کولین ہوور کے مشہور ناول پر بنی تھرلر فلم ویرٹی پاکستان کے سینماؤں میں نمائش کے لیے پیش، این ہیتھاوے کی اداکاری توجہ کا مرکز بن گئی

کولین ہوور کے سب سے زیادہ بکنے والے ناول ویرٹی پر بنی ہالی وڈ تھرلر فلم اب پاکستان کے سینماؤں میں بھی نمائش کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔ ایچ کے سی انٹرٹینمنٹ کے ذریعے ریلیز ہونے والی اس فلم میں این ہیتھاوے نے مشہور ناول نگار ویرٹی کرافورڈ کا کردار نبھایا ہے، جو ایک حادثے کے بعد بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتی۔ اس کی ادھوری کتابیں مکمل کرنے کے لیے ایک جدوجہد کرتی ہوئی مصنفہ لوون ایشلے کو رکھا جاتا ہے — یہ کردار ڈکوٹا جانسن نے ادا کیا ہے — اور ویرٹی کے شوہر جیریمی کے روپ میں جوش ہارٹنیٹ سامنے آتے ہیں۔
ایک چھپا ہوا مخطوطہ، اور پھر سب کچھ بدل جاتا ہے
کہانی اس وقت نیا موڑ لیتی ہے جب لوون کو ویرٹی کی چھپی ہوئی خودنوشت ملتی ہے، جس میں ایسے انکشافات درج ہیں کہ پڑھنے والا فیصلہ ہی نہیں کر پاتا کہ یہ اعترافِ جرم ہے یا کوئی سوچی سمجھی چال۔ ڈان کے فلم جائزے کے مطابق ہدایتکار مائیکل شوالٹر نے ناول کی مبہم فضا کو جوں کا توں برقرار رکھنے کے بجائے کہانی کو نسبتاً واضح انجام کی طرف لے جانے کا انتخاب کیا ہے۔ جائزے میں این ہیتھاوے کو فلم کا مرکز اور سب سے مضبوط پہلو قرار دیا گیا ہے اور جوش ہارٹنیٹ کی واپسی کو بھی سراہا گیا ہے، البتہ ڈکوٹا جانسن کی اداکاری نسبتاً کمزور قرار پائی ہے۔
باکس آفس پر تیز شروعات، پھر گراوٹ
دنیا بھر میں فلم 2 اکتوبر کو ریلیز ہوئی تھی اور پہلے ہی ہفتے امریکا میں نمبر ون پوزیشن حاصل کر کے تین کروڑ بیس لاکھ ڈالر سے زائد کما چکی تھی۔ اب تک اس کی عالمی کمائی لگ بھگ گیارہ کروڑ نوے لاکھ ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اس کی تیاری پر چار کروڑ ڈالر لاگت بتائی جاتی ہے۔ لیکن دوسرے ہفتے کمائی میں 63 فیصد کی تیز گراوٹ آئی اور تیسرے ہفتے میں داخل ہونے سے پہلے شمالی امریکا میں اس کی 500 اسکرینیں کم کر دی گئیں۔ فلم اب بھی تین ہزار سے زائد سینماؤں میں چل رہی ہے، مگر ابتدائی جوش ٹھنڈا پڑنے لگا ہے۔ پاکستانی شائقین کے لیے یہی وہ موقع ہے کہ وہ خود دیکھ کر فیصلہ کریں کہ ناقدین کی ملی جلی آراء درست ہیں یا ناول کے لاکھوں مداح۔



