جمعرات, 5 نومبر 2026
جمعرات, 5 نومبر 2026|
تازہ ترین
مضامین

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے شادی کی عمر 18 سال کرنے کے قانون کو سراہا، جبری مشقت اور بچوں کی شادیوں پر تشویش

News Cuff

جنیوا میں اقوام متحدہ کا پیلس ڈی نیشنز — فائل فوٹو (وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 3.0)۔ معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کی کمیٹی نے یہیں پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ مکمل کیا۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کی کمیٹی نے پاکستان میں شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کرنے کے قانون کو سراہا ہے، مگر ساتھ ہی ملک میں بچوں کی شادیوں اور جبری مشقت کے جاری رہنے پر سخت سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ معاشی، سماجی و ثقافتی حقوق کی کمیٹی نے بدھ کو پاکستان کی دوسری رپورٹ کا جائزہ مکمل کیا، جو بین الاقوامی معاہدے کے تحت پیش کی گئی تھی۔

19 ملین بچوں کی دلہنیں، قانون پر عمل درآمد کا سوال

کمیٹی کے ماہر مائیکل ونڈفہر نے 2025 میں چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ میں ترمیم کا خیرمقدم کیا، جس سے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی عمر 18 سال ہو گئی۔ لیکن انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو ملک میں بچوں کی دلہنوں کی بڑی تعداد پر تشویش ہے — کمیٹی کے اجلاس میں یہ تعداد تقریباً 19 ملین بتائی گئی، خاص طور پر سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں۔ انہوں نے پوچھا کہ شادیوں کو روکنے کے اقدامات کا عملی اثر کیا ہوا ہے۔

بھٹوں پر جبری مشقت، سرکاری اداروں کی ملی بھگت کا الزام

کمیٹی کے ایک اور ماہر لزہری بوزید نے کہا کہ جبری مشقت زراعت میں عام ہے اور غیر رسمی شعبے، خاص طور پر اینٹوں کے بھٹوں پر بھی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق تعمیراتی کمپنیاں اور سرکاری ادارے بھی قرض کی غلامی سے بنی اینٹیں خرید کر اس عمل میں شریک ہیں۔ پاکستانی وفد نے بتایا کہ پنجاب میں دو لاکھ دس ہزار سے زائد بھٹہ مزدوروں کا اندراج ہوا ہے اور گزشتہ برس مزدور انسپکٹروں نے جبری مشقت کے دو ہزار نو سو سے زائد متاثرین کی نشاندہی کی۔

سیلاب متاثرین: 21 لاکھ میں سے 6 لاکھ گھر دوبارہ بنے

سیلابوں پر بات کرتے ہوئے وفد نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب میں تباہ ہونے والے 21 لاکھ گھروں میں سے 6 لاکھ دوبارہ تعمیر ہو چکے ہیں، باقی پر کام جاری ہے۔ کمیٹی نے یہ بھی پوچھا کہ کتنے لوگ اب بھی بے گھر ہیں اور انہیں زمین یا وسائل تک رسائی کیسے ملے گی۔

قانون کی خامیاں بھی سامنے آئیں

اجلاس میں یہ بھی سامنے آیا کہ خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں شادی کی کم از کم عمر اب بھی 16 سال ہے، اور وفاقی شرعی عدالت میں 18 سال کی حد کو چیلنج کرنے والا مقدمہ جون سے زیر التوا ہے۔ وفد کی سربراہی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کی۔ کمیٹی اب اپنی حتمی سفارشات جاری کرے گی۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے