پاکستان کا بیرونی قرضہ دس سال میں تقریباً دگنا، 135 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

فائل فوٹو: واشنگٹن ڈی سی میں عالمی بینک گروپ کا ہیڈکوارٹر — اعداد و شمار عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 سے لیے گئے ہیں
اسلام آباد: عالمی بینک کی نئی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا بیرونی قرضہ دس سال میں تقریباً دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ انٹرنیشنل ڈیٹ رپورٹ 2026 میں بتایا گیا ہے کہ 2015 میں ملک پر 68 ارب 67 کروڑ ڈالر کا بیرونی قرضہ تھا، جو 2025 میں بڑھ کر 135 ارب 10 کروڑ ڈالر ہو گیا — دس سال میں تقریباً 97 فیصد کا اضافہ۔
چین سب سے بڑا قرض دہندہ
رپورٹ کے مطابق چین پاکستان کا سب سے بڑا انفرادی قرض دہندہ ہے، جس کے 22 ارب 40 کروڑ ڈالر واجب الادا ہیں۔ اس کے بعد عالمی بینک کے 19 ارب 20 کروڑ ڈالر اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 16 ارب 83 کروڑ ڈالر آتے ہیں۔ مجموعی قرضے میں سرکاری اور سرکاری ضمانت شدہ قرضہ 107 ارب ڈالر سے زیادہ ہے، جبکہ نجی غیر ضمانتی قرضہ 17 ارب 58 کروڑ اور قلیل مدتی قرضہ 10 ارب 45 کروڑ ڈالر ہے۔ سرکاری قرض دہندگان کے قرضوں کی اوسط مدت 16 سال ہے، چار سال کی مہلت کے ساتھ، اور اوسط شرح سود 3.6 فیصد ہے — جبکہ نجی قرضوں پر اوسط شرح سود 8.6 فیصد ہے اور وہ تین سال میں واپس کرنے ہوتے ہیں۔
2025 میں چین اور آئی ایم ایف کی مدد
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران چین نے پاکستان کے دو ارب ڈالر کے قرضوں کی مدت میں توسیع کی، جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ نے توسیعی فنڈ سہولت اور لچک و پائیداری سہولت کے تحت 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی نئی قسطیں جاری کیں۔ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان کے خطے میں بیرونی قرضے اور قومی آمدنی کا تناسب 26.7 فیصد سے بڑھ کر 29.4 فیصد ہو گیا، جو کسی بھی خطے میں ایک سال کی سب سے بڑی بڑھوتری ہے۔
دنیا بھر میں قرضے ریکارڈ سطح پر
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک کا مجموعی بیرونی قرضہ 2025 میں 5.5 فیصد بڑھ کر 9.4 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا، جو چار سال کی سب سے تیز بڑھوتری ہے۔ قرضوں کی ادائیگیاں بھی مسلسل پانچویں سال بڑھیں اور 1.4 کھرب ڈالر تک جا پہنچیں۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جن ممالک کی ادائیگی کی صلاحیت سب سے کم ہے، وہی سب سے مہنگے قرضے لے رہے ہیں اور ان پر سود کا بوجھ سب سے زیادہ ہے۔



