بدھ, 14 اکتوبر 2026
بدھ, 14 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
اسلام آباد کے تمام شیشہ کیفے آج 14 اکتوبر سے بند، پرانے این او سی بھی ختم، انتظامیہ نے ان ڈور اور آؤٹ ڈور دونوں جگہوں پر شیشہ پیش کرنے پر مکمل پابندی لگا دی• وزیراعظم نے اتحادیوں کو خیبرپختونخوا کی ایمرجنسی پر اعتماد میں لے لیا، کہا مذاکرات ناکام ہوئے تو آئینی قدم کے سوا کوئی راستہ نہ بچا، اتحادی جماعتوں نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرا دی• ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس پٹڑی سے اتر گئی، پانچ مسافر جاں بحق، چالیس سے زائد زخمی، ابتدائی رپورٹ میں کوچ کی خرابی کا امکان ظاہر• تیسرا ٹی ٹوئنٹی: سری لنکا نے آخری میچ آٹھ وکٹوں سے جیت لیا، پاکستان نے سیریز دو ایک سے اپنے نام کر لی• اکتوبر کا پہلا ایل این جی کارگو پاکستان پہنچ گیا، اینگرو ٹرمینل سے گیس کی فراہمی دوبارہ شروع، دوسرا ٹرمینل اب بھی بند پڑا ہے• سینیٹ میں خیبرپختونخوا کی ایمرجنسی پر اپوزیشن اور حکومت آمنے سامنے، اپوزیشن نے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا، ڈار اور نقوی نے اسے آئینی اور آخری راستہ قرار دے دیا• مائیکروسافٹ نے اپنی تیسری نسل کی مصنوعی ذہانت چپ مایا 300 پیش کر دی، دس لاکھ سے زائد چپس کی تنصیب کا منصوبہ، اینویڈیا پر انحصار کم کرنے کی بڑی پیش رفت• خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حامیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں، آنسو گیس اور فائرنگ سے پانچ افراد زخمی، پچاس مظاہرین گرفتار، باڑہ میں نادرا مرکز نذر آتش•
سیاست

وزیراعظم نے اتحادیوں کو خیبرپختونخوا کی ایمرجنسی پر اعتماد میں لے لیا، کہا مذاکرات ناکام ہوئے تو آئینی قدم کے سوا کوئی راستہ نہ بچا، اتحادی جماعتوں نے مکمل حمایت کی یقین دہانی کرا دی

News Cuff

اسلام آباد: خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پر تنقید جاری ہے، مگر وزیراعظم شہباز شریف منگل کو پورا دن اپنے اتحادیوں کو یہی سمجھاتے رہے کہ وفاق کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔ انہوں نے پہلے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کیا، پھر ایم کیو ایم کے وفد سے ملے اور اس کے بعد مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم لیگ ضیا کے رہنماؤں کو بھی صورتحال پر بریفنگ دی۔

ہم نے ہر کوشش کر لی، جواب نہیں ملا

وزیراعظم کا موقف تھا کہ مرکز نے یہ قدم اٹھانے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ صوبائی قیادت کو بار بار مذاکرات اور تعاون کی پیشکش ہوئی، کھلے دل سے بات چیت بھی ہوئی، لیکن دوسری طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہیں یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ ان کے بقول یہ فیصلہ انتہائی مشکل تھا، مگر خیبرپختونخوا کے عوام کے مفاد میں لیا گیا۔

دہشت گردی پر خاموشی کا الزام بھی دہرایا

شہباز شریف نے صوبائی حکومت پر ایک بار پھر وہی الزام دہرایا جو اس پورے بحران کی بنیاد بنا ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے حملے بڑھ رہے ہیں، نشانہ عام شہری اور سکیورٹی اہلکار بن رہے ہیں، مگر صوبائی حکومت نہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کھل کر بولتی ہے اور نہ ان کے خلاف مؤثر کارروائی کرتی ہے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ احتجاجی سیاست نے ملک کی ابھرتی ہوئی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ وفاق کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے صوبے کو این ایف سی کے تحت 800 ارب روپے سے زائد دیے جا چکے ہیں۔

اتحادی ساتھ کھڑے ہو گئے

ایم کیو ایم کے وفد کی قیادت کنوینر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کی، وفد میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال بھی شامل تھے۔ وفد نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا سے متعلق حکومتی فیصلوں کی مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ دوسری اتحادی جماعتوں کے وفد نے بھی حکومت کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے بتایا کہ گورنر کی مدد کے لیے ماہرین پر مشتمل ایک مشاورتی کونسل بھی بنائی گئی ہے، جبکہ قومی اسمبلی میں ایمرجنسی سے متعلق قرارداد بدھ کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے