مائیکروسافٹ نے اپنی تیسری نسل کی مصنوعی ذہانت چپ مایا 300 پیش کر دی، دس لاکھ سے زائد چپس کی تنصیب کا منصوبہ، اینویڈیا پر انحصار کم کرنے کی بڑی پیش رفت

ریڈمنڈ: مائیکروسافٹ نے پیر کو اپنی تیسری نسل کی مصنوعی ذہانت چپ مایا 300 پیش کر دی۔ کمپنی اگلے سال اس چپ کی دس لاکھ سے زائد اکائیاں نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ اس کی اپنی اے آئی خدمات اسی ہارڈویئر پر چل سکیں۔ یہ اعلان اس دوڑ کا حصہ ہے جس میں بڑی کلاؤڈ کمپنیاں اینویڈیا کی گرفت ڈھیلی کرنے کے لیے اپنی چپس خود ڈیزائن کر رہی ہیں۔
توانائی کی بچت ہی اصل کہانی ہے
مایا 300 چھوٹی چھوٹی چپس کو جوڑ کر بنائی گئی ہے، جنہیں چپلیٹ کہا جاتا ہے۔ مرکزی حسابی حصے تائیوان کی ٹی ایس ایم سی کی دو نینو میٹر ٹیکنالوجی پر بنے ہیں جبکہ ڈیٹا ادھر ادھر پہنچانے والے حصوں کے لیے نسبتاً سستی تین نینو میٹر ٹیکنالوجی استعمال ہوئی ہے۔ مائیکروسافٹ کا دعویٰ ہے کہ یہ چپ معروف جی پی یو نظاموں کے مقابلے میں فی میگا واٹ چالیس فیصد زیادہ ٹوکن پیدا کرے گی، اور چھیانوے چپس والا مکمل ریک پچھلی نسل مایا 200 کے مقابلے میں سات گنا تک زیادہ آوٹ پٹ دے گا۔ ڈیٹا سینٹرز میں بجلی ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے، اس لیے یہ بچت محض تکنیکی تفصیل نہیں، کاروباری فیصلہ ہے۔
اینویڈیا پھر بھی شراکت دار
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو ستیہ نڈیلا نے اسے اپنی سلیکون پر کمپنی کی اب تک کی سب سے بڑی شرط قرار دیا ہے۔ مایا 200 پہلے ہی عملی استعمال میں ہے اور مائیکروسافٹ کے اپنے ماڈلز کے ساتھ ساتھ ایزور کے ذریعے اوپن اے آئی کے ماڈلز بھی چلا رہی ہے۔ البتہ مایا 300 کی بڑے پیمانے پر تنصیب 2027 سے شروع ہوگی، اور تب تک مائیکروسافٹ اینویڈیا اور اے ایم ڈی کی چپس پر انحصار برقرار رکھے گی۔ یعنی خود انحصاری کا سفر شروع ہو چکا ہے، منزل ابھی دور ہے۔



