سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی ایمرجنسی پر اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے، اپوزیشن نے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، ڈار اور نقوی نے اسے آئینی اور آخری راستہ قرار دے دیا

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا معاملہ منگل کو سینیٹ میں چھایا رہا۔ اپوزیشن نے فیصلے کو آئین سے انحراف قرار دے کر اس کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا، جبکہ حکومتی وزرا اپنی جگہ ڈٹے رہے کہ جو کچھ ہوا، آئین کے اندر رہ کر ہوا اور اس کے سوا کوئی راستہ بچا ہی نہیں تھا۔
علی ظفر کی تنقید: یہ آئین کا امتحان ہے
پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں جو ہو رہا ہے وہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، پاکستان کے آئین کا امتحان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو پوری قوت سے کچلنا ہوگا، مگر یہ لڑائی آئینی جمہوریت کے خلاف جنگ میں نہیں بدلنی چاہیے۔ انہوں نے آرٹیکل 232 اور 234 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کی طاقت کوئی سیاسی ہتھیار نہیں، اور حکومت کو یہ دکھانا ہوگا کہ فیصلہ واقعی ناگزیر تھا اور تمام آئینی تقاضے پورے کیے گئے۔ علی ظفر نے اس اقدام کو سکیورٹی کے حل کے بھیس میں چھپا سیاسی بحران قرار دیا۔ اپوزیشن سینیٹرز نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف قرارداد بھی پیش کی، جس میں منتخب وزیراعلیٰ اور صوبائی کابینہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے 11 اکتوبر کو سیاہ دن قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر نظام ہی ٹوٹ گیا تھا تو ایمرجنسی صرف خیبرپختونخوا میں کیوں، بلوچستان کی صورتحال بھی کم خطرناک نہیں۔
حکومت کا جواب: سمجھوتہ ہو جاتا تو یہ دن نہ آتا
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے پی ٹی آئی سے مفاہمت کا عمل ختم کرنے کا فیصلہ درست کیا تھا۔ ان کے مطابق مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی دونوں نے بات چیت کی پوری کوشش کی، مگر دوسری طرف سے وزیراعلیٰ سے مشورے کے بعد انکار ہی آیا، اور جب مولانا فضل الرحمان ثالثی کے لیے آئے تو پانی سر سے گزر چکا تھا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ مسودے پر چھ ترامیم تک کی گئیں اور 10 اکتوبر کو بیرسٹر گوہر سے رابطہ بھی ہوا تھا؛ اگر اس وقت سمجھوتہ ہو جاتا تو ایمرجنسی نافذ ہی نہ ہوتی۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں اتحادی جماعتوں نے ہر شق جانچ کر فیصلہ کیا، آئین کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔
قومی اسمبلی میں احتجاج، اجلاس بدھ تک ملتوی
ادھر قومی اسمبلی کا اجلاس ایک رکن کے انتقال کے باعث تعزیتی کارروائی کے بعد ملتوی کر دیا گیا۔ بیرسٹر گوہر علی خان بولنے پر اصرار کرتے رہے مگر اسپیکر نے اجازت نہ دی اور کہا کہ سیاسی بحث بدھ کو ہوگی، جس پر اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کیا۔ سینیٹ کا اجلاس بھی بدھ کی سہ پہر چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔



