اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا، اینگرو ٹرمینل سے گیس کی فراہمی دوبارہ شروع، دوسرا ٹرمینل اب بھی بند پڑا ہے

اسلام آباد: کئی دن کی خاموشی کے بعد بالآخر گیس کے نظام میں کچھ جان پڑی ہے۔ قطر سے آنے والا جہاز العریش منگل کو اینگرو کے ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا اور وہاں سے یومیہ 150 ملین مکعب فٹ گیس قومی نظام میں شامل ہونا شروع ہو گئی۔ یہ اکتوبر میں پہنچنے والا پہلا ایل این جی کارگو ہے، اور اس کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب سردیاں سر پر ہیں اور گیس کی طلب بڑھنے ہی والی ہے۔
ٹرمینل جو 26 ستمبر سے ساکت پڑا تھا
اینگرو کا ٹرمینل 26 ستمبر سے بند پڑا تھا، وجہ سادہ تھی، کوئی جہاز ہی نہیں آیا تھا۔ دوسری طرف پاکستان گیس پورٹ کا ٹرمینل 9 اکتوبر سے غیر فعال ہے کیونکہ اس کے پاس گیس کا ذخیرہ ہی ختم ہو چکا ہے۔ صورتحال 9 سے 13 اکتوبر کے درمیان سب سے زیادہ بگڑی، جب دونوں ٹرمینلز پر ری گیسی فکیشن مکمل طور پر رکی رہی اور بجلی کے شعبے کو 13 اکتوبر کو محض 38 ایم ایم سی ایف ڈی کے قریب گیس میسر تھی۔ العریش کی آمد سے اینگرو والا سلسلہ تو چل پڑا ہے، مگر دوسرے ٹرمینل کے لیے حکام کو امید ہے کہ آئندہ آٹھ سے دس دن میں ایک اور کارگو کا بندوبست ہو جائے گا۔
تین کارگوز کی کوشش، مگر امکان دو کا
پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق حکومت ایرانی اور امریکی حکام کی مدد سے قطر سے اکتوبر میں تین کارگو حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے، اسی لیے تازہ ترین اندازہ یہی ہے کہ اس مہینے دو ہی کارگو مل پائیں گے، بالکل ستمبر کی طرح، جب دو جہاز 10 اور 23 ستمبر کو پہنچے تھے۔ اصل امتحان آگے ہے۔ موسم سرما میں طلب بڑھے گی تو یہی دو، تین کارگو ناکافی محسوس ہوں گے، اور پھر سوال یہی ہوگا کہ نظام گھریلو صارفین کو ترجیح دیتا ہے یا بجلی گھروں کو۔



