُ النورAn-Nur — The Light

مدنی سورت • آیات: 64

سورۃ النور کا نام اس مشہور آیت سے لیا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کو آسمانوں و زمین کا نور کہا گیا ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات چونسٹھ ہیں۔ اس میں معاشرت و اخلاق کے اہم احکام بیان ہوئے ہیں: بدکاری و تہمت کی سزائیں، نظر کی حفاظت و پردے کے اصول، گھروں میں اجازت لے کر داخل ہونا، نکاح کی ترغیب، اور گھریلو زندگی کے آداب۔ سورت کا مقصد پاکیزہ معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں عزت و حیا کی حفاظت ہو۔

سورت 25سُورَةُ الفرقانAl-Furqan — The Criterion

مکی سورت • آیات: 77

سورۃ الفرقان کا نام فرقان سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز؛ اس سے مراد قرآن مجید ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ستتر ہیں۔ اس میں قرآن کے نزول کی عظمت، مشرکین کے اعتراضات کے جوابات، اللہ کی قدرت کی نشانیاں جیسے رات و دن اور سمندروں کا نظام، اور قیامت میں کفار کے حسرت بھرے انجام کا ذکر ہے۔ سورت کے آخر میں «عباد الرحمن» یعنی رحمن کے خاص بندوں کی خوبصورت صفات بیان ہوئی ہیں۔

سورت 26سُورَةُ الشعراءAsh-Shu’ara — The Poets

مکی سورت • آیات: 227

سورۃ الشعراء کا نام شعراء یعنی شاعروں سے لیا گیا ہے، جن کا ذکر سورت کے آخری حصے میں آیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات دو سو ستائیس ہیں۔ اس میں حضرت موسیٰ و فرعون کا مقابلہ، حضرت ابراہیم کی دعوت، اور حضرت نوح، ہود، صالح، لوط و شعیب علیہم السلام کی اقوام کے انجام سلسلہ وار بیان ہوئے ہیں۔ آخر میں بتایا گیا کہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں، اللہ کا پیغام ہے۔

سورت 27سُورَةُ النملAn-Naml — The Ant

مکی سورت • آیات: 93

سورۃ النمل کا نام نمل یعنی چیونٹی سے لیا گیا ہے، جس کی بات حضرت سلیمان علیہ السلام نے سن کر مسکراہٹ فرمائی تھی۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ترانوے ہیں۔ اس میں حضرت داؤد و سلیمان علیہم السلام کو عطا کردہ علم و سلطنت، ہدہد و ملکہ سبا کا مشہور واقعہ، حضرت صالح و لوط علیہم السلام کے تذکرے، اور قیامت کی نشانیوں میں دابۃ الارض کا ذکر ہے۔ سورت اللہ کی نعمتوں پر شکر و تواضع کا درس دیتی ہے۔

سورت 28سُورَةُ القصصAl-Qasas — The Stories

مکی سورت • آیات: 88

سورۃ القصص کا نام قصص یعنی واقعات و قصوں سے لیا گیا ہے، کیونکہ اس میں تاریخی واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھاسی ہیں۔ اس کا بڑا حصہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی پر ہے: فرعون کے ظلم میں پیدائش، دریا میں ڈالا جانا، مدین کا قیام، نبوت و فرعون سے مقابلہ۔ آخر میں قارون کے خزانوں و انجام کا واقعہ ہے۔ سورت کا پیغام یہ ہے کہ ظالم طاقتیں عارضی ہوتی ہیں اور اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے۔

سورت 29سُورَةُ العنكبوتAl-‘Ankabut — The Spider

مکی سورت • آیات: 69

سورۃ العنکبوت کا نام مکڑی سے لیا گیا ہے، جس کے کمزور جالے کی مثال دے کر اللہ کے سوا سہاروں کی بے بسی سمجھائی گئی ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات انہتر ہیں۔ اس کا مرکزی موضوع ایمان کی آزمائش ہے: فرمایا گیا کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے ضرور آزمائے جائیں گے۔ حضرت نوح، ابراہیم و لوط علیہم السلام کے واقعات، اللہ کی نشانیوں پر غور،۔

سورت 30سُورَةُ الرومAr-Rum — The Romans

مکی سورت • آیات: 60

سورۃ الروم کا نام رومی سلطنت سے لیا گیا ہے؛ سورت کے آغاز میں مشہور پیشگوئی ہے کہ رومی شکست کے بعد چند ہی سال میں دوبارہ غالب آئیں گے، اور یہ بات اسی طرح پوری ہوئی۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ساٹھ ہیں۔ اس میں اللہ کی قدرت کی نشانیاں بیان ہوئی ہیں: انسان کی پیدائش، زبانوں و رنگوں کا اختلاف، نیند و رزق کی تلاش، رشتہ داری میں محبت و رحمت۔ ساتھ ہی سود کی مذمت اور فطرت پر قائم رہنے کی تلقین ہے۔

سورت 31سُورَةُ لقمانLuqman — Luqman

مکی سورت • آیات: 34

سورۃ لقمان کا نام حضرت لقمان سے لیا گیا ہے، جو اپنی حکمت و دانائی کے لیے مشہور ہیں اور جن کی بیٹے کو نصیحتیں اس سورت میں نقل ہوئی ہیں۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات چونتیس ہیں۔ اس میں شرک سے بچنے، والدین کے حقوق ادا کرنے، نماز قائم کرنے، نیکی کا حکم و برائی سے روکنے، صبر، تواضع اور غرور سے بچنے کی تعلیمات ہیں۔ ساتھ ہی کائنات کی نشانیوں سے اللہ کی قدرت اور قرآن کی حقانیت بیان ہوئی ہے۔

سورت 32سُورَةُ السجدةAs-Sajdah — The Prostration

مکی سورت • آیات: 30

سورۃ السجدہ کا نام سجدے سے لیا گیا ہے، کیونکہ اس میں ایک آیت ایسی ہے جس کی تلاوت پر سجدہ کیا جاتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات تیس ہیں۔ اس میں قرآن کے اللہ کی طرف سے نازل ہونے، آسمان و زمین کی تخلیق و تدبیر، انسان کی پیدائش، نیک و بد کے انجام کے فرق، اور رات کی عبادت کرنے والوں کے انعامات کا بیان ہے۔۔

سورت 33سُورَةُ الأحزابAl-Ahzab — The Combined Forces

مدنی سورت • آیات: 73

سورۃ الاحزاب کا نام احزاب یعنی اتحادی لشکروں سے لیا گیا ہے، جو غزوہ خندق میں مدینہ پر چڑھائی کے لیے جمع ہوئے تھے؛ یہی پس منظر اس سورت کا بڑا حصہ ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات تہتر ہیں۔ اس میں غزوہ خندق و بنو قریظہ کے واقعات، ازواج مطہرات کے مقام و احکام، گود لیے بچوں بارے اصول، منافقین کے رویے، اور نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنے کا مشہور حکم بیان ہوا ہے۔ سورت اللہ و رسول کی کامل اطاعت کا درس دیتی ہے۔

سورت 34سُورَةُ سبإSaba — Sheba

مکی سورت • آیات: 54

سورۃ سبا کا نام یمن کی مشہور قوم سبا سے لیا گیا ہے، جس کے انجام کا واقعہ اس سورت میں بیان ہوا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات چون ہیں۔ اس میں حضرت داؤد و سلیمان علیہم السلام پر اللہ کی نعمتوں، قوم سبا کی خوشحالی، پھر ناشکری پر سیلاب سے ان کی بربادی کا ذکر ہے۔ سورت کا پیغام یہ ہے کہ نعمت کی قدر شکر سے ہوتی ہے؛ ساتھ ہی قیامت اور رزق کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہونے کا بیان ہے۔

سورت 35سُورَةُ فاطرFatir — Originator

مکی سورت • آیات: 45

سورۃ فاطر کا نام اللہ تعالیٰ کی صفت «فاطر» سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے آسمانوں و زمین کو پیدا کرنے والا، آغاز کرنے والا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پینتالیس ہیں۔ اس میں فرشتوں کی تخلیق، بارش سے مردہ زمین کی زندگی، سمندروں کے پانی، اور انسانوں کے رنگ و زبان کے اختلاف کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا ہے۔ عزت و کامیابی اللہ کی اطاعت ہی میں ہے۔

سورت 36سُورَةُ يسYa-Sin — Ya Sin

مکی سورت • آیات: 83

سورۃ یٰس کا نام اس کے ابتدائی حروف «یٰس» سے لیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات تراسی ہیں؛ اسے عموماً قرآن کا دل کہا جاتا ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی رسالت کی صداقت، ایک بستی کی طرف بھیجے گئے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والے شخص کا واقعہ، اللہ کی قدرت کی نشانیاں جیسے رات و دن، سورج و چاند اور کشتیاں، اور مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے کے عقلی دلائل بیان ہوئے ہیں۔

سورت 37سُورَةُ الصافاتAs-Saffat — Those who set the Ranks

مکی سورت • آیات: 182

سورۃ الصافات کا نام صف بستہ فرشتوں سے لیا گیا ہے، جن کی قسم سے سورت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ایک سو بیاسی ہیں۔ اس میں اللہ کی وحدانیت، فرشتوں و شیاطین کا ذکر، حضرت نوح، ابراہیم، اسحاق، موسیٰ، ہارون، الیاس، لوط و یونس علیہم السلام کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے بیٹے کی قربانی کے عظیم واقعے کا تذکرہ بھی اسی سورت میں ہے۔

سورت 38سُورَةُ صSad — The Letter "Saad”

مکی سورت • آیات: 88

سورۃ ص کا نام اس کے ابتدائی حرف «ص» سے لیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھاسی ہیں۔ اس میں قریش کی مخالفت و تکبر کا ذکر، حضرت داؤد علیہ السلام کی آزمائش و توبہ اور ان کی عادلانہ حکومت، حضرت سلیمان علیہ السلام کی آزمائش، اور حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر و شفا کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ حضرت آدم علیہ السلام و ابلیس کا قصہ بھی آیا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ رجوع کرنے والوں کے لیے بخشش کا دروازہ کھلا ہے۔

سورت 39سُورَةُ الزمرAz-Zumar — The Troops

مکی سورت • آیات: 75

سورۃ الزمر کا نام زمر یعنی گروہوں سے لیا گیا ہے، کیونکہ قیامت کے دن نیک و بد لوگ گروہوں کی صورت میں جنت و دوزخ کی طرف لے جائے جائیں گے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پچھتر ہیں۔ اس میں خالص عبادت و اخلاص کی دعوت، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے کی عظیم خوشخبری، توبہ کی ترغیب، زمین و آسمان کی تخلیق کے دلائل، اور قیامت کے مناظر بیان ہوئے ہیں۔

سورت 40سُورَةُ غافرGhafir — The Forgiver

مکی سورت • آیات: 85

سورۃ غافر کا نام اللہ تعالیٰ کی صفت «غافر» سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے گناہ بخشنے والا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پچاسی ہیں؛ یہ «حوامیم» کہلانے والی سورتوں کی پہلی سورت ہے۔ اس میں فرعون کے دربار کے اس مؤمن کا واقعہ ہے جس نے ایمان چھپا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حمایت کی تھی، اللہ سے دعا کرنے کی ترغیب و قبولیت کا وعدہ، سابقہ اقوام کے انجام، اور قیامت میں مجرموں کے عذر کی نامقبولی کا بیان ہے۔

سورت 41سُورَةُ فصلتFussilat — Explained in Detail

مکی سورت • آیات: 54

سورۃ فصلت کا نام «فصلت» سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے کھول کھول کر بیان کی گئی؛ یہ قرآن کی آیات کی صفت ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات چون ہیں۔ اس میں قرآن کی دعوت و اس کے اعجاز، زمین و آسمان کی تخلیق، قوم عاد و ثمود کے انجام، اور مخالفین کے مقابلے میں اچھے اخلاق سے دعوت دینے کا سنہری اصول بیان ہوا ہے۔۔

سورت 42سُورَةُ الشورىAsh-Shuraa — The Consultation

مکی سورت • آیات: 53

سورۃ الشوریٰ کا نام شوریٰ یعنی باہمی مشورے سے لیا گیا ہے، جو اس سورت میں مؤمنوں کی ایک صفت کے طور پر بیان ہوا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ترپن ہیں۔ اس میں وحی کی اقسام و عظمت، آسمان و زمین کی بادشاہت اللہ کے لیے ہونے، رزق کی تقسیم اس کی حکمت سے ہونے، ظلم کے مقابلے میں عدل و درگزر کے اصول، اور دنیا کی نعمتوں کے مقابلے میں آخرت کی بھلائی کا بیان ہے۔۔

سورت 43سُورَةُ الزخرفAz-Zukhruf — The Ornaments of Gold

مکی سورت • آیات: 89

سورۃ الزخرف کا نام زخرف یعنی سونے چاندی اور دنیاوی آرائش و زیب و زینت سے لیا گیا ہے، جس کی حقارت اس سورت میں بیان ہوئی ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات نواسی ہیں۔ اس میں قرآن کا عربی میں نازل ہونا، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شرک سے اظہار براءت، مشرکین کے اعتراضات کے جوابات، حضرت موسیٰ و فرعون کا تذکرہ، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا ہے۔ پیغام یہ ہے کہ مال رضا کا معیار نہیں، اصل قدر تقویٰ ہے۔

سورت 44سُورَةُ الدخانAd-Dukhan — The Smoke

مکی سورت • آیات: 59

سورۃ الدخان کا نام دخان یعنی دھوئیں سے لیا گیا ہے، جس کا ذکر اس سورت میں قیامت کی نشانیوں و عذاب کے تناظر میں آیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات انسٹھ ہیں۔ اس کا آغاز قرآن کے ایک مبارک رات میں نازل ہونے سے ہوتا ہے، پھر فرعون و اس کی قوم کے غرق ہونے، بنی اسرائیل کی نجات، اور قیامت کے دن کے دھوئیں و عذاب کا بیان ہے۔۔

سورت 45سُورَةُ الجاثيةAl-Jathiyah — The Crouching

مکی سورت • آیات: 37

سورۃ الجاثیہ کا نام جاثیہ سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے گھٹنوں کے بل گری ہوئی؛ قیامت کے دن ہر امت اسی کیفیت میں ہوگی۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات سینتیس ہیں۔ اس میں آسمان و زمین، رات و دن، بارش و ہواؤں کو اللہ کی قدرت کی نشانیاں قرار دیا گیا، بنی اسرائیل کو کتاب و حکمت عطا ہونے کا ذکر، اور خواہش کو معبود بنا لینے والوں کی گمراہی بیان ہوئی ہے۔ سورت اللہ کی کبریائی کے اعلان پر ختم ہوتی ہے۔

سورت 46سُورَةُ الأحقافAl-Ahqaf — The Wind-Curved Sandhills

مکی سورت • آیات: 35

سورۃ الاحقاف کا نام احقاف یعنی ریت کے ٹیلوں سے لیا گیا ہے، جو قوم عاد کا مسکن تھا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پینتیس ہیں۔ اس میں حضرت ہود علیہ السلام و قوم عاد کا انجام، والدین کے ساتھ حسن سلوک کی خصوصی تاکید، جنوں کے ایک گروہ کا قرآن سن کر ایمان لانا، اور نبی کریم ﷺ کو انبیاء کی طرح صبر کرنے کی تلقین ہے۔۔

سورت 47سُورَةُ محمدMuhammad — Muhammad

مدنی سورت • آیات: 38

سورۃ محمد کا نام نبی کریم ﷺ کے مبارک نام پر رکھا گیا ہے، جو اس سورت کی ایک آیت میں آیا ہے؛ اسے سورۃ القتال بھی کہا جاتا ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات اڑتیس ہیں۔ اس میں اللہ کی راہ میں جہاد کے احکام و فضائل، مؤمنوں کے اعمال کی قبولیت و کفار کے اعمال کی بربادی، جنت کی نعمتوں کا پرکشش بیان، اور منافقین کے رویے و انجام کا تذکرہ ہے۔۔

سورت 48سُورَةُ الفتحAl-Fath — The Victory

مدنی سورت • آیات: 29

سورۃ الفتح کا نام فتح یعنی عظیم کامیابی سے لیا گیا ہے۔ مشہور سبب نزول یہ ہے کہ یہ سورت صلح حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی اور اس صلح کو «فتح مبین» یعنی کھلی فتح قرار دیا گیا۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات انتیس ہیں۔ اس میں بیعت رضوان، صحابہ کرام کے فضائل، مدینہ واپسی پر مؤمنوں کے دلوں میں سکینت، فتح مکہ کی پیش رفت کی بشارتیں، اور سورت کے آخر میں صحابہ کرام کی خوبصورت صفات بیان ہوئی ہیں۔

سورت 49سُورَةُ الحجراتAl-Hujurat — The Rooms

مدنی سورت • آیات: 18

سورۃ الحجرات کا نام حجرات یعنی حجرہ ہائے مبارکہ سے لیا گیا ہے، جو مسجد نبوی سے ملحق ازواج مطہرات کے کمرے تھے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھارہ ہیں۔ اس میں معاشرتی آداب کی جامع تعلیمات ہیں: اللہ و رسول کے آگے بڑھنے سے اجتناب، نبی کریم ﷺ کا احترام، خبر کی تحقیق کے بغیر عمل نہ کرنا، مسلمانوں میں صلح کرانا، تمسخر، غیبت و بدگمانی سے پرہیز۔ سورت یہ اصول بھی دیتی ہے کہ اللہ کے نزدیک عزت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔

سورت 50سُورَةُ قQaf — The Letter "Qaf”

مکی سورت • آیات: 45

سورۃ ق کا نام اس کے ابتدائی حرف «ق» سے لیا گیا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پینتالیس ہیں۔ اس کا مرکزی موضوع قیامت و موت کے بعد کی زندگی ہے: مردوں کے دوبارہ زندہ ہونے پر تعجب کرنے والوں کو زمین و آسمان کی نشانیوں سے دلائل دیے گئے، سابقہ نافرمان اقوام کے انجام یاد دلائے گئے، اور موت کی بے خبری و صور پھونکے جانے کے مناظر بیان ہوئے۔۔

سورت 51سُورَةُ الذارياتAdh-Dhariyat — The Winnowing Winds

مکی سورت • آیات: 60

سورۃ الذاریات کا نام ذاریات یعنی بکھیرنے والی ہواؤں سے لیا گیا ہے، جن کی قسم سے سورت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات ساٹھ ہیں۔ اس میں قیامت و جزا کا یقینی بیان، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرشتہ مہمانوں و قوم لوط کا واقعہ، فرعون و عاد و ثمود کے انجام، اور رزق کی ضمانت اللہ کے ذمے ہونے کا ذکر ہے۔ مشہور آیت میں جن و انس کی تخلیق کا مقصد اللہ کی عبادت بیان ہوا ہے۔

سورت 52سُورَةُ الطورAt-Tur — The Mount

مکی سورت • آیات: 49

سورۃ الطور کا نام کوہ طور سے لیا گیا ہے، جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ سے ہم کلامی کا شرف حاصل ہوا تھا؛ سورت کا آغاز اسی پہاڑ کی قسم سے ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات انچاس ہیں۔ اس میں قیامت کے واقع ہونے کا یقینی بیان، اہل جنت کی نعمتیں و ان کی باہمی ملاقاتیں، نبی کریم ﷺ پر لگائے گئے الزامات کی تردید، اور اللہ کی نشانیوں پر غور کی دعوت ہے۔۔

سورت 53سُورَةُ النجمAn-Najm — The Star

مکی سورت • آیات: 62

سورۃ النجم کا نام نجم یعنی ستارے سے لیا گیا ہے، جس کی قسم سے سورت کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات باسٹھ ہیں؛ نزول کے اعتبار سے یہ ابتدائی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس میں وحی کی صداقت، واقعہ معراج و سدرۃ المنتہیٰ کا اشارہ، لات، عزیٰ و منات بتوں کی بے حیثیتی، اور یہ اصول بیان ہوا ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔۔

سورت 54سُورَةُ القمرAl-Qamar — The Moon

مکی سورت • آیات: 55

سورۃ القمر کا نام قمر یعنی چاند سے لیا گیا ہے؛ سورت کے آغاز میں چاند کے دو ٹکڑے ہونے کے معجزے کا ذکر ہے جو قیامت کے قریب ہونے کی نشانی بتایا گیا۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات پچپن ہیں۔ اس میں حضرت نوح، قوم عاد، ثمود، لوط اور فرعون کی اقوام کے انجام یکے بعد دیگرے عبرت کے لیے بیان ہوئے ہیں، اور بار بار یہ سوال دہرایا گیا ہے کہ کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے۔۔

سورت 55سُورَةُ الرحمنAr-Rahman — The Beneficent

مدنی سورت • آیات: 78

سورۃ الرحمن کا نام اللہ تعالیٰ کی صفت «رحمن» سے لیا گیا ہے، اور پوری سورت اسی رحمت و احسانات کے بیان سے بھری ہے۔ یہ فہرست کے مطابق مدنی سورت ہے اور اس کی آیات اٹھتر ہیں۔ اس میں قرآن کی تعلیم، انسان و جن کی تخلیق، سورج و چاند کا حساب، سمندروں و کشتیوں سمیت بے شمار نعمتوں کا شمار ہے، اور یہ فقرہ بار بار دہرایا گیا ہے: «پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے»۔۔

سورت 56سُورَةُ الواقعةAl-Waqi’ah — The Inevitable

مکی سورت • آیات: 96

سورۃ الواقعہ کا نام «الواقعہ» سے لیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے ضرور واقع ہونے والی؛ اس سے مراد قیامت ہے۔ یہ مکی سورت ہے اور اس کی آیات چھیانوے ہیں۔ اس میں قیامت کے مناظر اور اس دن انسانوں کے تین گروہوں کا بیان ہے: نیکو کار دائیں ہاتھ والے، بدکار بائیں ہاتھ والے، اور سبقت لے جانے والے مقربین۔ کھیتوں، پانی و آگ جیسی روزمرہ نعمتوں سے اللہ کی خالقیت کے دلائل دیے گئے۔

سورت 57سُورَةُ الحديدAl-Hadid — The Iron

مدنی سورت • آیات: 29

سورۃ الحدید کا نام حدید یعنی لوہے سے لیا گیا ہے، جس کے انسانی فائدے و قوت کا ذکر اس سورت میں آیا ہے۔ یہ مدنی سورت ہے اور اس کی آیات انتیس ہیں۔ اس میں اللہ کی تسبیح و اس کی بے مثال قدرت، ایمان لانے و اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب، دنیاوی زندگی کو کھیل تماشا و زینت قرار دے کر اس کی فنا پذیری، اور رسولوں کو واضح دلائل و کتاب کے ساتھ بھیجنے کا مقصد یعنی عدل قائم کرنا بیان ہوا ہے۔۔

سورت 58سُورَةُ المجادلةAl-Mujadila — The Pleading Woman

مدنی سورت • آیات: 22

سورۃ المجادلہ مدنی سورت ہے، اس میں 22 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘بحث و فریاد کرنے والی عورت’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کے ظہار کی شکایت نبی کریم ﷺ سے کی، تو اللہ نے ان کی فریاد سن کر یہ سورت نازل فرمائی۔ اس میں ظہار کے احکام اور اس کا کفارہ، سرگوشی اور مجالس کے آداب، اور اللہ و رسول کی مخالفت کا انجام بیان ہوا ہے۔

سورت 59سُورَةُ الحشرAl-Hashr — The Exile

مدنی سورت • آیات: 24

سورۃ الحشر مدنی سورت ہے، اس میں 24 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘اکٹھا کرنا’، اور اس سے مراد یہودی قبیلے بنو نضیر کی مدینہ سے جلاوطنی ہے۔ مشہور سببِ نزول یہی ہے کہ بنو نضیر نے عہد شکنی کی تو انہیں مدینہ سے نکال دیا گیا۔ اس میں مالِ فَے کی تقسیم کے اصول، منافقین کے جھوٹے وعدوں کی حقیقت، اور آخر میں اللہ تعالیٰ کے خوبصورت اسماء و صفات کا بیان ہے۔

سورت 60سُورَةُ الممتحنةAl-Mumtahanah — She that is to be examined

مدنی سورت • آیات: 13

سورۃ الممتحنہ مدنی سورت ہے، اس میں 13 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘وہ عورت جس کا امتحان لیا جائے’۔ مشہور سببِ نزول حضرت حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا وہ خط ہے جو انہوں نے فتح مکہ سے پہلے اہلِ مکہ کو بھیجا تھا۔ اس میں کفار سے دوستی کی حدود، ہجرت کر کے آنے والی مومن عورتوں کے امتحان کا حکم، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسوے کا ذکر ہے۔

سورت 61سُورَةُ الصفAs-Saf — The Ranks

مدنی سورت • آیات: 14

سورۃ الصف مدنی سورت ہے، اس میں 14 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘صف، قطار’۔ اس میں اس بات پر سخت تنبیہ ہے کہ انسان وہ کہے نہیں جو خود نہ کرے، اور اللہ کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑنے کی ترغیب ہے جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے رویے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس بشارت کا بھی ذکر ہے کہ ان کے بعد احمد نام کے نبی آئیں گے۔

سورت 62سُورَةُ الجمعةAl-Jumu’ah — The Congregation, Friday

مدنی سورت • آیات: 11

سورۃ الجمعہ مدنی سورت ہے، اس میں 11 آیات ہیں۔ یہ سورت جمعہ کے دن کے نام پر ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی بعثت کی نعمت، کتاب اٹھائے گدھے کی مثال سے عمل سے خالی علم کی مذمت، اور نمازِ جمعہ کا حکم بیان ہوا ہے کہ اذان ہوتے ہی خرید و فروخت چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو۔ آخر میں دنیاوی مصروفیت میں نماز سے غفلت پر تنبیہ بھی ہے۔

سورت 63سُورَةُ المنافقونAl-Munafiqun — The Hypocrites

مدنی سورت • آیات: 11

سورۃ المنافقون مدنی سورت ہے، اس میں 11 آیات ہیں۔ اس کا موضوع منافقین کا اصل چہرہ بے نقاب کرنا ہے۔ اس میں ان کی جھوٹی قسموں، تکبر، اور مومنوں کے خلاف ان کے کردار کا بیان ہے۔ ساتھ ہی یہ تنبیہ ہے کہ مال اور اولاد انسان کو اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں، اور موت آنے سے پہلے پہلے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، کیونکہ پھر مہلت نہیں ملتی۔

سورت 64سُورَةُ التغابنAt-Taghabun — The Mutual Disillusion

مدنی سورت • آیات: 18

سورۃ التغابن مدنی سورت ہے، اس میں 18 آیات ہیں۔ ‘تغابن’ کا مطلب ہے باہمی نقصان کا ظاہر ہونا، اور یہ قیامت کے دن کا ایک نام ہے جب ہر ایک کو اپنے اصل نفع و نقصان کا پتہ چل جائے گا۔ اس میں اللہ کی قدرت و تخلیق، کفار کے اس دعوے کی تردید کہ وہ دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے، اہل و عیال کو آزمائش قرار دینا، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔

سورت 65سُورَةُ الطلاقAt-Talaq — The Divorce

مدنی سورت • آیات: 12

سورۃ الطلاق مدنی سورت ہے، اس میں 12 آیات ہیں۔ یہ سورت طلاق اور اس سے متعلقہ احکام پر مشتمل ہے۔ اس میں طلاق کا شرعی طریقہ، عدت کا شمار، عدت کے دوران عورت کے رہنے اور خرچے کے احکام، اور دودھ پلانے کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی بار بار تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین ہے اور یہ وعدہ ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے۔

سورت 66سُورَةُ التحريمAt-Tahrim — The Prohibition

مدنی سورت • آیات: 12

سورۃ التحریم مدنی سورت ہے، اس میں 12 آیات ہیں۔ ‘تحریم’ کا مطلب ہے کسی چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دینا۔ اس کا آغاز نبی کریم ﷺ کے ایک گھریلو معاملے سے ہوتا ہے جس پر اللہ نے رہنمائی فرمائی۔ اس میں قسموں کے کفارے، سچی توبہ کی دعوت، اور ازواجِ مطہرات کے لیے ہدایات ہیں۔ آخر میں حضرت نوح و لوط علیہما السلام کی بیویوں کی بری مثال اور حضرت آسیہ و حضرت مریم علیہما السلام کی عظیم مثالیں بیان ہوئی ہیں۔

سورت 67سُورَةُ الملكAl-Mulk — The Sovereignty

مکی سورت • آیات: 30

سورۃ الملک مکی سورت ہے، اس میں 30 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘بادشاہت، اقتدار’۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ کائنات کی حکومت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اور زندگی و موت کی آزمائش اسی لیے ہے کہ معلوم ہو کون اچھے عمل کرتا ہے۔ آسمان کی بے عیب تخلیق، ستاروں، پرندوں اور رزق کے اسباب پر غور کی دعوت ہے، اور جہنم کے خوفناک مناظر سے ڈرایا گیا ہے۔ حدیث میں اس کی فضیلت ہے کہ یہ اپنے پڑھنے والے کی سفارش کرے گی۔

سورت 68سُورَةُ القلمAl-Qalam — The Pen

مکی سورت • آیات: 52

سورۃ القلم مکی سورت ہے، اس میں 52 آیات ہیں۔ یہ قلم اور لکھنے کی قسم سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں نبی کریم ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کی گواہی دی گئی اور مخالفین کے الزامات کی تردید ہے۔ باغ والوں کا مشہور واقعہ سبق کے طور پر بیان ہوا ہے کہ نعمت پر شکر کے بجائے بخل اور ناشکری کا انجام کیا ہوتا ہے۔ آخر میں حضرت یونس علیہ السلام کی مثال سے صبر کی تلقین اور قیامت کے دن کی سختیوں کا ذکر ہے۔

سورت 69سُورَةُ الحاقةAl-Haqqah — The Reality

مکی سورت • آیات: 52

سورۃ الحاقہ مکی سورت ہے، اس میں 52 آیات ہیں۔ ‘حاقہ’ قیامت کا ایک نام ہے، یعنی وہ دن جو یقیناً واقع ہو کر رہے گا۔ اس میں ثمود، عاد اور فرعون جیسی گزشتہ قوموں کی تباہی کا ذکر ہے۔ پھر قیامت کے دن صور پھونکے جانے، پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہونے، اور اعمال نامے دائیں یا بائیں ہاتھ میں ملنے کے مناظر ہیں۔ آخر میں قرآن کی حقانیت کا اعلان ہے کہ یہ نہ شاعری ہے نہ کاہن کا کلام۔

سورت 70سُورَةُ المعارجAl-Ma’arij — The Ascending Stairways

مکی سورت • آیات: 44

سورۃ المعارج مکی سورت ہے، اس میں 44 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘بلندی کے درجات و سیڑھیاں’، جن پر فرشتے اور روح اللہ کی طرف چڑھتے ہیں۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ ایک مشرک نے چیلنج کے طور پر عذاب جلد لانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس میں قیامت کے اس دن کی طوالت، انسان کی بے صبری و بخل کی فطرت، نماز کی پابندی کرنے والوں کی صفات، اور جنت کے اکرام کا بیان ہے۔

سورت 71سُورَةُ نوحNuh — Noah

مکی سورت • آیات: 28

سورۃ نوح مکی سورت ہے، اس میں 28 آیات ہیں۔ یہ سورت مکمل طور پر حضرت نوح علیہ السلام کی دعوت کے بارے میں ہے۔ انہوں نے ساڑھے نو سو سال اپنی قوم کو دن رات، کھلے اور چھپے، ہر طریقے سے اللہ کی طرف بلایا، مگر قوم نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور تکبر کیا۔ آخر میں حضرت نوح علیہ السلام کی وہ دعا ہے جس میں سرکش کافروں کے لیے بددعا اور مومنوں کے لیے مغفرت کی درخواست ہے۔

سورت 72سُورَةُ الجنAl-Jinn — The Jinn

مکی سورت • آیات: 28

سورۃ الجن مکی سورت ہے، اس میں 28 آیات ہیں۔ یہ سورت جنات کے ایک گروہ کے قرآن سننے اور ایمان لانے کے واقعے پر نازل ہوئی۔ اس میں جنات کی زبانی توحید کا اقرار، شرک کی تردید، اور یہ حقیقت بیان ہے کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں، اس میں کسی اور کو نہ پکارا جائے۔ ساتھ ہی جنات کے مختلف طبقات، آسمان کی نگرانی، اور نبی کریم ﷺ کے علمِ غیب کی حدود کا بھی ذکر آیا ہے۔

سورت 73سُورَةُ المزملAl-Muzzammil — The Enshrouded One

مکی سورت • آیات: 20

سورۃ المزمل مکی سورت ہے، اس میں 20 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘چادر اوڑھنے والا’، یہ خطاب نبی کریم ﷺ سے ہے۔ اس میں رات کی نماز یعنی تہجد کا حکم، قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کی ہدایت، ذکر و تسبیح، اور مخالفین کے مقابلے میں صبر کی تلقین ہے۔ اس میں فرعون کے انجام سے عبرت بھی دلائی گئی ہے۔ آخری آیت میں امت کی آسانی کے لیے رات کی عبادت میں تخفیف کا حکم بیان ہوا ہے۔

سورت 74سُورَةُ المدثرAl-Muddaththir — The Cloaked One

مکی سورت • آیات: 56

سورۃ المدثر مکی سورت ہے، اس میں 56 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘کمبل لپیٹنے والا’، یہ بھی نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے۔ اس میں دعوت کا آغاز کرنے، اللہ کی بڑائی بیان کرنے، اور پاکیزگی اختیار کرنے کے احکام ہیں۔ پھر جہنم کی آگ ‘سقر’ کا خوفناک بیان، اس کے انیس داروغوں کا ذکر، اور ایک سرکش سردار کے بارے میں سخت وعید ہے۔ آخر میں بتایا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا گروی ہے۔

سورت 75سُورَةُ القيامةAl-Qiyamah — The Resurrection

مکی سورت • آیات: 40

سورۃ القیامہ مکی سورت ہے، اس میں 40 آیات ہیں۔ یہ سورت قیامت کے دن کے اثبات پر ہے۔ اس میں انسان کے اس شبہے کا جواب ہے کہ بوسیدہ ہڈیاں کیسے جمع ہوں گی، اور بتایا گیا ہے کہ اللہ انگلیوں کے پوروں تک دوبارہ بنانے پر قادر ہے۔ نزع کے وقت کی کیفیت، قیامت کے دن کچھ چہروں کی تروتازگی اور کچھ کی اداسی، اور اس دن انسان کے اپنے آگے پیچھے بھیجے اعمال کی خبر ملنے کا بیان ہے۔

سورت 76سُورَةُ الانسانAl-Insan — The Man

مدنی سورت • آیات: 31

سورۃ الانسان مدنی سورت ہے، اس میں 31 آیات ہیں۔ اس میں انسان کی تخلیق کی ابتدا یاد دلائی گئی ہے کہ ایک وقت تھا جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز ہی نہ تھا۔ پھر دو راستے واضح کیے گئے: شکر گزاری کا یا ناشکری کا۔ اس میں نیک بندوں کے اخلاص کا ذکر ہے کہ وہ یتیم، مسکین اور قیدی کو اللہ کی رضا کے لیے کھانا کھلاتے ہیں، اور جنت میں انہیں ملنے والی نعمتوں اور مشروبات کا دلکش بیان ہے۔

سورت 77سُورَةُ المرسلاتAl-Mursalat — The Emissaries

مکی سورت • آیات: 50

سورۃ المرسلات مکی سورت ہے، اس میں 50 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘بھیجی گئی ہوائیں یا فرشتے’، جن کی قسموں سے سورت شروع ہوتی ہے۔ اس میں قیامت کے دن کو ‘یوم الفصل’ یعنی فیصلے کا دن قرار دیا گیا ہے۔ ایک جملہ ‘اس دن جھٹلانے والوں کے لیے تباہی ہے’ بار بار دہرایا گیا ہے۔ اس میں انسانی تخلیق کے مراحل، زمین و آسمان کی نشانیوں، اور نیکوں و بدوں کے الگ الگ انجام کا بیان ہے۔

سورت 78سُورَةُ النبإAn-Naba — The Tidings

مکی سورت • آیات: 40

سورۃ النبأ مکی سورت ہے، اس میں 40 آیات ہیں۔ ‘نبأ’ کا مطلب ہے عظیم خبر، اور اس سے مراد قیامت کی خبر ہے جس کے بارے میں مشرکین اختلاف کرتے تھے۔ اس میں زمین کو بچھونا، پہاڑوں کو میخیں، نیند کو راحت اور دن کو روزی کا ذریعہ بنانے جیسی نعمتوں سے اللہ کی قدرت پر استدلال ہے۔ پھر قیامت کے دن صور، جہنم کی گھات، متقیوں کی کامیابی، اور آخر میں اس دن کی ہیبت کا ذکر ہے جب کوئی اجازت کے بغیر بول نہ سکے گا۔

سورت 79سُورَةُ النازعاتAn-Nazi’at — Those who drag forth

مکی سورت • آیات: 46

سورۃ النازعات مکی سورت ہے، اس میں 46 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘کھینچ کر نکالنے والے فرشتے’ جو روحیں قبض کرتے ہیں۔ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے واقعے کا خلاصہ ہے کہ فرعون نے سرکشی کی اور ‘میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں’ کہا، تو اللہ نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ ساتھ ہی آسمان کی تخلیق، دوبارہ زندہ ہونے کا اثبات، اور قیامت کے وقت کا علم صرف اللہ کے پاس ہونے کی تصریح ہے۔

سورت 80سُورَةُ عبس‘Abasa — He Frowned

مکی سورت • آیات: 42

سورۃ عبس مکی سورت ہے، اس میں 42 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘تیوری چڑھائی’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ نابینا صحابی حضرت عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ ہدایت لینے آئے جب نبی کریم ﷺ سردارانِ قریش کو دعوت دے رہے تھے؛ اس پر اللہ نے توجہ دلائی کہ ہدایت کا طلبگار حق دار ہے۔ اس میں انسان کی تخلیق، خوراک کی نعمتوں اور قیامت کے اس دن کا بیان ہے جب آدمی اپنے بھائی، ماں باپ اور بیوی بچوں سے بھی بھاگے گا۔

سورت 81سُورَةُ التكويرAt-Takwir — The Overthrowing

مکی سورت • آیات: 29

سورۃ التکویر مکی سورت ہے، اس میں 29 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘لپیٹ دیا جانا’، یعنی قیامت کے دن سورج کا لپیٹ دیا جانا۔ اس میں کائنات کے اس عظیم انقلاب کا بیان ہے کہ ستارے جھڑ جائیں گے، پہاڑ چل پڑیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے، اور زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی۔ آخر میں قرآن کی حقانیت اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے وحی پہنچنے کا ذکر ہے۔

سورت 82سُورَةُ الإنفطارAl-Infitar — The Cleaving

مکی سورت • آیات: 19

سورۃ الانفطار مکی سورت ہے، اس میں 19 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘پھٹ جانا’، یعنی قیامت کے دن آسمان کا پھٹنا۔ اس میں ستاروں کے جھڑنے، سمندروں کے ابل پڑنے اور قبروں کے الٹ دیے جانے کا بیان ہے۔ انسان کو تنبیہ ہے کہ اسے اپنے کریم رب کے بارے میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے۔ ساتھ ہی اعمال لکھنے والے معزز فرشتوں، اور فیصلے کے دن نیکوں کی نعمتوں و بدوں کی جہنم کا ذکر ہے۔

سورت 83سُورَةُ المطففينAl-Mutaffifin — The Defrauding

مکی سورت • آیات: 36

سورۃ المطففین مکی سورت ہے، اس میں 36 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘ناپ تول میں کمی کرنے والے’۔ اس میں ان لوگوں کے لیے سخت وعید ہے جو لینے میں پورا لیتے ہیں اور دینے میں کم تولتے ہیں۔ اس میں بدکاروں کے اعمال نامے ‘سجین’ اور نیکوں کے ‘علیین’ میں ہونے کا بیان ہے۔ دنیا میں مومنوں کا مذاق اڑانے والوں کا انجام، اور جنت کی خاص شرابِ طہور اور اس کی مہر کا دلکش ذکر بھی اس میں آیا ہے۔

سورت 84سُورَةُ الإنشقاقAl-Inshiqaq — The Sundering

مکی سورت • آیات: 25

سورۃ الانشقاق مکی سورت ہے، اس میں 25 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘شق ہو جانا’، یعنی قیامت کے دن آسمان کا پھٹ جانا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف سخت مشقت کرتا ہوا جا رہا ہے اور اس سے ضرور ملے گا۔ جس کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا اس کا حساب آسان ہوگا، اور جسے پیٹھ پیچھے سے ملے گا وہ تباہی کو پکارے گا۔ آخر میں انسان کی زندگی کے مختلف مراحل اور مدارج کا ذکر ہے۔

سورت 85سُورَةُ البروجAl-Buruj — The Mansions of the Stars

مکی سورت • آیات: 22

سورۃ البروج مکی سورت ہے، اس میں 22 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘برج، ستاروں کے مقامات’۔ اس میں ‘اصحاب الاخدود’ کا مشہور واقعہ بیان ہوا ہے کہ ایک ظالم بادشاہ نے ایمان والوں کے لیے آگ سے بھری خندقیں کھدوا کر انہیں زندہ جلایا تھا، مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہے۔ اس میں اللہ کی صفات، اس کے عرش کی عظمت، فرعون و ثمود کے انجام، اور قرآن کے لوحِ محفوظ میں محفوظ ہونے کا بیان ہے۔

سورت 86سُورَةُ الطارقAt-Tariq — The Nightcommer

مکی سورت • آیات: 17

سورۃ الطارق مکی سورت ہے، اس میں 17 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘رات کو نمودار ہونے والا چمکتا ستارہ’۔ اس میں آسمان اور اس ستارے کی قسم کھا کر بتایا گیا ہے کہ ہر جان پر ایک نگران مقرر ہے۔ انسان کی تخلیق مادے سے ہونے کا ذکر کر کے دوبارہ زندگی کا اثبات ہے۔ قیامت کے دن راز کھل جائیں گے اور انسان کے پاس نہ اپنی قوت ہوگی نہ مددگار۔ آخر میں کفار کی چالوں کے مقابلے میں اللہ کی تدبیر کا بیان ہے۔

سورت 87سُورَةُ الأعلىAl-A’la — The Most High

مکی سورت • آیات: 19

سورۃ الاعلیٰ مکی سورت ہے، اس میں 19 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘سب سے بلند’، یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اس میں اللہ کی تسبیح کا حکم، اس کی تخلیق و تقدیر اور ہدایت کا بیان ہے۔ نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی کہ آپ قرآن نہیں بھولیں گے۔ اس میں اس شخص کی کامیابی کا اعلان ہے جو پاکیزگی اختیار کرے، اللہ کا ذکر کرے اور نماز پڑھے۔ اور حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام کے صحیفوں کا ذکر بھی ہے۔

سورت 88سُورَةُ الغاشيةAl-Ghashiyah — The Overwhelming

مکی سورت • آیات: 26

سورۃ الغاشیہ مکی سورت ہے، اس میں 26 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘چھا جانے والی’، یعنی قیامت جو سب کو گھیر لے گی۔ اس میں اس دن کے دو طرح کے چہروں کا بیان ہے: کچھ ذلیل ہو کر جہنم کی آگ اور کھولتے چشمے کی طرف جائیں گے، اور کچھ نعمتوں میں جنت کی بلند مسندوں پر ہوں گے۔ پھر اونٹ، آسمان، پہاڑوں اور زمین کی تخلیق پر غور کی دعوت ہے، اور نبی ﷺ کو صرف یاد دہانی کرانے والا بتایا گیا ہے۔

سورت 89سُورَةُ الفجرAl-Fajr — The Dawn

مکی سورت • آیات: 30

سورۃ الفجر مکی سورت ہے، اس میں 30 آیات ہیں۔ یہ فجر اور دس راتوں کی قسموں سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں عاد، ثمود اور فرعون جیسی طاقتور قوموں کی سرکشی اور ان کی تباہی کا ذکر عبرت کے لیے ہے۔ انسان کی اس آزمائش کا بیان ہے کہ عزت و رزق کی فراوانی میں بھی اور تنگی میں بھی اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔ یتیم کی عزت نہ کرنا اور مسکین کو کھانا نہ کھلانا مذموم قرار پایا۔ آخر میں مطمئن نفس کو جنت کی بشارت ہے۔

سورت 90سُورَةُ البلدAl-Balad — The City

مکی سورت • آیات: 20

سورۃ البلد مکی سورت ہے، اس میں 20 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘شہر’، اور اس سے مراد مکہ مکرمہ ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو مشقت میں پیدا کیا گیا ہے۔ مشکل گھاٹی کا راستہ بھی بیان ہے: غلام آزاد کرنا، بھوک کے دن یتیم و مسکین کو کھانا کھلانا، اور ایمان و صبر کی وصیت کرنا۔ آخر میں دائیں والوں کی کامیابی اور بائیں والوں پر بند کی گئی آگ کا ذکر ہے۔

سورت 91سُورَةُ الشمسAsh-Shams — The Sun

مکی سورت • آیات: 15

سورۃ الشمس مکی سورت ہے، اس میں 15 آیات ہیں۔ یہ سورج، چاند، دن، رات، آسمان، زمین اور انسانی نفس کی پی در پی قسموں سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے نفس کو اس کی برائی اور پرہیزگاری دونوں کا ادراک عطا کیا ہے؛ کامیاب وہ ہے جس نے نفس کو پاک کیا، اور نامراد وہ جس نے اسے آلودہ کر دیا۔ آخر میں قومِ ثمود کا واقعہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی اونٹنی کو مار ڈالا تو عذاب نے انہیں آ لیا۔

سورت 92سُورَةُ الليلAl-Layl — The Night

مکی سورت • آیات: 21

سورۃ اللیل مکی سورت ہے، اس میں 21 آیات ہیں۔ یہ رات و دن کی قسم سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں کوششیں دو طرح کی بتائی گئی ہیں: جو دیتا ہے، تقویٰ اختیار کرتا ہے اور بھلائی کی تصدیق کرتا ہے، اس کے لیے آسانی کا راستہ کھلتا ہے؛ اور جو بخل کرتا ہے اس کے لیے تنگی کا۔ آخر میں اس پرہیزگار کا ذکر ہے جو مال اللہ کی رضا کے لیے دیتا ہے؛ مشہور روایت کے مطابق یہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں ہیں۔

سورت 93سُورَةُ الضحىAd-Duhaa — The Morning Hours

مکی سورت • آیات: 11

سورۃ الضحیٰ مکی سورت ہے، اس میں 11 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘دن کی روشنی، چاشت’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ کچھ عرصہ وحی رکی رہی تو نبی کریم ﷺ کو غم ہوا اور مخالفین طعنے دینے لگے؛ اس پر اللہ نے تسلی دی کہ نہ آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا ہے نہ وہ ناراض ہے۔ اس میں یتیمی میں پناہ، ہدایت اور غنا کی نعمتوں کا ذکر ہے، اور یتیم پر سختی نہ کرنے اور سائل کو نہ جھڑکنے کی ہدایت ہے۔

سورت 94سُورَةُ الشرحAsh-Sharh — The Relief

مکی سورت • آیات: 8

سورۃ الشرح مکی سورت ہے، اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘کشادگی، سینہ کھول دینا’۔ یہ نبی کریم ﷺ پر اللہ کے احسانات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ نے آپ کا سینہ کھول دیا، آپ کا بوجھ اتار دیا اور آپ کا ذکر بلند کر دیا۔ اس میں یہ ابدی اصول بیان ہوا ہے کہ بے شک تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ آخر میں ہدایت ہے کہ فراغت ملے تو عبادت میں محنت کرو اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت رکھو۔

سورت 95سُورَةُ التينAt-Tin — The Fig

مکی سورت • آیات: 8

سورۃ التین مکی سورت ہے، اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘انجیر’۔ یہ انجیر، زیتون، طورِ سینا اور امن والے شہر مکہ کی قسموں سے شروع ہوتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا، پھر وہ نیچوں میں سب سے نیچا بھی ہو گیا۔ ایمان لانے اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔ آخر میں اللہ کو سب حاکموں سے بڑا حاکم قرار دیا گیا ہے۔

سورت 96سُورَةُ العلقAl-‘Alaq — The Clot

مکی سورت • آیات: 19

سورۃ العلق مکی سورت ہے، اس میں 19 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘جما ہوا خون، لوتھڑا’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ اس کی ابتدائی پانچ آیات سب سے پہلی وحی ہیں جو غارِ حرا میں نازل ہوئیں۔ اس میں تخلیقِ انسان، قلم کے ذریعے علم سکھانے، اور اس سرکشی کا بیان ہے کہ انسان مال پا کر خود کو بے نیاز سمجھتا ہے۔ آخر میں سرکش کو وعید اور اللہ کے حضور سجدے و قربت کی ترغیب ہے۔

سورت 97سُورَةُ القدرAl-Qadr — The Power

مکی سورت • آیات: 5

سورۃ القدر مکی سورت ہے، اس میں 5 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘تقدیر اور عظمت والی رات’، یعنی لیلۃ القدر۔ قرآن اسی رات نازل ہوا، اور یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات فرشتے اور جبرائیل علیہ السلام اترتے ہیں، اور طلوعِ فجر تک سلامتی ہی سلامتی رہتی ہے۔ مشہور روایت کے مطابق بنی اسرائیل کے ایک عابد کی ہزار ماہ کی عبادت کے ذکر پر امت کو اس رات کی صورت میں اس سے بڑی نعمت عطا ہوئی۔

سورت 98سُورَةُ البينةAl-Bayyinah — The Clear Proof

مدنی سورت • آیات: 8

سورۃ البینہ مدنی سورت ہے، اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘روشن دلیل’۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اہلِ کتاب و مشرکین کی گمراہی اس وقت تک ختم ہونے والی نہ تھی جب تک ان کے پاس روشن دلیل نہ آ جائے، یعنی رسول جو پاک صحیفے سنائے۔ اس میں مخلصانہ عبادت، نماز و زکاۃ کا حکم، اور دینِ قیم کی وضاحت ہے۔ آخر میں ایمان والوں کو بہترین مخلوق اور جنت کی بشارت، اور کافروں کو بدترین مخلوق و جہنم کی وعید ہے۔

سورت 99سُورَةُ الزلزلةAz-Zalzalah — The Earthquake

مدنی سورت • آیات: 8

سورۃ الزلزلہ مدنی سورت ہے، اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘زلزلہ، شدید جھٹکا’۔ یہ قیامت کے دن زمین کے سخت جھٹکے سے شروع ہوتی ہے، جب زمین اپنے بوجھ نکال دے گی اور اللہ کے حکم سے اپنے حالات بیان کرے گی۔ مشہور روایت ہے کہ ذرہ برابر نیکی و بدی کے حساب والی آیت سن کر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔ آخر میں اعلان ہے کہ ذرہ برابر نیکی یا بدی کرنے والا اسے دیکھ لے گا۔

سورت 100سُورَةُ العادياتAl-‘Adiyat — The Courser

مکی سورت • آیات: 11

سورۃ العادیات مکی سورت ہے، اس میں 11 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘سرپٹ دوڑنے والے گھوڑے’، یعنی جہاد کے وہ گھوڑے جو ہانپتے دوڑتے اور سموں سے چنگاریاں اڑاتے ہیں۔ ان کی قسم کھا کر انسان کی ناشکری بیان کی گئی ہے کہ وہ رب کا سخت ناشکرا اور مال کی محبت میں اندھا ہے۔ آخر میں تنبیہ ہے کہ جب قبروں میں جو کچھ ہے نکال لیا جائے گا اور سینوں کے راز کھول دیے جائیں گے تو اللہ سب سے پوری طرح باخبر ہوگا۔

سورت 101سُورَةُ القارعةAl-Qari’ah — The Calamity

مکی سورت • آیات: 11

سورۃ القارعہ مکی سورت ہے، اس میں 11 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘کھڑکھڑانے والی’، یہ قیامت کا ایک نام ہے۔ اس میں اس دن کا منظر ہے جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے اور پہاڑ دھنکی ہوئی اون کی مانند ہو جائیں گے۔ پھر میزان کا ذکر ہے: جس کے نیکیوں کے پلڑے بھاری ہوں گے وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا، اور جس کے ہلکے ہوں گے اس کا ٹھکانہ گہری کھائی اور بھڑکتی ہوئی آگ ہوگا۔

سورت 102سُورَةُ التكاثرAt-Takathur — The Rivalry in world increase

مکی سورت • آیات: 8

سورۃ التکاثر مکی سورت ہے، اس میں 8 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘زیادتی کی دوڑ، کثرت کی ہوس’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ دو قبیلے مال و اولاد اور حتیٰ کہ اپنے مردوں کی گنتی میں بھی ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے تھے۔ اس میں تنبیہ ہے کہ مال و اولاد کی کثرت کی مسابقت نے انسان کو غافل کر دیا یہاں تک کہ وہ قبروں تک جا پہنچا۔ آخر میں وعید ہے کہ اس دن نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔

سورت 103سُورَةُ العصرAl-‘Asr — The Declining Day

مکی سورت • آیات: 3

سورۃ العصر مکی سورت ہے، اس میں 3 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘زمانہ، وقت’۔ زمانے کی قسم کھا کر اعلان کیا گیا ہے کہ سارا انسان خسارے میں ہے، سوائے ان کے جو ایمان لائے، نیک عمل کیے، ایک دوسرے کو حق کی وصیت کی اور صبر کی نصیحت کی۔ یہ چھوٹی سی سورت اسلام کے خلاصے کی حیثیت رکھتی ہے؛ امام شافعی رحمہ اللہ کا مشہور قول ہے کہ لوگ اسی سورت میں غور کر لیں تو یہ کافی ہو جائے۔

سورت 104سُورَةُ الهمزةAl-Humazah — The Traducer

مکی سورت • آیات: 9

سورۃ الھمزہ مکی سورت ہے، اس میں 9 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘عیب جوئی، طعنہ زنی اور اشاروں سے مذاق اڑانے والا’۔ اس میں اس شخص کے لیے سخت وعید ہے جو عیب جوئی کرتا ہے، مال جمع کر کے گنتا رہتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مال اسے ہمیشہ زندہ رکھے گا۔ اس کا انجام ‘حطمہ’ بتایا گیا ہے، اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ جو دلوں تک جا پہنچے گی اور اس میں وہ لمبے ستونوں میں جکڑا ہوگا۔

سورت 105سُورَةُ الفيلAl-Fil — The Elephant

مکی سورت • آیات: 5

سورۃ الفیل مکی سورت ہے، اس میں 5 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘ہاتھی’۔ مشہور سببِ نزول یمن کے حکمران ابرہہ کا وہ لشکر ہے جو ہاتھیوں کے ساتھ خانہ کعبہ کو گرانے آیا تھا۔ اللہ نے ان کی تدبیر ناکام کر دی اور ان پر مٹی کے پکے ہوئے کنکر برسانے والے پرندوں کے جھنڈ بھیجے، جنہوں نے انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کے سال پیش آیا تھا، اسی لیے اسے عام الفیل کہا جاتا ہے۔

سورت 106سُورَةُ قريشQuraysh — Quraysh

مکی سورت • آیات: 4

سورۃ قریش مکی سورت ہے، اس میں 4 آیات ہیں۔ یہ سورت قبیلہ قریش کے نام پر ہے اور پچھلی سورت الفیل سے جڑی ہوئی ہے۔ اس میں قریش کو اللہ کی یہ نعمت یاد دلائی گئی ہے کہ انہیں سردیوں اور گرمیوں کے تجارتی سفر (یمن و شام) کی سہولت ملی، بھوک میں روزی اور خوف میں امن نصیب ہوا۔ اس احسان کے جواب میں حکم ہے کہ وہ اس گھر یعنی خانہ کعبہ کے رب کی عبادت کریں۔

سورت 107سُورَةُ الماعونAl-Ma’un — The Small kindnesses

مکی سورت • آیات: 7

سورۃ الماعون مکی سورت ہے، اس میں 7 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘معمولی ضرورت کی چیزیں، چھوٹی مدد’۔ اس میں اس شخص کی پہچان بتائی گئی ہے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے: وہ یتیم کو دھکے دیتا ہے اور مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا۔ پھر ان نمازیوں کے لیے وعید ہے جو نماز سے غافل ہیں، دکھاوے کی نماز پڑھتے ہیں، اور معمولی ضرورت کی چیز دینے سے بھی منع کرتے ہیں۔

سورت 108سُورَةُ الكوثرAl-Kawthar — The Abundance

مکی سورت • آیات: 3

سورۃ الکوثر مکی سورت ہے، اس میں 3 آیات ہیں، یہ قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ ‘کوثر’ کا مطلب ہے خیرِ کثیر، اور اس سے حوضِ کوثر بھی مراد ہے۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بیٹے کی وفات پر کفار نے ‘نسل ختم ہونے’ کا طعنہ دیا، تو اللہ نے بے شمار خیر کی بشارت دی۔ اس میں نماز پڑھنے اور قربانی کرنے کا حکم ہے، اور اعلان ہے کہ دشمن ہی بے نام و نشان رہے گا۔

سورت 109سُورَةُ الكافرونAl-Kafirun — The Disbelievers

مکی سورت • آیات: 6

سورۃ الکافرون مکی سورت ہے، اس میں 6 آیات ہیں۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ سردارانِ قریش نے نبی کریم ﷺ کو سمجھوتے کی پیشکش کی کہ ایک سال ہم آپ کے معبود کی عبادت کریں گے اور ایک سال آپ ہمارے بتوں کی؛ اس کا فیصلہ کن جواب اس سورت میں آیا۔ اس میں کفر و شرک سے مکمل براءت اور بیزاری کا اعلان ہے کہ جن کی تم عبادت کرتے ہو میں ان کی عبادت نہیں کرتا، تمہارے لیے تمہارا دین اور میرے لیے میرا دین۔

سورت 110سُورَةُ النصرAn-Nasr — The Divine Support

مدنی سورت • آیات: 3

سورۃ النصر مدنی سورت ہے، اس میں 3 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘اللہ کی مدد’۔ یہ آخری مکمل سورتوں میں سے ہے۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو یہ سورت نازل ہوئی، اور صحابہ نے اس سے نبی کریم ﷺ کے وصال کے قریب ہونے کا اشارہ سمجھا۔ اس میں ہدایت ہے کہ مدد و فتح آئے تو حمد کے ساتھ تسبیح اور استغفار کرو۔

سورت 111سُورَةُ المسدAl-Masad — The Palm Fiber

مکی سورت • آیات: 5

سورۃ المسد مکی سورت ہے، اس میں 5 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘کھجور کی چھال کی رسی’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے کوہِ صفا سے قریش کو دعوت دی تو آپ کے چچا ابولہب نے بدتمیزی کی اور اسلام کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا رہا۔ اس میں اس کی اور اس کی بیوی کی، جو حسد کی آگ بھڑکاتی تھی، تباہی کی خبر ہے، اور اعلان ہے کہ مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔

سورت 112سُورَةُ الإخلاصAl-Ikhlas — The Sincerity

مکی سورت • آیات: 4

سورۃ الاخلاص مکی سورت ہے، اس میں 4 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘خلوص، خالص توحید’۔ مشہور سببِ نزول یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے اپنے رب کا تعارف پوچھا تو یہ سورت نازل ہوئی۔ اس میں اللہ کی وحدانیت کا جامع بیان ہے: اللہ ایک ہے، بے نیاز ہے، نہ اس نے کسی کو جنا نہ وہ جنا گیا، اور اس جیسا کوئی نہیں۔ احادیث میں اس سورت کو قرآن کے تیسرے حصے کے برابر قرار دیا گیا ہے۔

سورت 113سُورَةُ الفلقAl-Falaq — The Daybreak

مکی سورت • آیات: 5

سورۃ الفلق مکی سورت ہے، اس میں 5 آیات ہیں۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘صبح، شگاف’۔ یہ پناہ مانگنے کی سورت ہے: صبح کے رب کی پناہ ہر اس شر سے جو اس نے پیدا کیا، اندھیری رات کے شر سے جب وہ چھا جائے، گرہوں میں پھونک مارنے والیوں کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب وہ حسد کرے۔ یہ اور اگلی سورت الناس مل کر ‘معوذتین’ کہلاتی ہیں، اور حدیث میں ان کی بڑی فضیلت آئی ہے۔

سورت 114سُورَةُ الناسAn-Nas — Mankind

مکی سورت • آیات: 6

سورۃ الناس مکی سورت ہے، اس میں 6 آیات ہیں، اور یہ قرآن مجید کی آخری سورت ہے۔ اس کے نام کا مطلب ہے ‘انسان، لوگ’۔ اس میں انسانوں کے رب، بادشاہ اور معبود کی پناہ مانگنے کی تعلیم ہے، اس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو لوگوں کے سینوں میں وسوسے ڈالتا ہے، خواہ جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ قرآن کا اختتام اسی پناہ کی دعا پر ہونا یہ سبق دیتا ہے کہ انسان کو ہر قدم اللہ کی حفاظت درکار ہے۔