ریاض ایئرپورٹ پر حوثی حملہ، 12 افراد جاں بحق، 300 سے زائد زخمی، ایئرپورٹ کئی گھنٹے بند رہا، پاکستان کی شدید مذمت

ریاض: یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کیے گئے حملے میں 12 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہو گئے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق حملے کے بعد ایئرپورٹ کو کئی گھنٹوں کے لیے پروازوں کے لیے بند کرنا پڑا اور درجنوں پروازیں متاثر ہوئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق ایئرپورٹ کے اطراف دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد امدادی ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار فوری طور پر موقع پر پہنچ گئے۔ زخمیوں کو ریاض کے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ سعودی فضائی دفاعی نظام نے حملے کے دوران متعدد میزائل فضا ہی میں تباہ کیے، تاہم کچھ اہداف تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
پاکستان کی مذمت
پاکستان نے ریاض ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہری آبادی اور سویلین تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سنگین کوشش قرار دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے اور مملکت کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
خطے کے دیگر ممالک نے بھی حملے کی مذمت کی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پس منظر میں یہ حملہ خطے کے امن کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر یہ سلسلہ نہ رکا تو تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔



